متحدہ حکومت گرانے میں ساتھ دے: بلاول، مقامی حکومتوں کو با اختیار بنائیں، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، کے ڈی اے، لیاری ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور بلڈنگ کنٹرول کا شعبہ لوکل گورنمنٹ کے ماتحت کیا جائے، ساتھ دینگے، ایایم کیو ایم کا جواب

    متحدہ حکومت گرانے میں ساتھ دے: بلاول، مقامی حکومتوں کو با اختیار بنائیں، ...

  



کراچی(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسدک، نیوز ایجنسیاں)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلال بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان تحریک انصاف سے اتحاد ختم کرے اور حکومت کو گرانے میں ہمارا ساتھ دے۔ کراچی اور اس کے عوام کی خاطر جتنی وزارتیں وفاق میں ایم کیو ایم کے پاس ہیں ہم سندھ میں دینے کے لیے تیار ہیں۔کر اچی کے عوام کو معلوم ہے کہ عمران خان نے انہیں دھوکا دیا ہے، اس کا ہر وعدہ جھوٹا نکلا ہے۔وفاق کی گیس کی پالیسی کی مزاحمت کرتے ہیں، ہمارے صوبے کا حق مارا جارہا ہے، آپ وہاں سے گیس چھین رہے ہیں جہاں سے گیس پیدا ہورہی ہے۔ بے نظیر اِنکم سپورٹ پروگرام سے 8 لاکھ لوگ نکالے گئے ہیں، سندھ حکومت اس معاملے کو عدالت میں چیلنج کرے، غریب سے ایک ہزار روپے چھیننے والے سیاستدانوں پر لعنت ہو۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو کراچی کے علاقے لانڈھی اور کورنگی میں 4 ترقیاتی منصوبوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 'اس منصوبے کو لانڈھی اور کورنگی کے ہمارے شہیدوں کے نام کرنا چاہوں گا'۔سندھ حکومت مشکل معاشی حالات ہونے کے باوجود محنت کرکے پورے صوبے میں کام کر رہی ہیں '۔ غیر ملکی جریدوں نے سندھ حکومت کی اس پالیسی کو سراہا ہے۔انہوں نے کہا کہ 'ہم چاہتے ہیں کہ کراچی میں ترقی ہو کیونکہ یہاں پورے پاکستان کے ہر صوبے سے رکھنے والے لوگ آکر بستے ہیں تاہم ہمیں ہماری ضرورت کے مطابق وسائل نہیں دیے جاتے ہیں جس کے لیے ہمیں اپنا وفاق سے حصہ چھیننا پڑے گا'۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ بینظیر بھٹو کے متعارف کردہ پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے طریقہ کار پر چلنے کی کراچی میں بہت صلاحیت ہے، ہمیں مل کر سوچنا ہوگا کہ ہم کیسے مل کر کراچی شہر کے لیے کام کرسکیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے اس ملک کی عوام بہت سے مشکلات کا سامنا کر رہی ہے، معاشی صورتحال بہت خطرناک ہے، غریب اور سفید پوش طبقے کے لیے مشکلات بڑھتے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 8 لاکھ لوگوں کو نکالنے کا فیصلہ ظلم و زیادتی ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی اس کی مزاحمت کرتی ہے۔ غریب طبقے کیلئے دن بدن مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں، حکومتی اقدامات غریب دشمنی کی علامات ہیں۔سندھ حکومت اس معاملے کو عدالت میں چیلنج کرے، غریب سے ایک ہزار روپے چھیننے والے سیاستدانوں پر لعنت ہو۔انہوں نے کہا کہ سکھر میں سردی کا 25 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے اور اس موسم میں کچی آبادی میں رہنے والے لوگوں کو زبردستی بے گھر کیا گیا، میں تمام عدالتی فورمز کو اس موسم اور اس وقت میں انکروچمنٹ کے کام کو روکنے کی اپیل کرتا ہوں اور میئر کراچی سے اپیل کرتا ہوں کہ اس سردی کی شدت میں اس کام کو روکا جائے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاقی کی گیس کی پالیسی کی مزاحمت کرتے ہیں، ہمارے صوبے کا حق مارا جارہا ہے، آپ وہاں سے گیس چھین رہے ہیں جہاں سے گیس پیدا ہورہی ہے۔وفاقی حکومت کو فوری طور پر اس پالیسی کو واپس لینا ہوگا۔ جووفاقی وزیر بیانات دے رہے ہیں وہ وفاق دشمن ہیں، ان سے استعفیٰ لیا جائے، اگر استعفیٰ نہ لیا گیا تو ہم سمجھیں گے آپ ان کے موقف کو سپورٹ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں ایم کیو ایم کے ساتھیوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ جو ظلم کراچی کے خلاف ہورہا ہے وہ روکا جاسکتا ہے وفاقی حکومت سے اتحاد کو ختم کریں، عمران کی حکومت کو گرادیں '۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا 'میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ جتنی وزارتیں وفاق میں ایم کیو ایم کے پاس ہیں ہم انہیں سندھ میں دینے کے لیے تیار ہیں بس شرط یہ ہے کہ عمران کو گھر بھیج دیں، اس صوبے کو اس کا حصہ دلوا دیں ہم ساتھ مل کر اس صوبے کو ترقی دلوا سکتے ہیں '۔