اردو کو بلا تاخیر قومی وسرکاری زبان کی حیثیت سے نافذ کیا جائے‘ تابش الوری

  اردو کو بلا تاخیر قومی وسرکاری زبان کی حیثیت سے نافذ کیا جائے‘ تابش الوری

  



بہاولپور(ڈسٹرکٹ رپورٹر)پنجاب میں اردو کو بلا تاخیر قومی و سرکاری زبان کی حیثیت سے نافذ و رائج کیا جائے پنجاب کے ابتدائی تدریسی نظام میں اردو کو ذریعہ تعلیم بنانا قابل تحسین(بقیہ نمبر35صفحہ12پر)

اقدام ہے نتیجے کے طور پر تعلیم کے فروغ اور امتحانات میں کامیابی کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ہو گا۔معروف پارلیمنٹرین دانشور اور نظریہ پاکستان فورم کے ضلعی سربراہ سید تابش الوری نے حکومت پنجاب کے حالیہ فیصلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان و ادب کے فروغ اور سرپرستی میں سب سے زیادہ بنیادی کردار پنجاب نے ادا کیا ہے قائد اعظم کے فر مان اور پاکستان کے آئین کے مطابق اردو کو قومی زبان کا درجہ دیا گیا ہے لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود ابھی تک عملی طور پر اسے یہ حیثیت نہیں دی جا سکی ہے حکومت پنجاب کو پہل کرکے یہ کارنامہ انجام دینا چاہئے جس کا سارے ملک میں خیر مقدم کیا جا ئیگا سید تابش الوری نے کہا کہ پرائمری سطح پر اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے کا فیصلہ ایک عوامی مطالبہ اور قومی تقاضہ تھا انگریزی بلا شبہ ایک بین ا لا قوامی اہم زبان کی حیثیت رکھتی ہے اختیاری مضمون کے طور پر اس پر بھی فوکس رہنا چا ہئے لیکن یہ حقیقت بھی ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اسی کی وجہ سے ہمارے ہاں فیل ہونے کی شرح زیادہ رہی ہے سید تابش الوری نے کہا وقت آگیا ہے کہ سرکاری اسکولوں کا معیار تعلیم بہتر بنا یا جائے اور اساتذہ کیلئے بہتر نتائج پر جزا اور برے نتائج پر سزا کا نظام قائم کیا جائے آخر کیا وجہ ہے کہ یہی سرکاری استاد نجی سکولوں پڑھاتے ہیں تو ان کے نتائج بہتر ہوتے ہیں جبکہ سرکاری اسکولوں کے نتائج نسبتاً اچھے نہیں ہوتے۔

تابش الوری

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...