ضمانت سے کیس ختم نہیں ہوتا، کوئی چاہے جتنا بھی طاقتور ہو، جو کریگا وہ بھریگا: چیئر مین نیب

ضمانت سے کیس ختم نہیں ہوتا، کوئی چاہے جتنا بھی طاقتور ہو، جو کریگا وہ بھریگا: ...

  



اسلام آباد (این این آئی) چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا ہے کہ عنوانی ایک ایسی لعنت ہے جو تمام برائیوں کی جڑہے، قانون کے راستے میں کوئی مصلحت رکاوٹ نہیں بنے گی۔ کرپشن کرنے والوں کو ہر صورت جواب دہ ہونا پڑے گا۔ سفارش، دھمکی اور دبا نیب کے باہر ختم ہو جاتا ہے۔ نیب فیس نہیں کیس دیکھتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کوئی چاہے جتنا بھی طاقتور ہو، جو کرے گا وہ بھرے گا۔ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔ نیب کا تعلق کسی گروہ یا سیاسی جماعت سے نہیں بلکہ پاکستان سے ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ نیب کی کسی سے ذاتی رنجش نہیں ہے۔ نیب کو کسی کیخلاف غلط کیس بنانے کی ضرورت نہیں، ضمانت دینا متعلقہ عدالتوں کا اختیار ہے۔ ضمانت سے کیس ختم نہیں ہوتا عبوری ریلیف ملتا ہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ، بدعنوانی کے ملکی ترقی و خوشحالی پر مضر اثرات کے پیش نظر 1999 میں قومی احتساب بیورو کا قیام عمل میں لایا گیا تا کہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمے اور بدعنوان عناصر سے لوگوں کی حق حلال کی کمائی ہوئی لوٹی گئی رقم برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروایا جائے تاکہ بدعنوان عناصر کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جاسکے۔ نیب نے گزشتہ دوسال کے دوران مجموعی طور پر بدعنوان عناصر سے بلاواسطہ اور بلواسطہ لوٹے گئے 178ارب روپے وصول کر کے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب ہیڈکوارٹرز میں نیب اہلکاروں میں شاندار کرکردگی پرمیرٹ سرٹیفکیٹس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ اس تقریب کا مقصد بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنیوالے نیب افسران واہلکاران کی حوصلہ افزائی کرناہے۔نیب ہر شعبہ میں میرٹ پر عمل پیرا ہے اور یہ سرٹیفکیٹس میرٹ پر دئیے جا رہے ہیں۔نیب کے تمام افسران واہلکاران نے ادارے کی مجموعی کارکردگی میں اہم کردار اداکیاہے۔نیب افسران نے اپنی محنت،عزم اورحوصلے سے نیب کو فعال ادارہ بنادیاہے۔نیب افسران اسی کارکردگی کو جاری رکھیں گے اور قوم کی ملک سے بدعنوانی سے خاتمہ کیلئے امنگوں پر پورا اترنے کیلئے اپنی کوششیں دوگناکریں گے۔

چیئرمین نیب 

مزید : صفحہ اول