دالوں کی سالانہ پیداوار 10لاکھ ٹن، ملکی ضروریات 15لاکھ ٹن

    دالوں کی سالانہ پیداوار 10لاکھ ٹن، ملکی ضروریات 15لاکھ ٹن

  



اسلام آباد(اے پی پی) پاکستان میں دالوں کی سالانہ پیداوار 10لاکھ ٹن ہے جبکہ ملکی ضروریات 15لاکھ ٹن سالانہ ہیں‘طلب اور رسد میں توازن کے لئے سالانہ 5 لاکھ ٹن دالیں آسٹریلیا‘ کینیڈا سمیت دیگر ممالک سے درآمد کی جاتی ہیں‘ درآمدات پر سالانہ تقریباً ایک کھرب 54 ارب روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔زرعی ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان میں تقریباً 1.5ملین ایکڑ رقبہ پر دالیں کاشت کی جاتی ہیں جو کل زیر کاشت رقبے کا 6.7 فیصد ہے۔انہوں نے کہا کہ دالوں کے زیر کاشت رقبہ کے تناسب سے پنجاب کا حصہ 84 فیصد ہے جبکہ پیداوار میں پنجاب کا حصہ 85فیصد ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موسمی تبدیلیوں کے باعث دالوں کی پیداوار متاثر ہوئی ہے اور درآمدات میں اضافہ سے قومی خزانے پر بھاری بوجھ پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی معیشت ہے اور دالوں کی پیداوار میں اضافہ کے لئے خصوصی اقدامات کے ذریعے درآمدات میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔جس سے سالانہ لاکھوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ بچایا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آبادی میں اضافہ کے باعث دالوں کی طلب میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اس لئے بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے دالوں کے زیر کاشت رقبہ اور فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ناگزیر ہے جس کے لئے جامع حکمت عملی کے تحت منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔زرعی ماہرین نے مزید کہا کہ دالوں میں تقریباً 20 تا 24فیصد پروٹین پائی جاتی ہے جو انسانی غذا کا ایک اہم جزو ہے۔

مزید : کامرس


loading...