نیب ترمیمی آرڈیننس با ضابطہ نافذ،سپریم کورٹ، ہائیکورٹ میں مخالفت میں نئی درخواستیں، متاثر ہ افراد کا ضمانت کیلئے عدالت عالیہ سے رجوع

    نیب ترمیمی آرڈیننس با ضابطہ نافذ،سپریم کورٹ، ہائیکورٹ میں مخالفت میں نئی ...

  



اسلام آباد (این این آئی)نیب ترمیمی آرڈیننس 2019 باضابطہ طور پر نافذ کر دیا گیا۔ پیر کو وفاقی حکومت نے آرڈیننس کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا جس کے مطابق سینیٹ اور اسمبلی کے اجلاس اس وقت نہیں ہو رہے، صدر مملکت حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات پر مطمئن ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ٹیکس، لیوی سے متعلقہ ایشوز نیب کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔نوٹیفکیشن کے مطابق ٹیکسز اور لیوی سے متعلقہ تمام انکوائریز متعلقہ فورمز کو منتقل ہوگئیں،احتساب عدالتوں سے ٹیکسز کے تمام مقدمات متعلقہ عدالتوں کو منتقل ہوگئے،بدانتظامی پر عوامی عہدہ رکھنے والوں کیخلاف نیب کارروائی نہیں کر سکے گا، عوامی عہدہ رکھنے والوں کیخلاف کارروائی صرف مالی فوائد اٹھانے کے شواہد پر ہوگی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق مالی فائدہ اٹھانے تک اختیارات کے ناجائز استعمال کا کیس بھی نہیں بن سکے گا، مالی فائدہ اٹھانے کے شواہد نہ ہوں تو سرکاری افسران کیخلاف کسی فیصلے پر کیس نہیں بنے گا۔

نیب آرڈیننس

لاہور،اسلام آباد(نامہ نگارخصوصی،نیوزایجنسیاں) نیب قوانین میں ترمیم کے معاملے پر ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواست پر ہائیکورٹ آفس نے اعتراض لگا دیا۔تفصیلات کے مطابق نیب ترمیمی آرڈیننس کے خلاف اشتیاق چوہدری ایڈووکیٹ کی جانب سے نے دائر کردہ درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ ترمیمی آرڈیننس آئین اور قانون کے منافی ہے،آرڈیننس سے کرپشن کیسوں میں نیب کی تفتیش کا اختیار ختم کیا گیا،ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے کرپشن کو فروغ ملے گا اور وائٹ کالر مجرموں کو فائدہ ہوگا، درخواست میں صدارتی آرڈیننس کو بدنیتی پر مبنی اور کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے تاہم عدالت نے نیب ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواست پر اعتراض لگاتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ موسم سرما کی تعطیلات کی وجہ سے درخواست کی فوری سماعت ممکن نہیں،درخواست تعطیلات کے بعد دائر کی جائے۔دوسری طرف ترمیمی آرڈیننس کیخلاف سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست دائر۔ پیر کو درخواست فرخ نواز بھٹی کی جانب سے دائر کی گئی۔ درخواست میں موقف اختیار کیاگیاکہ آرڈیننس بنیادی حقوق کی متعدد شقوں کے منافی ہے،حکومت کا نیب آرڈیننس قانون کی حکمرانی کے منافی ہے۔ درخواست میں کہاگیاکہ نیب آرڈیننس معاشرے میں تقسیم پیدا کرنی کی سازش ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ نیب ترامیم آرڈیننس 2019 کو کالعدم قرار دے۔ درخواست میں وفاقی حکومت،وزیراعظم،ایف بی آر،نیب اور ایس ای سی پی کو فریق بنایا گیا ہے۔ادھر  نیب ترمیمی آرڈیننس منظور ی کے بعد متاثرہ افراد نے رہائی کیلئے عدالتوں سے رجوع کرنا شروع کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایشین ڈویلپرز کرپشن کیس میں گرفتار یاسر حیات اور محمد الیاس نے ضمانت کیلئے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی۔ درخواست میں چیئرمین نیب اور ڈی جی نیب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست گزاروں نے موقف اپنایا کہ ان کے کمپنی میں صرف 25 فیصد شئیرز ہیں، یاسر حیات کی عمر 41 جبکہ محمد الیاس کی عمر 52 سال ہے۔لاہور ہائی کورٹ میں جمع درخواست کے مطابق ملزمان کا سابقہ ریکارڈ صاف ستھرا ہے اور اچھی شہریت کے مالک ہیں۔ نیب نے محض ریکارڈ میں ٹیمپرنگ کا الزام لگا کر گرفتار کیا۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ متاثرین کی بعد از گرفتاری درخواست ضمانت حتمی ٹرائل تک منظور کی جائے۔

درخواستیں 

مزید : صفحہ اول