بھارت میں احتجاجی طوفان

بھارت میں احتجاجی طوفان

  



بھارت میں متنازع شہریت ترمیمی بل کے خلاف مظاہروں کی شدت میں کمی نہیں آ رہی۔ پورا ملک سراپا احتجاج بنا ہوا ہے۔ نوجوان ان میں پیش پیش ہیں۔ متعدد یونیورسٹیوں کے اندر گھس کر پولیس نے تشدد کیا اور احتجاج کرنے والوں کو نشانہ بنایا۔ جامعہ مِلیّہ دہلی کے اندر تو ایک طالب علم کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی۔ ساتھی طلبہ نے اس کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے اپنی ایک ایک آنکھ پر پٹی باندھے رکھی، ان کی یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور دنیا بھر میں بھارتی پولیس اور انتظامیہ کا گندا چہرہ حقارت اور مذمت کی نگاہوں سے دیکھا گیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں مذکورہ قانون کے خلاف احتجاج کرنے کی پاداش میں ایک ہزار افراد کے خلاف مقدمات درج کر لئے گئے ہیں۔ پولیس لاٹھی چارج کے لئے بانس کی بنی سخت لاٹھیاں استعمال کر رہی ہے جن کی ضرب بہت شدید ہوتی ہے اور اکثر نشانہ بننے والوں کو شدید زخمی کر دیتی ہے۔ پیپلزیونین فار سول لبرسیٹی کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ لاٹھی چارج کے لئے استعمال ہونے والی لاٹھیاں ایک مہلک ہتھیار کی شکل اختیار کر گئی ہیں۔ زخمی ہونے والے کئی افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔کانگرس کی رہنما اور مسز اندرا گاندھی کی پوتی پریانکا گاندھی جو اتر پردیش شاخ کی سربراہ بھی ہیں، ترمیمی بل کی مخالفت کرنے کی وجہ سے گرفتار ہونے والے ایک ریٹائرڈ پولیس افسر کے گھر جا رہی تھیں کہ اتر پردیش پولیس کے اہل کاروں نے ان کا گلا پکڑنے کی کوشش کی۔ پریانکا نے ان پر ہاتھا پائی پر اتر آنے کاالزام بھی عائد کیا ہے۔

ایک پولیس افسر نے احتجاجی مظاہرین کو نشانہ بناتے ہوئے چیخ کر کہا کہ تم پاکستان چلے جاؤ۔ اس پر بی جے پی حکومت کے ایک مسلمان وزیر کو بھی صدائے احتجاج بلند کرنا پڑی ہے اور انہوں نے مذکورہ افسر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ جذبات کی شدت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ آسام میں طلبہ نے دھمکی دی ہے اگر وزیراعظم مودی 10جنوری کو وہاں ریاستی کھیلوں کا افتتاح کرنے آئے تو انہیں ایسا نہیں کرنے دیا جائے گا۔ کیرالا کے گورنر کو آل انڈیا ہسٹری کانفرنس میں تقریر کرنے سے روک دیا گیا۔ پروفیسر اور دانشور ان پر برس پڑے کہ انہوں نے ایک بیان میں متنازعہ بل کی حمایت کی تھی۔ گورنر صاحب اگرچہ مسلمان ہیں، تاہم مرکزی حکومت کے نامزد کردہ ہیں، حقِ نمک ادا کرنا ان کو مہنگا پڑ گیا۔ ان کو تقریر ادھوری چھوڑ کر سٹیج سے اترنا پڑا۔ وہ لوگوں کو بات چیت کرنے کی دعوت دیتے رہ گئے،لیکن کسی نے اس پر توجہ نہیں دی۔ صورتِ حال اتنی گھمبیر ہے کہ سات ملکوں نے اپنے شہریوں کو ٹریول ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے انہیں بھارت جانے سے روک دیا ہے۔ ان میں امریکہ، برطانیہ، روس، اسرائیل، سنگاپور، کینیڈا اور تائیوان شامل ہیں۔ ان کے خیال میں بھارت کا سفران کے شہریوں کے لئے محفوظ نہیں رہا۔ سیاحت 90فیصد کم ہو گئی ہے۔ دو لاکھ سیاحوں نے تاج محل جانے سے انکار کر دیا ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق تاج محل کے قریب لگژری ہوٹل اور گیسٹ ہاؤسز خالی پڑے ہیں۔ ان کے منیجر کہتے ہیں کہ اس صورت حال پر تاجر برادری شدید پریشان ہے۔ آسام کی ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ وہاں آنے والے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد گزشتہ سال کے انہی ایام کے مقابلے میں 90فیصد کم ہو گئی ہے۔ دسمبر کے مہینے میں یہاں آنے والوں کی تعداد (عام طور پر) پانچ لاکھ کے قریب رہتی ہے۔ یہاں ایک سینگ والے گینڈے دنیا بھر میں سب سے زیادہ پائے جاتے ہیں اور سیاحوں کے لئے بڑی کشش کا باعث ہوتے ہیں۔ اپوزیشن نے پھر مظاہروں کی کال دے دی ہے، احتجاجی لہریں طوفان بن رہی ہیں، جس کے خاتمے کے آثار نظر نہیں آتے۔

وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے انتہا پسند ساتھیوں کی طرف سے بھارت کو ایک ہندو ریاست میں تبدیل کرنے کے لئے جو اقدامات شروع کئے گئے ہیں، ان میں متنازعہ شہریت ترمیمی بل اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہوا ہے۔ بھارتی دستور اور سماج کے سیکولر کیریکٹر کی حفاظت کرنے والے پھٹ پڑے ہیں اور سڑکوں پر فیصلہ کن لڑائی لڑنا چاہتے ہیں۔ اس سے پہلے مقبوضہ کشمیر کو اس کے آئینی حقوق سے محروم کرنے کی کارروائی کی جا چکی ہےّ بھارت کے اپنے دستور میں مقبوضہ ریاست کوجو خود مختاری دی گئی تھی، ان کو ہوا میں اڑا دیا گیا تھا۔ بھارتی دستور کے مطابق مقبوضہ ریاست کو خصوصی درجہ حاصل تھا اور بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات کی نوعیت کو مقبوضہ ریاست کی اسمبلی کی رضامندی کے بغیر تبدیل نہیں کیا جا سکتا تھا، لیکن مودی سرکار نے اسمبلی اور حکومت کو معطل کرکے اپنے نامزد کردہ گورنر کوپہلے انتظامی اختیارات سونپے اور پھر اس کی رضامندی حاصل کرکے مقبوضہ ریاست کی ریاستی حیثیت ختم کر ڈالی۔اسے براہ راست دہلی کے انتظام میں لے لیا، ریاستی باشندوں کے سوا بھارت کے دوسرے شہریوں پر یہاں حصول جائیداد پر جو پابندی عائد تھی، اسے یک طرفہ طور پر ختم کر ڈالا، تاکہ اسرائیل کی طرح مقبوضہ عرب علاقوں میں بستیاں بسا کر آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کا آغاز کیا جا سکے۔ مودی جی کا منصوبہ ہے کہ آنے والے سالوں میں بھارت کے دوسرے علاقوں سے لوگوں کو لا لا کر مقبوضہ کشمیر میں بسایا جائے گا اور انہیں یہاں کی زمینوں کے مالکانہ حقوق حاصل کرنے کی شہ دی جائے گی۔ مقبوضہ کشمیر ابھی تک دنیا سے کٹا ہوا ہے۔ کوئی ایک بھی کشمیری اس صورت حال کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔قبضہ پکا کرنے والوں کے خواب یوں چکنا چور ہوئے ہیں کہ بھارت سے الحاق کے حامی بھی جیلوں یا گھروں میں نظر بند ہیں اور اب وہ بھی بھارت پر اعتماد کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ گویا عملی طور پر نئی دہلی اور سری نگر کے درمیان کمزور سا رشتہ مزید کمزور ہو گیا ہے…… یہ معاملہ ابھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے لیکن سپریم کورٹ دستور کی پاسداری میں اپنا کردار ادا کرنے پر تیار نظر نہیں آ رہی۔ بابری مسجد کے حوالے سے اس کے فیصلے نے مسلمانوں کے علاوہ سیکولر عناصر کی بڑی تعداد کو بھی صدمہ پہنچایا ہے کہ صدیوں سے بنی ہوئی مسجد کو مسمار کرنے والوں کو ان کی واردات غیر قانونی قرار دینے کے باوجود تحفظ ہی نہیں دیا گیا، ان کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی ہے کہ مسمار شدہ مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کا حکم دے کر، اس کے اخراجات بھی سرکاری خزانے پر ڈال دیئے گئے ہیں۔

کہا جا سکتا ہے کہ سپریم کورٹ کے اس رویے نے بھی مودی سرکار کا حوصلہ بڑھایا اور انہوں نے شہریت کا ترمیمی بل پیش کرکے مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کو مزید عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا کر دیا۔ اب معاملہ سڑکوں پر آ گیا ہے۔ بھارتی معیشت پہلے بھی سست تھی، اب مزید سستی اور اور پستی کا شکار ہو گئی ہے۔ بی جے پی کو عام انتخابات میں اگرچہ فیصلہ کن فتح نصیب ہوئی تھی اور لوک سبھا پر اس کے ارکان کی بھاری تعداد نے قبضہ کر لیا تھا لیکن اسے بھارتی معاشرے میں اکثریت کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ اس نے 37فیصد ووٹ حاصل کئے تھے اس کا مطلب یہ ہے کہ 63فیصد ووٹر اس کے خلاف تھے یا اس کے ساتھ نہیں تھے۔ برطانوی پارلیمانی نظام کی روایت کے مطابق حلقہ جاتی انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والا کامیاب قرار پاتا ہے، اس کے مخالفین کے ووٹ مجموعی طور پر زیادہ ہوں تب بھی اس کی جیت متاثر نہیں ہوتی۔ اس طرز انتخاب میں رائے دہندگان کی اکثریت حاصل کئے بغیر بھی نشستوں کی اکثریت حاصل کر لی جاتی ہے۔بی جے پی کی جو طاقت لوک سبھا یا بعض ریاستی اسمبلیوں میں نظر آ رہی ہے، وہ معاشرے میں موجود نہیں ہے۔ پاکستان میں بھی اس وقت جو حکومت قائم ہے اس کی مخالف (یا مختلف) جماعتوں کے ووٹ اگر یک جا کر لئے جائیں تو ان کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ اسی لئے پارلیمانی نظام کے تحت قائم ہونے والی حکومت کو اپنے حریفوں کے جذبات کا خیال بھی رکھنا پڑتا ہے۔فیصلہ سازی میں ان کی مشاورت بھی اپنا وزن رکھتی ہے، اگر اکثریت کے ڈنڈے کے بل پر حکومت کرنے کی کوشش کی جائے تو پھر ایوان سے باہر کی سیاست پر زور ہو جاتی ہے، جس سے بالآخر منتخب اداروں کی حیثیت کم ہو جاتی ہے۔ مودی سرکار آج اپنا بویا کاٹ رہی ہے، اگر وہ اپنی روش پر نظرثانی نہیں کرے گی تو اس کی اپنی جڑیں تو کٹیں گی ہی، بھارت کے مستقبل پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب ہو کر رہیں گے۔

مزید : رائے /اداریہ