کچھ ”کنڈکٹ آف وار“ کے بارے میں (2)

کچھ ”کنڈکٹ آف وار“ کے بارے میں (2)
کچھ ”کنڈکٹ آف وار“ کے بارے میں (2)

  



دریں اثناء فلر بیمار پڑ گیا۔ ڈاکٹروں نے ٹائیفائیڈ تشخیص کیا۔ تین ہفتوں تک اس پر نیم بے ہوشی کے دورے پڑتے رہے۔چھ ماہ تک وہ لکھنوء کے ایک ملٹری ہسپتال میں صاحب فراش رہا۔ اپریل 1906ء میں اسے ڈسچارج کرکے ایک سال کی رخصتِ بیماری (Sick Leave) پر گھر بھیج دیا گیا۔ یہی وہ دور تھا جس میں فلر نے لکھنے لکھانے کی طرف توجہ دی۔

1906ء میں فلر کی شادی پولینڈ کی رہنے والی ایک لڑکی سونیا (Sonia) سے ہو گئی۔ سونیا کچھ اتنی حسین نہ تھی بلکہ بعض ملنے والے اسے ایک ”تھکی ہوئی جھگڑالو خاتون“ کہتے تھے۔ لیکن فلر کو پسند تھی۔ خود فلر کی والدہ کا کہنا تھا کہ اگر وہ سونیا سے بنا کر نہ رکھتی تو اس کا بیٹا اس سے چھن جاتا، اس لئے مجبوراً اسے سونیا کو برداشت کرنا پڑا۔ لیکن لوگ کچھ بھی کہتے رہیں، میاں بیوی راضی ہوں تو“ قاضی“ کیا کرے گا…… دونوں کی جوڑی آخر تک سلامت رہی اور وہ ایک دوسرے پر جان چھڑکتے رہے! اسی محبت اور شادی نے فلر کو ہندوستان میں واپس جانے اور اپنی یونٹ کو جوائن کرنے سے روک دیا۔

چنانچہ1907ء میں اسے سیکنڈ مڈل سیکس بٹالین (برطانیہ میں)کا ایڈجوٹنٹ مقرر کیا گیا۔ یہ ایک پرکشش تقرر تھا۔ یہاں فلر کی اہلیتوں اور صلاحیتوں کے جوہر نمایاں ہو کر کھلے۔ وہ نااہلی کو برداشت نہیں کرتا تھا۔ 1907ء ہی میں اس کی پہلی کتاب شائع ہوئی جس کا نام "The Star In The West" تھا اور انہی ایام میں وہ کلاسیوٹز کی ”آن وار“ سے بھی واقف ہوا۔ یہاں سے اس کا تبادلہ 10مڈل سیکس بٹالین میں کر دیا گیا۔ وہاں جا کر اس نے پمفلٹ اور کتابیں لکھنے پر زور دیا۔ یوں برطانوی فوج میں بطور مصنف اس کی شہرت پھیلنے لگی اور پھر جوں جوں دن گزرتے گئے، اس کا تجربہ، پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں انہماک، مشاہدہ و مطالعہ اور لکھنے کی لگن تیز تر ہوتی چلی گئی۔

اس نے سٹاف کالج کا امتحان دیا اور فیل ہو گیا۔…… دوسری بار کامیابی ہوئی اور 1913ء کے اواخر میں سٹاف کالج چلا گیا۔ ان دنوں سٹاف کورس دو سال کا ہوتا تھا۔ لیکن فلر کی قسمت اچھی تھی کہ اگست 1914ء میں جنگ عظیم اول چھڑ گئی اور کورس ختم کر دیا گیا ورنہ دوران کورس فلر کو ایک سے زیادہ بار کمانڈانٹ سٹاف کالج کی طرف سے ناراضگی (Displeasure) کے پروانے مل چکے تھے۔ پھر ایک بار اسے سرزنش (Reprimand) بھی کی گئی۔ وجہ یہ تھی کہ وہ بطور سٹوڈنٹ سٹاف کالج کی پرانی اور روایتی قسم کی تدریسی اقدار کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتا تھا۔مثلاً اس وقت تک کسی کو مرتب انداز میں ”اصول ہائے جنگ“ کے بارے میں کچھ زیادہ علم نہ تھا۔ فلر نے نپولین کے اصول ہائے جنگ یعنی ٹروپس کا اجتماع، جارحانہ (Offensive) ایکشن، سیکیورٹی، ناگہانیت اور موومنٹ وغیرہ کو ملٹری ہسٹری کے ساتھ ویلڈ (Weld) کرنا شروع کیا جس سے کالج کا ڈائریکٹنگ سٹاف(اساتذہ) ناراض ہو گیا۔ ایک سٹوڈنٹ کی حیثیت سے فلر کی اس ”جسارت“ کو قابلِ تعزیر گردانا گیا۔ اگر وہ دو سال تک سٹاف کالج میں زیر تعلیم رہتا تو کون جانے اس کا کیا حشر ہوتا!لیکن 4اگست 1914ء کوپہلی عالمی جنگ شروع ہو گئی اور 5اگست کو کورس ختم (Disperse) کر دیا گیا اور اسے ساؤتھ ایمپٹن میں ایمبارکیشن ہیڈ کوارٹرز میں پوسٹ کر دیا گیا۔

