تین امن دشمن

تین امن دشمن
تین امن دشمن

  



دُنیا اِس وقت تین اہم ترین افراد کے ہاتھوں انسانیت کی تباہی کے خطرے سے دوچار ہے…… امریکہ کا کارٹون نما عفریت ٹرمپ، جو اپنے ملک کو ایک مرتبہ پھر انیسویں صدی کے بدترین نسل پرستانہ رجحانات کی طرف موڑ رہا ہے۔ بعض سنجیدہ فکر اور مہذب دانشوروں کا کہنا ہے کہ امریکہ ایک نئی سول وار کے قریب جاتا نظر آ رہا ہے۔یہ شخص نہ صرف نسل پرستی کے گھناؤنے نظریے پر کھلم کھلا عمل پیرا، بلکہ عورتوں، اقلیتوں اور دُنیا کے دیگر ممالک کے حوالے سے شدید ذہنی خلفشار کا شکار ہے۔یہ اپنی محفلوں میں اپنے آپ کو ابراہام لنکن اور جارج واشنگٹن سے بڑا رہنما قرار دیتا ہے، اور اپنے قریبی حلقوں سے کہتا ہے کہ مَیں امریکہ پر خدا کی طرف سے اتارا گیا ہوں۔ کچھ لوگ خوفزدہ ہیں کہ یہ کسی ولایت کا دعویٰ نہ کر دے۔جو شخص بھی اس کے خلاف بولتا ہے، یہ اُس کی شخصیت کا مذاق اڑاتا ہے۔سپیکر نینسی پلوسی کے بارے میں کہتا ہے کہ آہستہ بولا کرو، کہیں تمہاری مصنوعی بتیسی منہ سے باہر نہ نکل آئے۔ مسلمانوں سے شدید نفرت اس کے خمیر میں شامل ہے۔

اس نے تمام عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شام کے علاقے گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل کا حصہ اور بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کیا۔ ریپبلکن نسل پرست اس سے خوش ہیں۔ بش جونیئر کے بعد انہیں اسلام دشمنی کے حوالے ایک انتہائی متعصب اور پاگل آدمی مل گیا ہے۔ریپبلکن اپنے ایجنڈے کو اس کے حوالے سے کامیاب کرانا چاہتے ہیں،لیکن ہٹلر کے جرمنی کی بالادستی کے خواب کی طرح یہ امریکہ کو برباد کر دے گا۔ روس کی کمیونسٹ پارٹی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ سوویت یونین کی تحلیل میں امریکہ نے جو کردار ادا کیا تھا، اس کا بدلہ ٹرمپ لے گا۔کیا طرفہ تماشا ہے کہ دُنیائے اسلام کے دو رہنما سعودی عرب کے شہزادہ محمد اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اسی ٹرمپ کے قریبی دوست شمار کئے جاتے ہیں اور ان کی پالیسیاں اس کی مرضی کے مطابق تشکیل پاتی ہیں۔.

اس وقت دُنیا کا دوسرا خطرناک متعصب حکمران نریندر مودی ہے، جس کے برسر اقتدار آنے کے بعد بھارت کو ہندو ریاست بنانے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ بابری مسجد کے انہدام کے بعد گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا،اب کشمیر میں 90لاکھ کشمیریوں کو ریاستی جبر سے محبوس کرنے کے بعد اس نے مسلمانوں کے خلاف نیا شہریت بل متعارف کروا دیا ہے۔ مودی کی پارٹی نے گزشتہ دو انتخابات میں پانچ سو سے زائد نشستوں پر کسی ایک مسلمانوں کو بھی ٹکٹ نہیں دیا، ایک مسلمان بطور ”شوبوائے“ اس میں ضرور میں موجود ہے۔گزشتہ چھ برس سے مودی کی سیاست عروج پر جا رہی تھی۔ دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دانشور اور سیاست دان مودی کی تعصب آلود سیاست کے زہر ناک طوفان کے سامنے کھڑے ہونے سے خوفزدہ ہو چکے تھے۔جرمنی کے فاشٹ قومی شاؤنزم کی طرح ہندوتوا کا خون ریز سیلاب روکنا ممکن نظر نہیں آ رہا تھا،لیکن آخر کار اس سیلاب کے سامنے مودی کے ”شہریت بل“ نے عوام کی دیوار کھڑی کر دی ہے۔ آج پورا بھارت مودی کے ارادوں کے سامنے ڈٹ گیا ہے اور بھارت کے اندر ”Saye India“ کی پکار سنائی دے رہی ہے، جس طرح ٹرمپ کے مقاصد کو لوگ امریکہ کی نئی خانہ جنگی کا پیش خیمہ سمجھ رہے ہیں،اسی طرح مودی کے مظالم کے نتیجے میں بھارت کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہوتا نظر آ رہا ہے۔

ٹرمپ اور مودی نے اسرائیل میں اپنا تیسرا ساتھی تلاش کر لیا ہے اور وہ نیتن یاہو ہے،ابھی اس پر کرپشن کے مقدمات قائم ہوئے ہیں اور امن پسند یہودی دانشور اُسے اسرائیل کی تباہی کے راستے کا مسافر قرار دے رہے ہیں۔اُسے مشرقی وسطیٰ میں امریکی جنگوں کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا جا رہاہے، اسی شخص کے سبب آج مشرقِ وسطیٰ کے علاقے شام میں انسانیت ایک خوفناک المیہ کا شکار ہے۔عالمی رہنماؤں کو اس وقت ان تین افراد کے حوالے سے سوچ بچار کی ضرورت ہے،ایسا نہ ہو کہ کل آنے والی تباہی کے بعد پتہ چلے کہ پہلی اور دوسری جنگ ِ عظیم کے بعد انسانیت تیسری جنگ ِ عظیم کے صدمے سے دوچار ہو چکی ہے۔ اس حوالے سے بھارتی، امریکی اور خود اسرائیلی عوام کو بنیادی کردار ادا کرنا ہو گا۔ گزشتہ دِنوں ایک ٹی وی چینل نے ایک پروگرام میں ان تینوں حکمرانوں کے کردار پر ایک خصوصی پروگرام کیا۔یہ پروگرام بظاہر کامیڈی نظر آتا تھا،لیکن وہ ایسے خوفناک نتائج کو سامنے لا رہا تھا کہ دُنیا پر ایک خوفناک جنگ کے مسلط ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ان تینوں حضرات کے درمیان مشترکہ اقدار میں سب سے اہم نفرت کا جذبہ ہے اور یہ نفرت کم و بیش مسلمانوں کے حوالے سے ہے۔ مشرقی وسطیٰ کے بعد اُن کی نظر ایران پر ہے،لیکن ایرانی قوم کے قومیت اور تحفظ ِ آزادی کے جذبے سے خوفزدہ ہو کر ایران کے خلاف کسی اقدام سے گریز کیا جا رہا ہے۔ کشمیر اور فلسطین سمیت جہاں جہاں ان کا بس چلتا ہے، یہ اپنے جذبہ ئ نفرت کی تسکین کرتے آ رہے ہیں اور ان کی مدد وہ اسلامی ممالک کر رہے ہیں،جو شہنشاہیت اور دولت کے تحفظ کے لئے جواباً ان کی مدد چاہتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...