دل نگری کی تسخیر

دل نگری کی تسخیر
دل نگری کی تسخیر

  



پی آئی سی سانحہ سے ایک روز قبل میرے بہنوئی فیاض کو آدھی رات کے بعد دل کا دورہ پڑا۔ شدید بیماری کی حالت میں انہیں کارڈیالوجی ہسپتال لے کر آئے۔انہیں وہاں دوسرا روز تھا۔ صبح کو انہیں ایمر جنسی سے سی سی یو میں منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا، مگر فیصلہ بدل کر انہیں جیلانی بلاک منتقل کر دیا گیا۔ بارہ بجے میری کلاس ختم ہوئی تو تیمار داری کے لئے ان سے ملنے جیل روڈ پہنچ گیا۔پی آئی سی کے باہر انتہائی رش تھا۔گاڑی پارک کہاں کی جائے؟ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ مینٹل ہسپتال والی سڑک پر گاڑی موڑ لی۔ پی آئی سی کے ہر گیٹ پر پولیس کی بھاری نفری مورچہ زن تھی۔ لگتا تھا کسی حملے کو روکنے کی کوشش میں ہے۔ہر طرف رش ہی رش تھا۔ گاڑی کا چلنا انتہائی مشکل تھا۔ پولیس ٹریفک کو رواں رکھنے کی پوری کوشش کر رہی تھی، مگر رش کی وجہ سے ناکام تھی۔

آدھ گھنٹے کی کوشش کے بعد مَیں پی آئی سی آؤٹ ڈور کی پچھلی جانب شامان کی ایک گلی میں گاڑی کھڑی کرنے کے بعد ہسپتال کی طرف چلا۔ اس دوران مَیں نے اپنی بہن سے بات کی کہ گیٹ بند ہیں، اندر کیسے آیا جا سکتا ہے؟ اس نے بتایا کہ مین گیٹ پرموجود پولیس والوں کو بتا کر کہ میرا مریض اندر ہے،اکا دکا لوگ آ رہے ہیں۔ آپ بھی اسی طرف سے آ جائیں۔ مین گیٹ پر بھی پولیس کی معقول تعداد موجود تھی، بلکہ پوری طرح مورچہ زن، گیٹ بند تھا۔مَیں مین گیٹ سے چند قدم دور تھا جب وکلاء کا ایک جتھہ بھاگتا ہوا آیا۔ وکلاء کو آتے دیکھ کر وہاں موجود پولیس کا جتھہ وکلاء سے بھی زیادہ تیز رفتاری سے گیٹ چھوڑ کر بھاگا۔اسی ہلے میں مجھے بھی بھاگنے ہی میں عافیت نظر آئی۔ دماغی امراض کے ہسپتال والی سڑک پر پہنچ کر مَیں نے مڑ کر دیکھا۔ پی آئی سی کے احاطے میں وکلا ء ہر طرف پھیل چکے تھے اور ہرسو پوری طرح توڑ پھوڑ جاری تھی۔ پولیس سمٹ کر ایک طرف ہو چکی تھی۔کھڑکیوں اور گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ ٹوٹ کر گر رہے تھے۔ افراتفری کا عالم تھا۔ پی آئی سی کے احاطے میں جو شخص بھی وکیلوں کے سامنے آ رہا تھا،چند تھپڑوں کی سوغات وصول کئے بغیر ان سے جان نہیں چھڑا پا رہا تھا۔

محمود غزنوی کے وارثوں کا دل کی نگری کا یہ اندازِ تسخیر دیکھ کر مجھے سومنات کی تباہی کا منظر یاد آ رہا تھا۔ غصہ انسان کو عقل سے عاری کر دیتا ہے اور اسے اپنا گھر بھی دشمن کا سومنات ہی محسوس ہوتا ہے۔ بات ہی ساری احساس کی ہے۔تسخیر کرنے والوں کو یہاں سونا اور چاندی تو نہ مل سکے، وقتی طور پر سکون، عمر بھر کی ذلت اور روسیاہی ملتی ضرور نظر آئی۔ مَیں کوشش کرکے آؤٹ ڈور کی پچھلی جانب شادمان کی ایک گلی میں کھڑی اپنی گاڑی کی طرف پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا۔وہ جو زبردستی گاڑیاں آگے لانے کی جدوجہد میں مصروف تھے، اب الٹی گاڑی ہی بھگانے کی سعی میں مصروف تھے۔ اس لئے تھوڑا سا فاصلہ بھی بہت کٹھن لگا۔میری بہن کا ایک بار پھر فون آیا کہ بھائی خیریت سے ہیں، پی آئی سی کے اندر تو نہیں ہیں۔ مَیں نے بتایا کہ واپس مڑ گیا ہوں۔ اس نے کہا کہ فوراً یہاں سے چلیں جائیں، پتہ نہیں ہمارا کیا ہو گا؟ یہاں وکیلوں نے حملہ کر دیا ہے، سب کچھ توڑ دیا ہے، فیاض کو جو گیس ماسک لگا تھا، اس کا پائپ توڑ دیا گیا ہے،اسے سانس میں مشکل ہو رہی ہے۔ پھر اس کا فون بند ہو گیا۔مَیں نے گاڑی سٹارٹ کی اور یوں جان، عزت اور گاڑی تینوں بچا کر وہاں سے نکل آیا۔اب فکر تھی تو بہن اور بہنوئی کی،جو اندر موجود تھے اور اس معرکہء انا پرستی میں زبردستی کے شریک تھے۔دو گھنٹے بعد اس سے رابطہ ہوا، وہ گھر کی طرف جا رہے تھے۔

