ذخائر ختم ہونے تک کاٹن امپورٹ پر عائد ٹیکس‘ ڈیوٹیز برقرار رکھی جائیں‘ جاوید سہیل 

ذخائر ختم ہونے تک کاٹن امپورٹ پر عائد ٹیکس‘ ڈیوٹیز برقرار رکھی جائیں‘ ...

  



ملتان (نیوز رپورٹر) پی سی جی اے چیئرمین میاں محمد جاوید سہیل رحمانی نے سینئر وائس چیئرمین ہریش کمار اور وائس چیئرمین حافظ عبدالطیف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے30 دسمبر 2019 کو ہونے والے اجلاس میں کاٹن امپورٹ پر عائد ریگولیٹری و کسٹم ڈیوٹیز کو مستثنیٰ (بقیہ نمبر22صفحہ12پر)

کرنے اورطورخم بارڈر سے روئی کی امپورٹ کی اجازت دینے کے فیصلے پر اتفاق کی شدید مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ ملکی کاٹن سٹاک کی موجودگی او ر کسانوں کے پاس کپاس کے ذخائر ختم ہونے تک کاٹن امپورٹ پر عائدٹیکس و ڈیوٹیز بر قرار رکھی جائیں۔ڈیوٹی فری کاٹن امپورٹ کی اجازت سے ملکی کاٹن کاشتکاروں اور کاٹن جنرز کا شدید استحصال ہو گااورآئندہ کاٹن سیزن میں کاٹن کراپ میں مزید کمی واقع ہو گی۔انہوں نے کہاکہ اپٹما نے اقتصادی رابطہ کمیٹی میں زمینی حقائق کے منافی اعدادوشمار پیش کر کے اپنی اجارہ داری   بر قرار رکھنے کی گھنا ؤنی سازش کی ہے جوکہ اس امر سے ثابت ہوتا ہے کہ کاٹن کراپ میں کمی کے باوجود پچھلے تین ماہ میں کے سی اے کاٹن سپاٹ ریٹس 9500روپے فی من سے ہو کر8800 روپے فی من تک آگئے ہیں جبکہ ڈیمانڈ اینڈ سپلائی میکنزم کے تحت کاٹن ریٹس بڑھنے چاہئے تھے۔  ٹیکسٹائل ملز نے ملکی کاٹن ریٹس کو اپنی اجارہ داری کے ذریعے نیچے گرایا اور اب ملکی کاٹن کو ترجیح دینے کی بجائے انٹرنیشنل مارکیٹ سے مہنگی خریداری کر کے کاٹن کاشتکاروں کا استحصال کر رہے ہیں۔فیومیگیشن کے نامناسب انتظامات کے باوجود طورخم بارڈر سے روئی کی درآمدپاکستا ن میں مزید کاٹن کی بیماریوں کو جنم دے گی جس سے آئندہ کاٹن کراپ میں مزید کمی کا اندیشہ ہے۔ پی سی جی اے پہلے بھی ڈیوٹی فری کاٹن امپورٹ اور زمینی راستوں سے کاٹن امپورٹ کی مخالفت کرتا رہا ہے اور متعلقہ حکومتی اداروں کو اس حوالے سے اپنی سفارشات جمع کر واچکا ہے اور حکومتی یقین دہانی کے باوجودحکومت کے اس قسم کے فیصلے ملکی کاٹن کراپ میں خطرناک حد تک کمی اور کاٹن کاشتکاروں و کاٹن جننگ انڈسٹری کی تباہی کا باعث بن سکتے ہیں۔سپننگ انڈسٹری کا لوکل کاٹن کراپ کی بجائے امپورٹڈ کاٹن کو ترجیح دینا کراپ سائز میں کمی کی بڑی وجہ ہے اورحکومت کا   ہر سال ڈیوٹی فری کاٹن امپورٹ کا فیصلہ دیگرکاٹن پیداواری ممالک جن سے ہمارا مقابلہ ہے ان کی کاٹن کے فروغ کا سبب اور لوکل کاٹن کاشتکار کی   حوصلہ شکنی کا باعث ہے۔پی سی جی اے نے وزیر اعظم پاکستان وکابینہ کے متعلقہ وفاقی وزراء  سے مطالبہ کیا ہے کہ کاٹن کراپ وجننگ انڈسٹری کی بحالی کے لیے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کاٹن امپورٹ پر عائد سیلز ٹیکس و کسٹم ڈیوٹیز کو بر قرار رکھے اور طورخم 

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...