کیا نیب آرڈیننس نیا یوٹرن ہے؟

کیا نیب آرڈیننس نیا یوٹرن ہے؟
کیا نیب آرڈیننس نیا یوٹرن ہے؟

  



کیا نیب آرڈیننس بھی وزیر اعظم عمران خان کا نیا یوٹرن ہے؟…… اپوزیشن تو اسے این آر او کہہ رہی ہے، جو وزیر اعظم نے اپنے دوستوں، وزراء اور رشتہ داروں کو دیا ہے، تاکہ احتساب کی جو تلوار ان پر لٹک رہی تھی، وہ ہٹائی جا سکے۔ نیب کے اختیارات کو آرڈیننس کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش نے بے شمار شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے، اگر یہی کام حکومت پارلیمینٹ کے ذریعے کرتی تو شاید اتنے اعتراضات نہ ہوتے۔ صدارتی آرڈیننس کو استعمال کر کے حکومت نے اس شبہ کو تقویت دی ہے کہ اسے شائد کسی بات کی جلدی تھی؟…… یاد رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے نیب پر یہ دباؤ بڑھ رہا تھا کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکومت کے اُن لوگوں کا بھی احتساب کرے، جن کے خلاف بدعنوانی کی شکایات موجود ہیں۔ چیئرمین نیب نے تو یہ بیان بھی دے دیا تھا کہ اب تبدیلی کی ہوائیں چلنے والی ہیں،پھر یہ اچانک کیا ہوا کہ کچھ عرصہ پہلے تک وزیر اعظم عمران خان جو یہ خواہش کرتے تھے کہ نیب تیز رفتاری سے احتساب کرے،اب انہوں نے احتساب کی تیز رفتاری کو بریک لگانے کے لئے آرڈیننس جاری کر دیا ہے۔ کندھا بزنس مینوں کا استعمال کیا گیا ہے، حالانکہ جو آرڈیننس جاری ہوا ہے، اس میں ایسی شقیں ڈال دی گئی ہیں، جو بہت سوں کے لئے بریت کا پروانہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ خصوصاً اختیارات کے استعمال پر احتساب کو مشروط در مشروط کر کے اس کی کمزوری کا پورا پورا سامان کر دیا گیا ہے۔ حیرانی اس لئے بھی ہو رہی ہے کہ جو کام نوازشریف اور آصف علی زرداری نہ کر سکے، وہ عمران خان نے کر دیا، حالانکہ عمران خان تو احتساب کے سب سے بڑے داعی تھے اور انہوں نے انتخابات میں حصہ ہی احتساب کے نعرے پر لیا تھا۔

نوازشریف اپنے دورِ حکومت میں احتساب بیورو کو جلی کٹی ضرور سناتے رہے، اس کے ناخن کاٹنے کی باتیں بھی کیں اور نیب کو حکومت چلانے کی راہ میں رکاوٹ بھی قرار دیا، مگر کوئی آرڈیننس جاری کر کے اس کے اختیارات کو کم کرنے کی جرأت نہ کر سکے،غالباً انہیں تنقید کا ڈر تھا اور یہ بھی ڈر تھا کہ ایسا کوئی بھی قدم اعلیٰ عدلیہ میں چیلنج ہو جائے گا اور بالآخر ان کی سبکی ہو گی۔ خود عمران خان ایسے مواقع پر دھواں دار بیانات دیتے اور کہتے کہ ہم نیب کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس کے اختیارات کو کم کرنے کی سازش کی گئی تو تحریک چلائیں گے…… زمانہ بدل گیا ہے، اب وہی عمران خان وزیر اعظم بن کر نیب سے لوگوں کو بچانے کے جتن کر رہے ہیں، حتیٰ کہ بھرے مجمع میں یہ بھی کہہ جاتے ہیں کہ مَیں اپنے دوستوں کو خوشخبری سنانا چاہتا ہوں۔ گویا یہ آرڈیننس ایک خوشخبری ہے جس نے احتساب کے خوف میں مبتلا لوگوں کو ریلیف دیا ہے۔ کیا ریلیف دینے کا صرف یہی راستہ رہ گیا تھا، کیا اپنے اس بنیادی نظریئے کو قربان کر کے، جس نے عمران خان کو وزیر اعظم بنایا…… کوئی اچھا فیصلہ کیا گیا ہے؟ کیا احتساب کی سب سے بڑی علمبردار جماعت کے ماتھے پر یہ داغ لگانا ضروری تھا کہ اس نے احتساب پر یوٹرن لیا۔ جو کام دنیا میں کہیں نہیں ہوتا،وہ پاکستان میں کیسے ممکن ہو گیا؟ احتساب کو خانوں میں تقسیم کرنے کی کوشش سے اپنے امیج کو نقصان پہنچانے والی حکومت اب کس منہ سے کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا دعویٰ کرے گی……؟