انہوں نے کہا کہ 'امید ہے آج نہیں تو کل ان کو یہ فیصلہ لینا پڑے گا، پاکستان کو بچانا پڑے گا اور نیا پاکستان کو ختم کرنا پڑے گا'۔ انہوں نے کہا کہ 'کراچی کے عوام کو معلوم ہے کہ عمران خان نے انہیں دھوکا دیا ہے، اس کو ہر وعدہ جھوٹا نکلا ہے اور 2020 میں جب انتخابات ہوں گے تو یہ عوام عمران خان کے حوالے سے یو ٹرن ہی لیں گے'۔اس سے قبل بلاول بھٹوزرداری نے کراچی کے 4 منصوبوں کا افتتاح کیا جو ایک ارب 74 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیے گئے۔ کورنگی ڈھائی نمبر پر 33 کروڑ روپے لاگت سے پل تعمیر کیا گیا، کورنگی 5 نمبر پر 33 کروڑ 40 لاکھ کی لاگت سے ایک پل بنایا گیا۔ اسی طرح حیدر علی انڈر پاس کی تعمیر پر 66 کروڑ روپے خرچ کئے گئے جبکہ کینٹ سٹیشن کے اطراف سڑکوں کی تعمیرات پر 42 کروڑ خرچ ہوئے۔وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہاہے کہ ملک کی بقا کے لیے سندھ کا اہم کردار ہے، صوبہ کی عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔پیرکووزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری بیان میں سیدمراد علی شاہ نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے کراچی کے لیے گز شتہ مالی سال میں بہت سارے میگا پراجیکٹس شروع کیے، کراچی میگا پراجیکٹس کا مقصد ٹریفک کی بھیڑ کو کم کرنا اور شہر کے بنیادی ڈھانچے کو عوام کے لیے آسان بنانا ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت سندھ نے پچھلے کچھ سالوں میں شہر میں میگا پراجیکٹس کی فہرست مکمل کرلی ہے جس میں شاہرا فیصل کی وسعت اور بہتری، فوارہ چوک تا چڑیا گھر تک سڑک، کینٹ ریلوے اسٹیشن کی خوبصورتی اور آس پاس کے علاقوں کی بہتری شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ منزل پمپ فلائی اوور(این 5 پر)، حسان چوک سے صفورا گوٹھ تا یونیورسٹی روڈ، حب ندی روڈ، مدینۃ الحکمت روڈ، ڈرائیو روڈ انڈرپاس کو بھی تعمیر کیا گیا، طارق روڈ انڈرپاس جو 589.9 ملین روپے کی لاگت سے9 ماہ سے بھی کم عرصے میں مکمل کیا گیامراد علی شاہ نے کہا کہ بیگم رعنا لیاقت علی فلائی اوور جو 668.2 ملین روپے کی لاگت سے 7 ماہ میں مکمل کیا گیا، ٹیپو سلطان روڈ کی تعمیر نو 308.6 ملین روپے کی لاگت سے 5 ماہ میں مکمل کی گئی جبکہ سن سیٹ فلائی اوور 460.4 ملین روپے کی لاگت سے 5 ماہ میں مکمل کیا گیا۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ سید صبغت اللہ شاہ راشدی روڈ 693.5 ملین روپے کی لاگت سے 15 ماہ میں مکمل کیا گیا، کورنگی میں 12000 روڈ 1002.0 ملین روپے کی لاگت سے 9 ماہ میں مکمل کیا گیاہے۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں پانی کی فراہمی کی بہتر کرنے کے لیے بھی منصوبوں کو شروع کیا ہے اور پی آئی پی آر آئی فلٹر پلانٹ کو اپ گریڈ کرنا اور اورنگی/بلدیہ میں پانی کی فراہمی کی لائنیں بچھائی جائیں گی۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پانی اور نکاسی آب کے نظام میں بہتری لانا کراچی پیکج میں شامل ہیں اور شہر کراچی میں آگ بجھانا اور آفات سے نمٹنے کے لیے 104 میٹر اونچی اسنارکل، 10 فائر فائٹنگ مشینیں سندھ حکومت نے فراہم کی ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت ان کے بنیادی ڈھانچے کی دیکھ بھال کے لیے کے ایم سی کو بڑے پیمانے پر فنڈز فراہم کررہی ہے جبکہ کورنگی میں 8000 روڈ(شاہرائے دارلعلوم)، کورنگی ڈائی نمبر پر فلائی اوور کی تعمیر، کورنگی نمبر 5 پر تعمیراتی فلائی اوور،شہیدِ ملت حیدر علی جنکشن انڈر پاس کی تعمیر، لی مارکیٹ لیاری اور صدر ٹاون کے آس پاس سڑکوں کی تعمیر، اورنگی نالہ میں پل کی تعمیر و توسیع کے منصوبوں پر کام جاری ہے اور یہ اسی مالی سال میں مکمل کئے جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ حکومت سندھ کو کراچی کو مسابقتی اور لائق شہر بنانے کے کئے بین الاقوامی ڈونر ایجنسیوں اور مقامی شراکت داروں کے ساتھمل کر پی پی پی موڈ کے تحت بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کررہی ہے۔