ایمبارکیشن ہیڈ کوارٹرز میں فعال (Active) سروس تو نہ تھی کہ جنگ برطانیہ کی سرزمین پر نہیں ہو رہی تھی بلکہ فرانس میں ہو رہی تھی اور اس کے برادر آفیسرز وہاں میدانِ جنگ میں دادِ شجاعت دے رہے تھے۔ّ وہ کسی نہ کسی طرح یہاں سے نکل کر گرم محاذ جنگ پر جانا چاہتا تھا۔ اسے ایک ترکیب سوجھی۔ ایک دن اس نے اپنے افسر اعلیٰ، جنرل ڈوکین (Ducane) سے خواہ مخواہ کسی بات پر بحث شروع کر دی۔ جنرل نے اسے دھمکی دی:

”تم اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہو۔ میں تمہیں ابھی فرانس بھجواتا ہوں۔ وہاں محاذ پر جاؤ گے تو سارے کَس بَل نکل جائیں گے“۔

……اور اگلے روز اسے فرانس بھیج دیا گیا! اسے ساتویں (VII) کور کا جی ایس او تھری (GSO-3) تعینات کیا گیا۔ یہیں اس کی پروموشن ہوئی اور فروری 1916ء میں اسے 37ڈویژن کا جنرل سٹاف آفیسرگریڈ2 (GSO-2) مقرر کیا گیا۔ 17جولائی کو اس کی تعیناتی ہیڈکوارٹرز تھرڈ آرمی میں ہوئی۔ وہاں بھی اسے GSO-2 آپریشنز مقرر کیا گیا۔

اب تک فلر نے ٹینک کی شکل نہیں دیکھی تھی۔ صرف اس کے بارے میں افواہیں سنی تھیں کہ ایک نیا ہتھیار ایجاد ہوا ہے۔ 20اگست 1916ء کو فلرنے پہلی بار اس نئی ”مشین گن“ کو دیکھا۔(اس دور میں ٹینک کو یہی نام دیا گیا تھا۔) اکتوبر1916ء میں برطانیہ میں ایک نئی ”ٹینک کور“کھڑی کی گئی اور فلر اس کا GSO-2 مقرر ہوا۔ اس حیثیت میں فلر کے پیشہ ورانہ علم و فضل کے جوہر کھلنے شروع ہوئے۔جنوری 1917ء میں اسے ڈی ایس او (DSO) کا اعزاز عطا ہوا۔ (پاک آرمی میں ستارہ جرات کے برابر) اپریل1917ء میں اسے لیفٹیننٹ کرنل کے رینک میں ترقی دی گئی اور GSO-1 مقرر کیا گیا۔ 20نومبر 1917ء کو ٹینکوں کی پہلی بڑی لڑائی لڑی گئی جسے کیمبرائی کی لڑائی کہا جاتا ہے۔ اس میں 381ٹینکوں نے حصہ لیا۔ اس لڑائی کا سارا آپریشنل پلان فلر نے لکھا تھا۔انہی دنوں فلر نے اپنا مشہور مضمون ”پلان 1919ء“ کے نام سے تحریر کیا جس میں مستقبل کی جنگ میں ٹینکوں کے استعمال پر بحث کی گئی تھی…… یہی پلان بعد میں دوسری جنگ عظیم میں جرمن بلزکریگ کی بنیاد بھی بنا۔

اسی دوران ٹینک آرمی کے ہیڈ کوارٹرز میں فلر کے ایک دوست کیپٹن چار ٹیرس (Charteris) نے فلر کا جو خاکہ تحریر کیا، وہ اس کی شخصیت کا مکمل احاطہ کرتا ہے۔ اس نے لکھا تھا:

