کیا ہم خود کو بدلیں گے……؟

کیا ہم خود کو بدلیں گے……؟
کیا ہم خود کو بدلیں گے……؟

  



نئے سال کی آمد آمد ہے…… یہ نیا سال ایسے ہی ہر سال آتا اور گزر جاتا ہے،مگر جاتے جاتے کئی نئے روگ اور نئی مشکلات دے جاتا ہے…… (میرے وطن میں یہ پریشانیاں، مگر باقی دنیا میں نت نئی مصنوعات اور نئی ایجادات دیتا ہے)…… پھر کیوں نہ ہم اس کی آمد کو روک دیں؟ جب ہمارے لیے کوئی خوشی، کوئی نئی ایجاد، کوئی بہتری اور کوئی خوشخبری نہیں تو ہم کیوں اپنی بغل میں 365 دن لئے اس نئے آنے والے برس کا استقبال کریں؟ کیا اس نئے سال کے سورج کی پہلی کرن ہمارے چیف آف آرمی سٹاف، ہمارے چیف جسٹس صاحبان، ہمارے حکمرانوں، ہمارے جاگیرداروں، ہمارے سرمایہ داروں، ہمارے صنعت کاروں، ہماری بیورو کریسی، ہمارے ملازمین، ہمارے دکانداروں، ہمارے مزدوروں، ہمارے طلبہ اور ہمارے سیاستدانوں کی سوچ میں کوئی مثبت تبدیلی لا سکے گی؟ جس سے یہ اپنی اپنی اناؤں سے نکل کر اس ملک کا سوچیں؟……مَیں یہ سطور لکھ رہا تھا کہ نیا سال تخیل میں میرے روبرو آن کھڑا ہوا اور مجھے گھورتے ہوئے کہنے لگا…… تم میرا استقبال روکنے کی ناکام سعی کر رہے ہو؟ مَیں نے کہا ہاں، تم ہر بار ہمارا وقت ضائع کر کے چلے جاتے ہو اور جاتے جاتے ہر دسمبر میں کوئی نیا گل کھلا جاتے ہو۔ اس بار بھی اس یخ ٹھنڈے دسمبر میں نفرت کی آگ ایسی بھڑکی کہ ڈاکٹر اور وکلاء بھی اس بھٹی کو جلانے میں مددگار بن گئے۔ ابھی ہم اس پریشانی سے نکلنے کی کوشش میں تھے کہ پاکستان کی عدلیہ اور پاکستان کا سپریم ادارہ" پاک فوج" آمنے سامنے آگئے…… پھر ہم تو یہی چاہیں گے ناں کہ ہماری تاریخ میں ایک اور سال نہ ہی آئے تو بہتر ہے۔

نیا سال جو مجھے گھور رہا تھا، قہقہہ لگا کر بولا، جب تم نے آج تک میری قدر نہیں کی تو مَیں تم لوگوں پر کیوں کر مہربان ہوں گا؟ مَیں نے پوچھا، کیا مطلب تیری قدر؟ تم ہمارے بل ادا کرتے ہو کیا؟ نیا سال غصے سے بولا، تم کو شرم آنی چاہیے،تم مجھ پر دسمبر کے گلے کرتے ہو اور یہ بھی یاد نہیں کہ آج 25 دسمبر ہے؟ مَیں نے آج سے 143 سال پہلے ایک بہترین انسان اور راہنما تم کو دیا تھا، جس کا نام محمد علی جناح ہے، پھر مَیں نے 72 برس پہلے اسی قائد کی قیادت میں تمہیں دنیا کی خوبصورت ترین مملکت عطا کی، کیا تم لوگوں نے ان دونوں کی قدر کی ہے؟ مَیں نے کہا ہاں ہم اپنے وطن سے پیار کرتے ہیں اور قائد اعظم محمد علی جناح کو سلام کرتے ہیں، ان کا مزار بنایا ہے، اس پر ہر سال چادریں بھی چڑھاتے ہیں۔ نئے سال نے ایک اور زوردار قہقہہ لگایاا اور پھر مجھے غصے سے گھورتے ہوئے گویا ہوا، ارے نادانو، تم لوگ مردوں کی قدر کرتے ہو، زندوں کی نہیں، جبکہ زندہ قوموں کا اسلوب یہ ہوتا ہے کہ وہ زندوں کی قدر کرتے ہیں، صرف مزاروں پر چادریں نہیں چڑھاتے۔ زندوں کو سردی گرمی کا لباس مہیا کرتے ہیں۔ وہ مردوں کے مزار بنانے اور درباروں پر دیگیں چڑھانے کی بجائے اپنے زندوں کو روٹی کپڑا مکان دیتے ہیں، ان کو انصاف مہیا کرتے ہیں، ان کے حقوق کے لئے کھڑے ہوتے ہیں، جبکہ تم لوگ صرف ان کے جنازوں میں کھڑے ہوتے ہو، تم سے محبت اور توجہ لینے کے لئے لوگوں کو اپنے مرنے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ مَیں ہر بار 365 دن لئے تمہارے ملک میں آتا ہوں، مگر تم تو ایک دن کی بھی قدر نہیں کرتے، پھر مَیں 11 ماہ تو اس امید پر گزار دیتا ہوں کہ شاید تمہیں عقل آجائے۔ جب تم مجھے مایوس کرتے ہو تو پھر میرا دسمبر آتا ہے…… اور کبھی کبھی میرا صبر اکتوبر میں ہی جواب دے جاتا ہے۔

