صوبہ پنجاب 2019 میں ڈاکو، چوروں کی دستبرد سے محفوظ نہ رہ سکا

 صوبہ پنجاب 2019 میں ڈاکو، چوروں کی دستبرد سے محفوظ نہ رہ سکا

  



 پنجاب میں قتل، اغوا، خواتین سے بداخلاقی، چوری و ڈکیتی سمیت سنگین جرائم میں اضافہ

یونس باٹھ

 یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ جرائم میں اضافہ کے اہم عوامل اور اسباب کیا ہیں‘ آبادی میں اضافہ جرائم میں اضافہ کا سبب ہے یا اس کی دیگر وجوہات ہیں جن میں بیروزگاری اور معاشی بد حالی کو بھی ایک کڑی قرار دیا جاتا ہے‘ یا اخلاقی اقدار کا زوال پذیر ہو نا بھی کوئی کردار ادا کرتا ہے یا پھر انسداد جرائم کی بیخ کنی جس ادارہ کی ذمہ داری ہے جسے عرف عام میں پولیس کہا جاتا ہے وہ ناکام ہوگئی ہے۔پنجاب میں جرائم کی شرح میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے شہر میں ڈاکوسر عام دند ناتے پھر رہے ہیں۔ پنجاب میں ہر منٹ  150سے زائد وارداتیں ہو رہی ہیں۔پولیس اصل ملزمان کا تعاقب کر نے یا ڈاکوؤں کو پکڑنے کی بجائے سیاسی وابستگی یا ذاتی دشمنیوں  کے حامل افراد کے پیچھے دوڑ پڑی ہے اور ایک نائن جینوئن رپورٹ بناکر ان کی پکڑ دھکڑ شروع کردی گئی ہے۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ صرف لا ہور میں گزشتہ سال کی نسبت 39فیصد جرائم کی شرح میں اضافہ ہوگیاہے۔ایک تھانے میں ایک دن میں دس دس وارداتیں ہو رہی ہیں اربوں روپے کی مراعات حاصل کر نیوالی پو لیس امن و امان قائم کر نے میں مکمل طور پر ناکام ہوتی جا رہی  ہے۔محکمہ پولیس میں سیاسی کھیل کا شکار ہے مختصر وقت میں پنجاب میں چار آئی جی جبکہ لاہور میں تین ڈی آئی جی آپریشن تبدیل ہو چکے ہیں۔ 