”فلر کا قد چھوٹا ہے لیکن چہرے سے ذہانت ٹپکتی ہے۔ سر گنجا ہے۔ ناک نپولین کی طرح کی اور باقی جسم کے نشیب و فراز بھی اس انداز کے ہیں کہ لوگ ٹھیک ہی اسے بونی فلر کہتے ہیں۔ وہ ایک بالکل انوکھا اور غیر روائتی قسم کا سولجر ہے۔ خیالاتِ بلند اور اظہارِ بیان پر پوری قدرت حاصل ہے۔ روایات، اختیارات اور جاری اقدار کا حریف ہے۔ سینئر آفیسرز سے خوامخواہ الجھتا ہے۔ لیکن اس کے افکار و آراء کی صداقت مسلمہ ہے۔ جس موضوع پر چاہے، مدلل تقریر کر سکتا ہے۔ مشرق کے مذاہب، روحانیات، جادو وغیرہ کی پراسرار دنیا، ملٹری ہسٹری اور جنگ کی تھیوری اس کے محبوب و مرغوب موضوعات ہیں۔ اسے مختلف عظیم مصنفین کے مقولے ازبر ہیں اور وہ انہیں اپنی گفتگو میں جب بطور دلیل بیان کرتا ہے تو اس کے استدلال کو رد کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایک ان تھک لکھاری ہے۔ اس کے دفتر سے بلا مبالغہ رِم کے رِم کاغذوں کے ایشو ہوتے ہیں۔ وہ ٹینکوں کی ٹریننگ، آپریشنز کی پلاننگ اور دیگر تنظیمی امور پر بھی قدرت رکھتا ہے۔ وہ شاید ایک اچھا ایڈمنسٹریٹر نہ ہو اور غالباً ایک اچھا کمانڈر بھی نہ ہو لیکن وہ سٹاف آفیسر جس معیار کا ہے، اس کی نظیر شائد ہی کہیں ملے۔وہ نہایت قیمتی افکار تخلیق کرکے دوسروں کو دے دیتا ہے کہ وہ ان کی تکمیل کریں“۔

انہی ایام میں کیپٹن لڈل ہارٹ اور فلر کی دوستی کا آغاز ہوا۔اسی پہلی عالمی جنگ میں سوم (Somme) کی لڑائی میں لڈل ہارٹ زخمی ہو گیا تھا۔ زخم کی نوعیت اس قسم کی تھی کہ اسے دوبارہ صحت یاب ہو کر محاذِ جنگ پر نہیں بھیجا جا سکتا تھا۔ چنانچہ اسے رائل آرمی ایجوکیشن کور میں ٹرانسفر کر دیا گیا۔ بعد میں فلر اور لڈل کی دوستی گہری ہوتی چلی گئی اور ماسوائے ایک آدھ مرتبہ کی شکر رنجی کے،آنے والے 46برسوں تک قائم رہی۔

1923ء میں فلر کو کیمبرلے سٹاف کالج کا چیف انسٹرکٹر (CI)مقرر کیا گیا۔ یہ وہی سٹاف کالج تھا جس میں نو سال پہلے جب وہ زیر تعلیم تھا تو اسے اپنے غیر روایتی پن کی وجہ سے بہت سے Displeasures اور Reprimands ملے تھے۔ سٹاف کالج میں سی آئی کا عہدہ سنبھالتے ہی وہ جب پہلے روز اپنے دفتر میں آیا تو آتے ہی ہیڈکلرک کو طلب کیا اور جنگ لڑنے کی تمام سکیمیں، تجاویز، لیکچرز، Presis اور متعلقہ دستاویزات وغیرہ لانے کو کہا۔ جب اس کامیزاس کاغذی انبار سے بھر گیا تو اس نے حکم دیا کہ اس تمام ریکارڈ کو آگ لگا دی جائے!……اپنی سوانح عمری (Memoirs) میں اس نے اس واقعہ کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے۔ اس نے تمام لیکچراز سرنو خود لکھے، تمام سکیمیں اور متعلقہ دستاویزات دوبارہ تحریر کیں اور جب 1926ء میں تین سال کے بعد وہاں سے اس کی ٹرانسفر ہوئی تو اس نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس کا جانشین بھی وہی کچھ کرے جو اس نے اپنے پیش رو کے ساتھ کیا تھا۔ یعنی تمام تدریسی مواد از سر نو لکھا جائے، تاکہ برسہابرس سے اس مواد کا جو تبادلہ دست بدست ہوتا رہا ہے، وہ رسم ختم کی جائے کیونکہ:

جہانِ تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود

لیکن اس کے جانشینوں نے اس پر کوئی توجہ نہ دی۔ یا شائد یہ ان کے بس کی بات نہ تھی۔ آج بھی کیمبرلے سٹاف کالج میں فلر کے تحریر کردہ لیکچر اور ہدایات وغیرہ وہی ہیں جو اس نے اپنے دور میں ایشو کی تھیں۔ اس دور کے بیسیوں لیکچرز میں درجنوں اقتباسات ایسے ہیں جو قاری کو رک کر سوچنے کی دعوت بھی دیتے ہیں اور داد تحسین نچھاور کرنے کی بھی۔ مثلاًاس کی ایک تحریر کا یہ اقتباس دیکھئے:

”انسان کا دل تو اگرچہ تبدیل نہیں ہوتا لیکن اس کا دماغ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ اور جوں جوں جنگ زیادہ سائنٹیفک ہوتی جاتی ہے، ذہنی لچک کی افزائش کے تقاضے بڑھتے جاتے ہیں۔ انسانی دماغ کا ڈسپلن جنگ کی ٹیکٹیکس کے ساتھ تبدیل ہونا از بس ضروری ہے…… اب میں عصر حاضر کی طرف آتا ہوں اور مستقبل کی بات کروں گا۔ کیونکہ جب تک کوئی تاریخ ہمیں مستقبل میں جھانکنے کی طرف راغب نہیں کرتی تب تک وہ ایک خونریز رومانس کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتی!“

کیمبرلے سٹاف کالج سے فلر کو وار آفس میں ٹرانسفر کر دیا گیا۔19فروری 1926ء کو جنرل ملنی (Milne) چیف آف امپیریل جنرل سٹاف (CIGS) مقرر ہوا اور اسی تاریخ کو کرنل فلر کو بھی بطور ملٹری اسسٹنٹ (M.A) ٹو چیف آف امپریل جنرل سٹاف تعینات کیا گیا۔ دریں اثناء سٹاف کالج کے لیکچروں پر مشتمل فلر کی ایک کتاب بعنوان فاونڈیشنز (Foundations) شائع ہوئی جس پر کئی لوگوں نے اعتراضات کئے۔ روایت سے بغاوت پر اعتراضات کرنے والوں کے پاس دلائل کی کمی نہیں ہوتی۔ ایک نقاد نے لکھا: ”جو لوگ عمل کر سکتے ہیں وہ عمل کرتے ہیں اور جو لوگ کچھ نہیں کر سکتے، وہ پڑھانا شروع کر دیتے ہیں۔“…… یہ واضح اشارہ فلر کی چیف انسٹر کٹری کی طرف تھا۔

1929ء میں فلر کو ایک بار پھر ہندوستان آنا پڑا۔ روس جنوب کی طرف بڑھتا چلا آ رہا تھا اور اندیشے بڑھ رہے تھے کہ افغانستان میں برطانوی اور روسی مفادات کا تصادم نہ ہو جائے۔22اکتوبر 1929ء کو فلر دہلی پہنچا اور پھر پشاور اور کوئٹہ کا ایک ماہ کا دورہ شروع کیا۔ دسمبر 1929ء میں لندن واپسی پر اس نے اپنے چیف آف جنرل سٹاف کو جو رپورٹ پیش کی اس میں ”انڈین آرمی“ کی تنظیم ِ نو کی تجویز پیش کی، جسے اربابِ بست و کشاد نے زیادہ وقعت نہ دی۔ تاہم ایک اخبا رمیں فلر کا ایک مضمون بعنوان (Tanks In India) شائع ہوا۔ جس میں اس نے لکھا: ”ہندوستان کے شمال مغربی سرحدی صوبے کے مسئلے کا حل یہ ہے کہ وہاں ہلکے قسم کے ٹینک فوج کو دیئے جائیں جو چھ پہیوں والے ٹینک ٹرانسپورٹروں کی مدد سے موو کرائے جا سکتے ہوں“۔ پھر 1931ء میں اس نے ایک اور آرٹیکل بعنوان (India in Revolt) لکھا جس میں سیاسی نکات اور معاملات پر بھی تفصیل سے بحث کی گئی۔ ہندوستان میں اپنے قیام کے دوران اس نے اپنے دوست لڈل ہارٹ کے نام ایک خط میں لکھا: ”دنیا میں دو قسم کے انسان پائے جاتے ہیں۔ ایک وہ جو ازراہِ افسوس کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اور دوسرے وہ جو ازراہِ خوشی ناکام ہو جاتے ہیں …… میرا تعلق دوسری قسم کے لوگوں سے ہے!“

پھر فلر کو ایک انفنٹری بریگیڈ کی کمانڈ کی پیشکش کی گئی۔ یہ بریگیڈ دراصل ایک تجرباتی فورس (Experimental Force) تھی جو میکانائزڈ عناصر پر مشتمل تھی۔ اس پوسٹنگ پر بعض پیشہ ورانہ اختلافات کے سبب فلر نے استعفیٰ دے دیا۔ کچھ دنوں بعد جب فلر کی غلط فہمی دور ہوئی تو اس نے استعفیٰ واپس لے لیا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ استعفیٰ اس کی زندگی کا ایک غلط فیصلہ تھا اور پھر استعفیٰ واپس لینا، اس سے بھی زیادہ غلط تھا۔ بعد میں خود فلر کو بھی اس پر افسوس ہوا۔(جاری ہے)

مزید : رائے /کالم