حکومت کے آرڈیننس کو عدالت میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ اگر بالفرض عدالت اس آرڈیننس کو امتیازی قرار دے کر منسوخ کر دیتی ہے تو یہ حکومت کے لئے کتنا بڑا نقصان ہوگا۔ کیا فیصلہ کرنے والوں نے اس پہلو پر بھی غور کیا تھا؟ اگر فیصلہ خلاف نہیں بھی آتا، تب بھی اس آرڈیننس کو تین ماہ میں پارلیمینٹ سے منظور کرانا ہوگا۔ ان تین ماہ میں اگر ایسے مضبوط شواہد سامنے آ جاتے ہیں کہ حکومتی شخصیات کو اس آرڈیننس کی وجہ سے بھرپور ریلیف ملا ہے، تو پارلیمینٹ کے اندر حکومت کے لئے جگ ہنسائی کا کتنا بڑا سامان پیدا ہو جائے گا…… اگر اس بات کو مان بھی لیا جائے کہ حکومت نے ملک میں کاروبار کو جاری رکھنے اور امورِ حکومت چلانے کے لئے اس آرڈیننس کا اجراء کیا ہے، تب بھی اس کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے…… اس کا مطلب ہے وہ دو طاقتور طبقوں کے ہاتھوں بلیک میل ہوئی ہے۔ یہ طبقے تو پہلے بھی موجود تھے۔ پچھلی حکومتوں کے ادوار میں وہ ایسا آرڈیننس کیوں جاری نہیں کروا سکے، حتیٰ کہ ایک بار تو نوازشریف نے وزیر اعظم کی حیثیت سے کھل کر کہہ دیا تھا کہ نیب کی وجہ سے سرکاری مشینری نے ہاتھ کھڑے کر دیئے ہیں، پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ کاروباری طبقے کی سب سے بڑی خیر خواہ مسلم لیگ (ن) ہے۔ اس کا اصل ووٹ بینک ہی تاجر طبقہ ہے، مگر اس نے کبھی کاروباری طبقے کے لئے نیب کو بے اثر کرنے کا نہیں سوچا۔ یوں بھی تاجروں کا مسئلہ تو ہمیشہ ایف بی آر سے رہا ہے۔ ان کی ہڑتالیں، جدوجہد، جلسے جلوس کبھی بھی نیب کے خلاف نہیں رہے، پھر ان کا نام کیوں استعمال کیا گیا ہے اور پھر اس آرڈیننس سے واقعتاً بزنس کمیونٹی کو کتنا ریلیف ملا ہے؟ کیا اس کے بارے میں بھی کوئی وزیر یا مشیر عوام کو کوئی آگاہی دینے کی زحمت کرے گا؟

تان اس نکتے پر توڑی جا رہی ہے کہ احتساب کو ختم نہیں کیا گیا،بلکہ نیب کا بوجھ ہلکا کیا گیا ہے۔ نیب آرڈیننس کی وجہ سے جو خلاء پیدا ہوا ہے، اُسے ایف آئی اے پورا کرے گی،کیونکہ اس میں اب واجد ضیاء جیسا دبنگ اور ایماندار افسر ڈی جی تعینات ہوا ہے۔ کیا اب احتساب شخصیات کے سہارے ہوگا، کیا ایف آئی اے کے اتنے اختیارات ہیں کہ وہ مافیاز کا مقابلہ کر سکے؟ کیا قوانین میں اتنی لچک نہیں کہ آج ایف آئی اے کے ہاتھوں گرفتار ہونے والا کل عدالت کے ذریعے باہر آ جاتا ہے؟ کیا ایف آئی اے پر سیاسی دباؤ نہیں ہوتا، کیا واجد ضیاء اکیلا ایف آئی اے کو ایک بہترین ادارہ بنا سکتا ہے؟ پھر یہ بات بھی مضحکہ خیز ہے کہ ایک طرف آپ کہیں کہ ایف آئی اے کو بدعنوانی کے خلاف مؤثر ادارہ بنانا چاہتے ہیں اور دوسری طرف نیب کو بے اختیار کر دیں؟ نیب قوانین میں اگر کچھ خرابیاں ہیں، تو ان میں بہتری لائی جانی چاہئے، ناکہ انہیں ختم ہی کر دیا جائے۔ اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے۔ اس میں کسی کو کوئی شک نہیں۔

خود وزیر اعظم عمران خان کا بیانیہ ہی یہی رہا ہے۔ صرف سیاستدانوں کی کرپشن تو اتنی زیادہ نہیں کہ اس کی وجہ سے یہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بن جائے، یہ کرپشن تو من حیث المعاشرہ ہے۔ جس کا جہاں داؤ چل رہا ہے، چلا رہا ہے۔ اس میں اگر چھوٹ دینے کا طریقہ رائج کر دیا جائے تو پھر احتساب ایک خواب و خیال ہی رہ جائے گا۔ اب آنے والے دنوں میں کیسی کیسی موشگافیوں کا سہارا لے کر احتساب سے بچنے کی کوشش کی جائے گی، اس کے بارے میں اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ احتساب کے راستے میں حکومت نے آرڈیننس نافذ کر کے ایک شگاف ڈال دیا ہے تو اب اس نے بند نہیں بڑا ہی ہونا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ یہ کام اس وزیر اعظم کے دور میں ہوا ہے، جس کی گفتگو کا اوڑھنا بچھونا ہی لوٹی دولت کو واپس لانا تھا۔ جس کی زبان پر ہمیشہ یہ جملہ رہتا تھا کہ کسی کو این آر او نہیں دوں گا، کسی لٹیرے کو نہیں چھوڑوں گا…… آج اس پر یہ الزام لگ رہا ہے کہ اس نے اپنے دوستوں کو بچانے کے لئے این آر او بھی دے دیا اور نیب کو ایک مردہ گھوڑا بھی بنا دیا ہے……”کیا بلندی ہے کیسی پستی ہے“؟

مزید : رائے /کالم