نئے سال کی یہ باتیں سن کر مَیں سوچنے لگا اور میرے کانوں سے دھواں نکلتا محسوس ہونے لگا۔ مَیں نے پوچھا کہ تم ہمارے دشمنوں پر کیوں مہربان ہو؟ یعنی یورپ، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور جاپان وغیرہ، حتیٰ کے بھارت؟؟ نیا سال حیرانی سے میری طرف دیکھتے ہوئے بولا، تم تو واقعی جاہل ہو، تم نے میرے ساتھ ربع صدی یورپ میں گزاری ہے اور دوسرے کئی ممالک کا سفر بھی کیا ہے،تمہیں پھر بھی عقل نہیں آئی، تمہیں یہ نظر نہیں آیا کہ وہ لوگ میرے صرف ایک دن کی نہیں، بلکہ ایک ایک لمحے کی کس طرح قدر کرتے ہیں؟ تو پھر مَیں ان پر کیوں مہربان نہ ہوں؟ وہ میرے آنے کی خوشی مناتے ہیں اور میرے آنے سے پہلے ہی منصوبہ بندی کر چکے ہوتے ہیں کہ ہم نے اس مہمان کی کس طرح قدر کرنی ہے؟ پھر مَیں بھی ان کے لیے ہزاروں تحفے لے کر آتا ہوں۔

تم بھی جب ان کی طرح میرے آنے سے پہلے ہی منصوبہ بندی کر لوگے، اور میری قدر کرو گے، مجھے ضائع کرنے سے باز رہو گے تو پھر مَیں تمہارے لئے بھی نت نئی مصنوعات اور نئی نئی ایجادات کے تحفے لاؤں گا اور تمہارے حالات بھی بدل دوں گا، لیکن پہلے تم خود کو تو بدلو ناں!مَیں شرمندگی سے پانی پانی ہونے لگا اور اپنے آنے والے مہمان سے ہاتھ جوڑ کر پچھلی غلطیوں کی معافی مانگی اور وعدہ کیا کہ ہاں مَیں خود کو بدلوں گا، مَیں اپنے لوگوں کی سوچ بھی بدلوں گا، مَیں لوگوں کو تیرے 143 برس پہلے کئے گئے احسان اور 72 برس پہلے کئے گئے احسان عظیم کی یاد بھی دلاؤں گا اور ہم تمہارے ان احسانات کی تہہ دل سے قدر کریں گے اور اس وطن کے لئے ہر قربانی دیں گے۔ ہم ایک ایک لمحے کی قدر کریں گے، ہم ہر جگہ وقت پر پہنچیں گے اور اپنا ہر کام وقت پر کریں گے، ہم اپنی اناؤں سے بالاتر ہو کر وطن کی خدمت کریں گے، ہم جھوٹ اور منافقت سے توبہ کر لیں گے، ہم خود کو بدلیں گے اور اپنے نمائندے بھی بدلیں گے، ان شاء اللہ۔

اے قائد تمہیں سلام، اے وطن تیری گلیوں پر نثار

اے نئے سال خوش آمدید مرحبا

اے میرے ہم وطنو نیا سال مبارک

(قائد اعظم کے یوم پیدائش پر لکھا گیا۔)

مزید : رائے /کالم