بلاول

کراچی(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی عمران حکومت گرانے پر سندھ میں وزارتوں کی پیشکش کا جواب دے دیا۔ ترجمان ایم کیوایم پاکستان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت سے اتحاد وزارتوں کے لیے نہیں بلکہ کراچی کے مفاد کی خاطر کیا، وفاقی حکومت کی ڈیڑھ سالہ کارکردگی سے مطمئن نہیں تاہم حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ کسی کی خواہش پر نہیں کریں گے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم وزارتوں کے بجائے عوامی حقوق کی سیاست کررہی ہے، بلاول سندھ بالخصوص کراچی سے ناانصافیوں کاازالہ ایجنڈے میں شامل کریں اور مقامی حکومتوں کے نظام کو بااختیار بنائیں، پیپلز پارٹی مقامی حکومتوں کے اختیارکا قانون لائے تو متحدہ بھرپور ساتھ دے گی۔ایم کیو ایم کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ کراچی واٹر اینڈ سیورج بورڈ، کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے)، لیاری ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا شعبہ لوکل گورنمنٹ کے ماتحت کیا جائے۔متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کا کہنا ہے کہ سالانہ ساڑھے 300 ارب روپے صوبائی حکومت کو دینے سیکراچی کی تقدیر نہیں بدلی،جو ترقیاتی منصوبے وفاق یا سندھ حکومت نے شروع کیے ہیں وہ کراچی کے لیے ناکافی ہیں۔اس سے قبل میئر کراچی اور ایم کیو ایم کے رہنما وسیم اختر نے جیو نیوز سے گفتگو میں کہا تھا کہ بطور پارٹی لیڈر بلاول کی قدر کرتا ہوں، سارے اختیارات سندھ حکومت کے پاس ہیں لہٰذا مسائل کے حل کی ذمہ داری بھی سندھ حکومت کی بنتی ہے۔وسیم اختر کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کسی منصوبے میں تاخیر کرتی ہے تو سندھ حکومت پیسہ لگائے،کراچی کے مسائل کے حل کے لیے کسی کے ساتھ بھی بیٹھ سکتے ہیں۔

ایم کیو ایم

مزید : صفحہ اول