شدی سردی کے باعث گیس اور ایل پی جی کی طلب میں 250فیصد اضافہ 

  شدی سردی کے باعث گیس اور ایل پی جی کی طلب میں 250فیصد اضافہ 

  



لاہور(خبرنگار) سردی کی شدت کے باعث قدرتی گیس ڈیمانڈ میں اڑھائی گنا اضافہ، قدرتی گیس کی قلت پر ایل پی جی کی ڈیمانڈ بڑھ گئی جس کے ساتھ ہی ایل پی جی کا بھی مصنوعی بحران پیدا ہو گیا ہے اور ایل پی جی بلیک میں فروخت ہونے لگی ہے جس پر صارفین سراپا احتجاج بن کر رہ گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں گیس کی ڈیمانڈ اڑھائی گنا بڑھ گئی ہے اور قدرتی گیس کی قلت پیدا ہونے پر صارفین کو کھانے تیار کرنے کے اوقات میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس میں لاہور کے اکثر علاقوں میں گزشتہ روز بھی گیس کا پریشر ڈاؤن رہا ہے اور اس میں ہوٹلوں، تندوروں اور بیکریوں پر گزشتہ روز بھی رش رہا ہے جبکہ ایل پی جی سمیت متبادل ایندھن لکڑی اور کوئلے کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں جس میں ایل پی جی کی ڈیمانڈ بڑھنے پر ایل پی جی مافیا حرکت میں آ گیا ہے اور ایل پی جی بلیک میں فروخت کرنے لگے ہیں جس میں ایل پی جی اصل نرخ 129 روپے فی کلو کی بجائے 160 سے 170 روپے فی کلو میں فروخت ہونے لگی ہے جس پر صارفین نے شدید احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ ایک طرف قدرتی گیس کی شدید کمی ہے اور دوسری جانب سستے اور متبادل ایندھن جن میں ایل پی جی، لکڑیوں اور کوئلوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ اس پر حکومت کو نوٹس لینا چاہیے۔ دوسری جانب قدرتی گیس کی کمی کے باعث شہر گنجان آبادیوں میں گزشتہ روز بھی گیس کا پریشر ڈاؤن رہا ہے جبکہ پوش علاقوں میں گیس کے پریشر میں کمی کی شکایات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ سوئی گیس کمپنی کے ہیلپ لائن 1199 پر گزشتہ روز بھی گیس کے پریشر میں کمی اور پریشر ڈاؤن ہونے کی شکایات نے زور پکڑے رکھا ہے جبکہ ہوٹلوں، تندوروں اور بیکریوں پر بھی رش بڑھ کر رہ گیا ہے جس پر شہری بازاری کھانے استعمال کرنے پر متعددی امراض کا شکار ہونے لگے ہیں جس پر شہریوں نے حکومت سے گیس کی کمی کو دور کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ سوئی گیس حکام کا کہنا ہے کہ گیس کی ڈیمانڈ میں اڑھائی گنا اضافہ ہو گیا ہے جس میں گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی پہلی ترجیح ہے جس کے لئے ہرممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں اور جہاں گیس کے پریشر میں کمی کی شکایات مل رہی ہیں۔ فوری دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ سوئی گیس کمپنی لاہور ریجن کے جی ایم شہزاد اقبال لون نے کہا ہے کہ صارفین گیس کا کم سے کم استعمال کریں۔ گیس کااستعمال کھانے تیار کرنے کے لئے کیا جائے تو قلت کی شکایات پیدا نہیں ہو سکتیں۔ صارفین گیس ہیٹرز اور کمپریسر کا استعمال کرتے ہیں جس سے گیس کے پریشر میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔

گیس بحران

مزید : صفحہ اول


loading...