میری بہن بتا رہی تھی کہ اس کے میاں فیاض کو کوئی دو گھنٹے پہلے جیلانی وارڈ میں منتقل کیا گیا تھا،ہنگامے سے پہلے کچھ شور تھا کہ پولیس نے سب گیٹ بند کر دیئے ہیں، صرف مین گیٹ سے اپنے مریض کی موجودگی کا بتا کر آ سکتے ہیں۔ اسی دوران آپ کا فون آگیا تو یہی بات مَیں نے من وعن آپ کو بتا دی۔فون بند کرنے کے بعد مَیں نے دیکھا کہ ہسپتال کا سارا عملہ بہت تیزی سے غائب ہو گیا ہے۔ میرے جیسے بہت سے لوگ جو مریضوں کے ساتھ تھے اور وارڈ سے باہر ویٹنگ روم میں بیٹھے تھے، بھاگ کر مریضوں کے پاس پہنچ گئے۔کچھ سراسیمگی کا عالم تھا،ایک سیکیورٹی گارڈ چیختا ہوا آیا اور اس نے ڈاکٹروں کے کمرے میں گھس کر اسے لاک کر لیا۔اس کے پیچھے بھاگتے کئی وکیل آئے اور اسے ڈھونڈنے لگے۔

ان وکیلوں کے ہاتھوں میں ڈنڈے اور کچھ کے پاس لوہے کے راڈ تھے،جن کی مدد سے انہوں نے وہاں پڑی ہر چیز کو تہس نہس کیا، سب مشینیں توڑ دیں، سب پائپ توڑ دئیے، کئی دروازے توڑے، ڈاکٹروں کے کمرے کا دروازہ توڑا تو سیکیورٹی گارڈ برآمد ہو گیا۔ اسے مار مار کر برا حال کر دیا۔ ایک میاں بیوی اپنی چھوٹی سی بچی کے ساتھ موجود تھے۔ میاں بیمار تھا اور سموگ سے بچنے کے لئے ماسک پہنے ہوئے تھا۔ اسے ہسپتال کا عملہ سمجھ کر مارنا شروع کیا تو اس کی بیوی نے شور مچا دیا۔اس پر میری بہن کہتی ہے کہ مَیں نے کہا بیٹا، اس قدر ظلم نہ کرو کہ مریضوں کو مارنا شروع کر دو۔ جواب ملا، ماں جی، آپ چپ بیٹھیں، آپ کو کچھ نہیں کہتے۔اسی دوران کھڑکیوں پر پتھر اور اینٹوں کی بھرمار سے شیشے توٹنے لگے۔ شیشے کے کچھ ٹکڑے فیاض کے بیڈ پر بھی گرے۔ مَیں جلدی سے بیڈ کھینچ کر باہر لے گئی۔

