بی آئی ایس پی سے غیر مستحقین کونکالنے کا فیصلہ خوش آئند‘ اکانومی واچ

بی آئی ایس پی سے غیر مستحقین کونکالنے کا فیصلہ خوش آئند‘ اکانومی واچ

  



اسلام آباد (اے پی پی) پاکستان اکانومی واچ کے چیئرمین بریگیڈیئر (ر) محمد اسلم خان نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام(بی آئی ایس پی) سے مالی معاونت حاصل کرنے والے غیر مستحق افراد کونکالنے کے عمل کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ یہ ادارہ لاکھوں ایسے مستحقین کو مدد فراہم کر رہا ہے جن کے لئے امداد کے بغیر زندگی گزارنا ناممکن ہے تاہم سیاسی مداخلت کی وجہ سے لاکھوں ایسے افراد بھی امداد وصول کر رہے تھے جو اس کے اہل نہیں تھے جنھیں اس پروگرام میں رکھنا غریب عوام پر ظلم تھا۔بریگیڈیئر (ر) محمد اسلم خان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ 8 لاکھ سے زیادہ افراد کو پروگرام سے نکالا جا رہا ہے ان میں سرکاری ملازم، گاڑی مالکان،ایک یا ایک سے زیادہ غیر ملکی سفر کرنے والے، 12 ایکڑ سے زیادہ زمین کے مالک شامل ہیں جنھیں امداد دینا غلط تھا۔ان لوگوں نے امداد کے نام پر بھاری رقم وصول کی ہے جو غریب عوام کی حق تلفی ہے۔ انھیں غریبوں کی فہرست سے نکالنے سے سالانہ 16ارب روپے کی بچت ہو گی جو ضرورتمند افراد پر خرچ کی جا سکے گی۔ انھوں نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت اس پروگرام میں آپریشن کلین اپ پر سب سے زیادہ واویلا کر رہی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ عوام کے پیسے کے زیاں اور غریبوں کی حق تلفی میں وہی سب سے زیادہ ملوث ہے۔ ملک کے اس سب سے بڑے سوشل سیفٹی پروگرام کے تحت اب تک 700 ارب روپے غریبوں میں تقسیم کئے جا چکے ہیں اس منصو بہ کی تعریف متعدد غیر ملکی اداروں نے بھی کی ہے جبکہ حکومت کے حالیہ اقدامات سے بی آئی ایس پی مزید فعال ہو جائے گا۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ ادارے کو حقیقی معنوں میں خدمت کا فرض سرانجام دینے کے قابل بنانے کے لئے اس میں سیاسی مداخلت کا امکان ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔

مزید : کامرس


loading...