عراق میں ایران کی حامی ملیشیا کے ٹھکانوں پرامریکی بمباری، 25افراد جاں بحق، عراقیوں کی جوابی کارروائی کی دھمکی 

عراق میں ایران کی حامی ملیشیا کے ٹھکانوں پرامریکی بمباری، 25افراد جاں بحق، ...

  



واشنگٹن(اظہر زمان،بیوروچیف) امریکی محکمہ دفاع نے یہاں تصدیق کی ہے کہ امریکی جنگی طیاروں نے عراق اور شام میں پانچ مقامات پر ایران کے حمایت یافتہ ملیشیا پر حملہ کیا ہے جس میں کم از کم 25 جنگجو ہلاک اور 55 زخمی ہوئے ہیں۔ ایک اعلان میں بتایا گیا ہے کہ یہ کارروائی کرکک میں وہنے والے ایک راکٹ حملے کے جواب میں کی گئی ہے جس میں ایک امریکی سویلین کنٹریکٹر ہلاک اور چار فوجی زخمی ہوئے تھے۔ اس کے بعد امریکی میڈیا نے بغداد میں اپنے نمائندوں کے حوالے سے عراق کے ایک سینیئر ملیشیا کی دھمکی نشر کی ہے وہ جوابی کارروائی کے طور پر وہاں امریکی فوجیوں پر حملہ کر سکتے ہیں۔ عراق کے مختلف ملیشیا کے اتحاد”پاپولر موبلائزیشن فورسز“ پی ایم ایف کے کمانڈر ابومہدی نے کہا ہے کہ ہم امریکہ کو اس کا ذمہ دار سمجھتے ہیں اور جو کچھ ہوا ہے اس پر خاموش نہیں رہیں گے۔ پی ایم ایف داعش کے خلاف جنگ کے دوران عراقی فوج میں ضم ہو گئی تھی جن میں سے بیشتر ملیشیا کو ایران کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اس دوران امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور وزیر دفاع مارک ایسپر نے فلوریڈا میں صدر ٹرمپ کے چھٹیوں کے دوران قائم کیمپ آفس میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کیا۔ مسٹر پومپیو نے اس موقع پر بتایا کہ امریکی خطے میں اضافی کارروائیاں بھی کر سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کو عراق میں کارروائیوں کی بریفنگ دینے کے بعد انہوں نے واضح کیا کہ اگر خطے میں ایران امریکی فوجیوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے تو اسے کرنے نہیں دیا جائے گا۔ دراصل صدر ٹرمپ نے جب سے 2015ء میں ایران کے ساتھ عالمی ایٹمی سمجھوتے کو ترک کرنے کا اعلان کیا تھا تب سے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو چکا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے خطے میں ایران کے پراکسی ملیشیا جن میں حزب اللہ بھی شامل ہے سرگرم ہیں جن کا امریکہ اور ان کے حمایتیوں کے ساتھ تصادم ہوتا رہتا ہے۔ 

عراق حملہ

مزید : صفحہ اول