پتہ چلا کہ پولیس اور وکیلوں کا تصادم ہو گیا ہے۔ہوا کے ساتھ آنسو گیس تو آ ہی رہی تھی، مگر کچھ آنسو گیس کے گولے لوگوں نے اٹھا کر وارڈوں میں پھینک دئیے۔ اب وہاں کھڑا ہونا محال تھا۔ایک آدمی بھاگا ہوا آیا کہ کسی کے پاس نمک ہے تو سب مریضوں کی زبان کے نیچے چٹکی بھر رکھ دو اور منہ پر گیلے رومال رکھ دو۔ ویسا ہی کیا گیا، مگر صورت حال بہت خراب تھی۔مرے ہوئے لوگوں کو مارنے کی مزید سعی تھی۔ ہر طرف شور تھا کہ چھ بندے مر گئے، کوئی یہ تعداد دس بتا رہا تھا، کوئی بارہ۔ چند جان سے ہاتھ دھونے والے سامنے نظر آ رہے تھے۔ پولیس سے تصادم کے نتیجے میں وکیل حضرات ریس کورس پارک کے اندر اور باہر مورچہ زن ہو گئے۔ ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ اب یہاں کچھ ماہ تک علاج کی کوئی صورت نہیں، دروازے پر پولیس کے پیچھے سے نکل کر سروسز ہسپتال کو نکل جائیں۔ اسی وقت تمام تیمار دار اپنے اپنے عزیزوں کے زندہ یا مردہ لاشے اٹھائے، وہاں سے نکلنا شروع ہو گئے۔ مَیں نے اپنے میاں سے کہا کہ مجبوری ہے، اس لئے کچھ ہمت کرو، اس عذاب سے کسی طرح نجات پائیں۔ اسے سہارا دیتے ہوئے کسی طرح سروسز ہسپتال کی طرف پہنچے اور وہاں سے گاڑی لے کر لمبا چکر کاٹنے کے بعد پہلے گھر اور پھر ایک پرائیویٹ ہسپتال،مگر وہ تلخ لمحے اب بھی ایک ڈراؤنے خواب کی طرح ذہن پر سوار ہیں۔

سوچتا ہوں وکیلوں نے تو دل کی نگری کو تسخیر کر کے، تباہ کرکے خود کو مطمئن کر لیا، معاشرے میں اپنی حیثیت کا لوہا منوا لیا، ڈاکٹروں کا بھی کچھ نہیں بگڑا، ان میں جو لوگ ماضی میں بد تمیزی اور بد تہذیبی کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں، وہ آئندہ بھی اپنا کا م اسی طرح جاری رکھیں گے، نقصان عام آدمی کا ہوا، قومی نقصان ہوا، سینکڑوں دل کے مریض روزانہ مفت دوائیاں لینے آتے تھے، کتنوں کا علاج ہوتا تھا،۔ سب کچھ چند لوگوں کی بے حسی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ کتنی بد نصیب ہے یہ قوم کہ اس کے لوگوں میں احساس مٹ رہا ہے۔ اخلاقی طور پر پستی ہمارے رگ و پے میں سرایت کر گئی ہے۔ ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ ہماری کوئی حرکت کتنی گھٹیا ہے۔ ہم نے اخلاق کے معیار ہی بدل دئیے ہیں۔وہ باتیں جن پر ہمیں شرمسار ہونا چائیے، ہم ان پر فخر کرتے ہیں، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہم غلط کام کرکے کام ہی سے منکر ہو جاتے ہیں۔آج اس اتنے بڑے سانحہ کو دو ہفتے گزر گئے، کسی مجرم کا تعین نہیں ہو سکا جو موقع پر گرفتار ہوئے، سب ضمانت پر رہا ہو گئے۔

اب پتہ چلا ہے کہ وہ تو جذباتی نوجوانوں کو سمجھانے گئے تھے۔ پولیس نے زیادتی کی کہ پکڑ لیا۔ مجھے یقین ہے کہ کسی کو سزا نہیں ملے گی۔ کمزوری ہمارے ناکارہ نظام انصاف کی ہے جس کی پوری اوور ہالنگ کی ضرورت ہے۔جانے والے چیف جسٹس محترم آصف سعید کھوسہ کہتے ہیں کہ وہ قانون کے علاوہ کچھ نہیں جانتے۱ ان کے نزدیک کوئی بڑا آدمی نہیں،ہم ہر فیصلہ قانون کے مطابق کرتے ہیں۔ جناب عالی! آپ کا کہنا سو فیصد سچ، کہ اختلاف کرکے توہین عدالت سے گردن زدنی مجھے قبول نہیں، مگر صرف اتنا بتا دیں کہ یہ تفاوت کیوں ہے کہ ایک شخص کا کیس آتا ہے، اس کے لئے روایت سے ہٹ کرجمعہ کے روز بھی بنچ کام کرتا ہے اور ہفتے کو جب کوئی عدالت کام نہیں کرتی، عدالت کام بھی کرتی ہے اور فوری فیصلہ بھی دیتی ہے۔ بہت سے بڑے آدمیوں نے قانون کی ایسی ہمدردیوں کا فائدہ اٹھایا ہے،جبکہ میرے جیسا کوئی عام آدمی عمر کے آخری حصے میں دھائی دیتا ہے کہ کوئی اس کا کیس بھی سن لے، مگر عدالت کیس سننے کی بجائے اس کے مرنے کا انتظار کرتی ہے کہ پھر ”نہ رہے گا بانس نہ بجے بانسری“۔

مزید : رائے /کالم