تحریک انصاف کا دور حکومت، بجلی 15بار مہنگی،صارفین کی جیبوں پر 570 ارب کا اضافی بوجھ 

    تحریک انصاف کا دور حکومت، بجلی 15بار مہنگی،صارفین کی جیبوں پر 570 ارب کا ...

  



کراچی(این این آئی)تحریک انصاف کے دور حکومت میں ایک سال کے دوران ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں مختلف اوقات میں بجلی مجموعی طور پر.34 12روپے فی یونٹ تک مہنگی کی گئی اور صارفین پر 120ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالا گیا، سالانہ ٹیرف کی مد میں بجلی الگ سے 3.85روپے فی یونٹ مہنگی کی گئی، اس مد میں عوام پر450ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالا گیا۔رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی حکومت نے گزشتہ ایک سال میں سالانہ ایڈجسٹمنٹ (سہ ماہی بنیاد پر)بجلی کی قیمت میں 3 بار اضافہ کیا، اس اضافے سے صارفین کو 450 ارب روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑا۔ نیپرا نے(بقیہ نمبر37صفحہ7پر)

 مالی سال 2018-19 کی پہلی دوسہ ماہیوں (جولائی سے دسمبر)میں سالانہ ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں 1.49 روپے فی یونٹ اضافہ کیا تھا اور صارفین سے 190 ارب روپے وصول کئے جبکہ اتھارٹی نے مالی سال 2018-19 کی آخری دوسہ ماہیوں (جنوری سے جون)سالانہ ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت 53 پیسے فی یونٹ بڑھا ئی تھی اور صارفین سے 53 ارب روپے وصول کئے تھے۔پاور ڈویژن کے حکام کے مطابق اگست 2018 سے اکتوبر 2019 کے دوران ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی 12 بار مہنگی کی گئی جبکہ اسی عرصہ کے دوران 3 بار مجموعی طور پر 50 پیسے فی یونٹ سستی ہوئی۔ اگست 2018 میں بجلی 1 روپے 16 پیسے، ستمبر میں 19 پیسے، اکتوبر میں 47 پیسے، دسمبر میں 56 پیسے، جنوری 2019 میں 1 روپے 71 پیسے، فروری میں 80 پیسے، اپریل میں 55 پیسے، مئی میں 9 پیسے، جولائی میں 1 روپے 77 پیسے، اگست میں 1 روپے 66 پیسے، ستمبر میں 1 روپے 82 پیسے، اکتوبر میں 1 روپے 56 پیسے فی یونٹ مہنگی کی گئی جبکہ نومبر 2018میں بجلی 33 پیسے، مارچ 2019 میں 4 پیسے اور جون 2019 میں 13 پیسے فی یونٹ سستی کی گئی۔پاور ڈویژن کے ذرائع کے مطابق بجلی کے تمام صارفین سے اوسط قیمت 13.51 روپے فی یونٹ وصول کی جا رہی ہے جس میں بجلی کی قیمت 11.95 روپے جبکہ انٹر ڈسکوز ٹیرف کی مد میں 1.03روپے، قرضوں کی ادائیگی کیلئے 43پیسے اور نیلم جہلم سرچارج کی مد میں 10پیسے وصول کئے جاتے ہیں۔

بجلی مہنگی

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...