لاہور پولیس نے بد معاشوں کے حوالے سے ایک خود ساختہ، انتہائی جانب دار اورسیاسی وابستگیوں کے حامل افراد پر مشتمل ایک غیرمنصفانہ  رپورٹ تیار کر کے انھیں سبق سکھانے کی نیت سے ان کیخلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے  متاثرین نے  چیف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس ہائی کورٹ کو از خود نوٹس لینے کا مظالبہ کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ اصل زمہ داران کے خلاف کارروائی ضرور کی جائے۔اس لسٹ میں زیادہ تر ایسے افراد شامل ہیں جن کا سابق حکمرانوں سے بڑا قریب کا واسطہ رہا ہے اور آجکل وہ ان سے لا تعلقی کا اعلان بھی کر چکے ہیں تحریک انصاف کے رہنماؤں نے اگر چہ انھیں معاف بھی کر دیا ہے مگر لسٹ بنانے والوں نے انھیں معاف نہیں کیا لسٹ میں شامل افراد کا کہنا ہے کہ اگر بدمعاشوں کا زکر کیاجائے تو مغل پورہ کے گجر تو کسی کھاتے میں نہیں آتے بہت بڑے بڑے نام جن کے ہونے چاہیے تھے ماسوائے دوچار کے دیگر کو تو نظر انداز ہی کر دیا گیا ہے اسی طرح اگر سوشل کرائم میں ملوث افراد کا گھیراؤ کر نا مقصود تھا تو اس جرم کے بھی 100سے زائد بہت بڑے نام مل جائیں گے انھیں آخر اس لسٹ کا حصہ کیوں نہیں بنایا گیا۔خفیہ پولیس نے جو لسٹ مرتب کی ہے یہ انصاف اور قانون کے تقاضوں کو پورا نہیں کر تی ۔من پسندافراد کو چھوڑ کر مخالفین کے کہنے پرنام ایڈ جسٹ کیے گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق لاہور کے ٹاپ ٹوئنٹی بدمعاش کون ہیں؟پولیس کی طرف سے آئی جی پنجاب کو بھجوائی جانے والی فہرست کے مطابق لاہور ریجن کے بدمعاشوں میں کئی نامور افراد بھی شامل ہیں حقیقت میں سیاسی پشت پناہی رکھنے والے بعض پولیس افسران اور اہلکار اشتہاریوں کو تحفظ دے رہے ہیں۔ کئی خطرناک مجرموں کو بھی ملی بھگت کرکے چھوڑ دیا گیا ہے۔ جرائم کی شرح کے حوالے سے لاہور سرفہرست ہے جبکہ روالپنڈی دوسرے، ملتان تیسرے نمبر پر ہے۔ پنجاب میں روازانہ 150 سے 200 گاڑیاں، 500 سے 600 موٹر سائیکل اور 3 ہزار سے زائد موبائل فونز چھینے جا رہے ہیں۔ 2018ء  کے مقابلے میں 2019ء میں پنجاب میں کرائم کی شرح میں مجموعی طور پر 7 1فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ صوبائی دارالحکومت میں کرائم کی شرح میں 39 فیصد تک اضافہ ہوا ہے جس سے محکمہ پولیس کی کارکردگی بہتر ہونے کے دعووں کا پول بھی کھل گیا ہے گوجرانوالہ میں گینگ ریپ کی وارداتوں میں 85 فیصد اضافہ ہوا ہے گینگ ریپ کی وارداتوں میں لاہور میں 70 فیصد، ڈی جی خان میں 91 فیصد راولپنڈی میں 18 فیصد اور سرگودھا میں 17فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈکیتی مزاحمت پر قتل کی وارداتوں میں گوجرانوالہ میں 34فیصد، سرگودھا میں 16فیصد، ملتان میں 29فیصد، فیصل آباد میں 07فیصد اضافہ ہوا ہے پولیس رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 15دسمبر2019تک 2018کے مقابلے میں 23ہزار کے قریب زیادہ وارداتیں ہوئی ہیں 2016میں پنجاب میں مجموعی طور پر 3لاکھ 72ہزار 678وارداتیں ہوئی ہیں جبکہ   2017تک وارداتوں کی تعداد 3لاکھ 95ہزار 973تک پہنچ چکی تھی۔ 2016میں لاہور میں 84ہزار 375وارداتیں ہوئی ہیں جبکہ   2017تک 90ہزار 701وارداتیں ہوئیں اور مجموعی طور پر 6ہزار 326وارداتیں زیادہ ہوئیں ہیں شیخوپورہ ریجن میں مجموعی طور پر 26فیصد وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ 2016میں 26ہزار 900 ہوئیں جبکہ 2017میں 33ہزار979وارداتیں ہوئی ہیں اور مجموعی طور پر 7ہزار 79 وارداتیں زیادہ ہوئیں ہیں سرگودھا ریجن میں 20فیصد وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے 2018 میں 22 ہزار 244 وارداتیں ہوئی ہیں جبکہ15  دسمبر2019 تک26 ہزار 600 وارداتیں ہوئی ہیں اور مجموعی طور پر 4ہزار 356وارداتیں زیادہ ہوئی ہیں فیصل آباد ریجن میں 10فیصد وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے2018میں 43ہزار 779وارداتیں ہوئی ہیں۔ 2019 تک 48ہزار 133وارداتیں ہوئی ہیں اور مجموعی طور پر 4ہزار 354وارداتیں زیادہ ہوئی ہیں ساہیوال ریجن میں 7فیصد وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے 2018میں 25ہزار 11وارداتیں ہوئی ہیں جبکہ 2019تک 26ہزار 857وارداتیں ہوئی ہیں اور مجموعی طور پر 1ہزار 846 وارداتیں زیادہ ہوئی ہیں ڈی جی خان ریجن میں 7فیصد وارداتوں میں اضافہ ہو اہے 2018میں 21ہزار 814وارداتیں ہوئی ہیں جبکہ 2019میں 23ہزار 431وارداتیں ہوئی ہیں اورمجموعی طور پر 1ہزار 617 وارداتوں میں اضافہ ہو اہے اسی طرح راولپنڈی ریجن، ملتان ریجن، بہاولپور ریجن میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہو اہے جبکہ گوجرانوالہ اور فیصل آباد میں ریجن میں وارداتوں میں کمی ہوئی۔ سال دو ہزار انیس کے دوران بھی لاہور سمیت صوبہ بھر میں خواتین پر تشدد کے واقعات میں کمی نہ آسکی، قتل، تیزاب گردی اورتشدد سمیت دیگرواقعات میں تین ہزار سے زائد خواتین نشانہ بنیں۔صنف نازک معاشرے کی روایتی بے حسی کاشکار رہی، پولیس کے اعدادوشمار کے مطابق پنجاب بھر میں ایک سونوے خواتین قتل ہوئیں، ایک سواکیاسی کو بد اخلاقی اورانتالیس کو گھریلو تشدد کانشانہ بنایا گیا۔دفاتر اوردیگر مقامات پر ہراساں کرنے کے چونتیس سو پانچ واقعات رپورٹ ہوئے، متعدد پرتیزاب پھینکا گیا،  لاہور پولیس کے مطابق خواتین پر تشدد کے واقعات میں سماجی وجوہات کی بنا پر اضافہ ہوا ہے۔رواں سال 16 ہزار خواتین نے خلع کی ڈگریوں کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا۔ فیملی عدالتوں نے 14 ہزار خواتین کو خلع کی ڈگریاں جاری کیں۔ 7 ہزار سے زائد خلع کے کیسز زیر سماعت ہیں۔ دوسری جانب محکمہ داخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ جرائم کی شرح میں اضافے سے متعلق رپورٹس اعلیٰ حکام کو پیش کر دی جاتی ہیں۔ صوبے میں امن وامان کی صورتحال بہتر بنانے کے اقدامات بھی جاری ہیں۔پنجاب کے مرکزی شہر لاہور میں سیف سٹی اتھارٹی کا منصوبہ اب تک کوئی کرشمہ دکھا سکا نہ ہی ڈولفن فورس جرائم میں کمی لا سکی، اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ صوبائی دارالحکومت میں جرائم کی شرح گزشتہ برس سے تجاوز کر گئی ہے۔روز نامہ پاکستان کو موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال 2018 کے مقابلے میں 39 فیصدمقدمات زائد رپورٹ ہوئے۔لاہور میں شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات میں آٹھ اعشاریہ 56 اور مالی نقصان پہنچانے کے جرائم میں تین اعشاریہ 40 فیصد اضافہ ہوا۔پولیس ریکارڈ کے مطابق خوف و ہراس پھیلانے کے واقعات میں 75، آرمز آرڈیننس کی خلاف ورزی میں ایک، گاڑیاں اور موٹر سائیکل چھیننے کے واقعات اعشاریہ اڑتیس اور چوری کے واقعات میں چار فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔سنگین صورتحال پر کیے گئے سوال کے جواب میں ایک سینئر پولیس آفیسرنے کہا کہ جرائم کی شرح میں اضافے کی وجہ بڑے پیمانے پر ہونے والی تقرریاں اور تبادلے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس بار آئی جی،سی سی پی او، ڈی آئی جی ایس ایس پیز کے علاوہ  ڈی ایس پیز، ایس ایچ اوز اورمحرر بھی تبدیل ہوئے ہیں۔ صوبائی وزیر قانون نے امید ظاہر کی ہے کہ شہر میں بڑھتی ہوئی جرائم کی شرح کو جلد کنٹرول میں لایا جائے گا۔قتل،ڈکیتی، رہزنی،تشدد سے شہریوں کی ہلاکت،ڈاکوؤں کی فائرنگ سے پولیس اہلکاروں کی ہلاکت سمیت جہاں دیگربہت سے واقعات پیش آئے ہیں وہاں سانحہ پی آئی سی بھی پیش آیا جو کہ لاہور پولیس کی غفلت، لاپرواہی اور ناہلی کا واضح ثبوت ہے اس سانحہ میں پولیس کی غفلت کے پیش نظرطبعی امداد نہ ملنے کے باعث جو ہلاکت ہوئی ہیں ان کے لواحقین سمیت دیگر متاثرین ساری عمر اس افسوس ناک سانحہ کو بھول نہیں پائیں گے۔روز بروز بڑھتے جرائم کے باوجود صوبہ میں امن و امان کے قیام کے ذمہ دار صورتحال کو زیادہ برا نہیں قرار دیتے۔ صرف لا ہور میں چوری و ڈکیتی کی 15020 وارداتوں میں ڈاکوؤں نے ادھم مچا ئے رکھا، کسی کے گھر ڈاکہ پڑا تو کسی کی دکان کو لوٹ لیا گیا۔ راستوں میں لٹ جانے والے بھی کم نہ تھے۔ شہریوں سے کروڑوں کا سامان چھین لیا گیا۔22200 وارداتوں میں کسی کو گاڑی تو کسی کو موٹر سائیکل سے محروم کر دیا گیا۔ چور گائے، بھینسیں اور بکریوں سمیت 6ہزار جانور لے گئے۔ اتنا کچھ ہونے کے باوجود پولیس افسران جرائم کی شرح میں اضافہ نہیں مانتے، کہتے ہیں ایسا اس لئے لگ رہا ہے کہ اب کسی بھی واقعہ کی ایف آئی آر بغیر روک ٹوک درج ہوتی ہے۔ تبدیلی حکومت کے تمام تر دعوؤں کے باوجود پولیس شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہوئی ہے۔آئی جی پولیس پنجاب اپنی ماتحت فورس سے یہ تو دریافت کریں کہ جدید ترین سہولتیں اور وسائل فراہم کرنے کے باوجود یومیہ سیکروں سنگین وارداتیں کرنیوالوں نے سلیمانی ٹوپی پہن رکھی ہوتی ہے کہ واردات کرتے ہیں اور منظر سے غائب ہو جاتے ہیں‘ گو یا سنگین وارداتیں شہریوں کا مقدر بنی ہوئی ہیں۔جبکہ چوری ڈکیتی،قمار بازی اور منشیات کے الزام میں بے گناہ افراد کی پکڑ دھکڑ کر کے ان سے بھاری رشوت لے کر چھوڑا جاتا ہے جس سے شہریوں میں پولیس کے خلاف نفرت جنم لے رہی ہے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...