کراچی، 6منزلہ مخدوش خالی عمارت زمین بوس، بھاری مالی نقصان 

  کراچی، 6منزلہ مخدوش خالی عمارت زمین بوس، بھاری مالی نقصان 

  



کراچی(این این آئی) کراچی کے علاقے رنچھوڑ لائن کی سومرا گلی میں 6منزلہ عمارت زمین بوس ہوگئی تاہم عمارت کو چند گھنٹوں قبل خالی کرائے جانے کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔قبل ازیں عمارت دراڑیں پڑنے سے ٹیڑھی ہوگئی تھی جسے خالی کرا لیا گیا تھا تاہم مکینوں کا سامان اندر موجود تھا،وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے مخدوش عمارت گرنے کا نوٹس  لیتے ہوئے کمشنر کراچی اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی(ایس بی سی اے)سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ ذرائع کے مطابق رہائشی عمارت ٹمبر مارکیٹ کے صدر کی ہے اور اسے 15 سال قبل تعمیر کیا گیا تھا۔عمارت ٹیڑھی ہونے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور رینجرز کی نفری موقع پر پہنچی تھی اور لوگوں کو باہر نکالا۔ ای بی سی اے حکام نے جیک لگا کر عمارت کو سہارا دینے کی کوشش کی جو کامیاب نہیں ہو سکی۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی(ایس بی سی اے)حکام کے مطابق چھ منزلہ عمارت میں 25فلیٹس تھے، عمارت پرانی تھی اور کالم کمزور ہوگئے تھے، عمارت گرنے کی وجوہات فی الحال سامنے نہیں آسکی ہیں۔پولیس کے مطابق عمارت کے 25 فلیٹس میں رہائشی موجود تھے اور یہ عمارت 15 سال قبل تعمیر کی گئی تھی۔زمین بوس ہونے سے قبل عمارت کی گیس اور بجلی منقطع کردی گئی تھی تاکہ کسی ناخوش گوار سانحے سے محفوظ رہا جاسکے۔عمارت گرنے سے اطراف میں موجود دیگر عمارتوں کو بھی جزوی نقصان پہنچا ہے جبکہ وہاں کھڑی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں بھی اس کی زد میں آئی ہیں۔ذرائع کے مطابق کراچی میں 380 عمارتوں کو مخدوش قرار دیا گیا تھا لیکن اس عمارت کا نام اس فہرست میں نہیں تھا۔ایس بی سی اے حکام کے مطابق لوگوں کے سامان کی فہرست تیار کی جائے گی جس سے مالی نقصان کا پتا چل سکے گا۔مخدوش عمارت گرنے کے بعد پولیس نے راستے کو بند کر دیا ہے اور کسی کو آگے جانے کی اجازت نہیں دی جارہی۔ قریب کی عمارتوں کو بھی خالی کرا لیا گیا۔جس علاقے میں عمارت گری وہاں قیام پاکستان سے پہلے کی عمارتیں موجود ہیں اور وہاں اتنی بلند عمارتیں بنانے کی قانونی اجازت نہیں ہے۔ پرانے کراچی میں کم سے کم 305 عمارتوں کو مخدوش قرار دیا گیا ہے۔ذرائع انچارج کراچی میونسپل کارپوریشن ڈیمولیشن ڈپارٹمنٹ نے عمارت کا جائزہ لے کر اسے 20 سے 22 دن میں گرانے کا اعلان کیا ہوا تھا۔وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے مخدوش عمارت گرنے کا نوٹس  لیتے ہوئے کمشنر کراچی اورڈی جی ایس بی سی اے سے رپورٹ طلب کرلی ہے،وزیراعلیٰ سندھ نے کمشنر کراچی کو معاملے کی تحقیقات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی عمارتوں کی تعمیراتوں کا اجازت کون دیتا ہے جوگر جاتی ہیں؟ مراد علی شاہ نے غیرقانوی طور پر عمارتوں کی تعمیر میں ملوث عملے کو سزادینے کا حکم بھی دے دیاہے۔

عمارت 

مزید : صفحہ آخر