2019سوبز انڈ سٹری کیلئے اچھا رہا

  2019سوبز انڈ سٹری کیلئے اچھا رہا

  



لاہور(فلم رپورٹر)اْداس شاموں اور سرد طویل راتوں والا دسمبر جس طرح انسانی نفسیات پر اثر انداز ہوکر لہجوں کو اداسی اور دل کوغم میں مبتلا کرتا ہے، حقیقت اس سے کچھ مختلف بھی نہیں ہے کیونکہ سال کے اس آخری مہینے میں انسان کو گزرا ہوا پچھلا سارا سال یاد آجاتاہے۔ہرانسان اچھی چیزوں کو یاد کرکے خوش اور بری چیزوں کو یاد کرکے اداس ہوجاتا ہے۔بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو دسمبر میں اپنا احتساب بھی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اگر ہم 2019میں انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کی بات کریں تو یہ سال کافی اچھا رہا کیونکہ اس سال بھی فلم اور ٹی وی کے شعبے میں کافی ترقی ہوئی،نئی فلموں اور ڈراموں کے لئے کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کی گئی۔مجموعی طور پر یہ سال انڈسٹری کے لئے بہترین رہا لیکن اس سال ہمیشہ کی طرح ایسی بے شمار شخصیات بھی دنیا چھوڑ گئیں جن کی یاد ہمیشہ ان کے چاہنے والوں کو اداس کرتی رہے گی۔2019میں قومی زبان کی23فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں ڈائریکٹر عمار لاثانی کی’گم‘۔شعیب خان کی’جیک پاٹ‘۔کمال خان کی’لال کبوتر‘۔اظفر جعفری کی ’شیردل‘۔نادرشاہ کی’پراجیکٹ غازی‘۔نسیم حیدر شاہ کی’جنون عشق‘۔وجاہت رؤف کی’چھلاوا‘۔یاسر نواز کی’رانگ نمبر2۔ابو علیحہ کی’کتاکشا‘ثاقب ملک کی’باجی‘۔ہشام بن منور کی’ریڈی سٹیڈی نو‘۔سنگیتا کی’تم ہی تو ہو‘۔ابو علیحہ کی’تیور‘۔اظفر جعفری کی ’ہیر مان جا‘۔عاصم رضا کی’پرے ہٹ لو‘۔احتشام الدین کی’سپرسٹار‘۔اویس خالد کی’دال چاول‘۔شمعون عباسی کی’درج‘۔خلیل الرحمن قمر کی’کاف کنگناں‘۔ذیشان خان کی’تلاش‘ اور ذوالفقار شیخ کی’سچ‘شامل ہیں۔ان فلموں کے علاوہ لاہور کے چند فلم میکرز نے سنگل سکرین سینما گھروں کے لئے کم بجٹ والی چند فلمیں بھی پروڈیوس کیں۔اردو اور پنجابی کے علاوہ ملک میں پشتو فلمیں بھی ریلیز کی گئیں جن کا بزنس خاطر خواہ ہی تھا البتہ ان میں سے چند فلموں نے خاصی کامیابی حاصل کی۔س سال ریلیز ہونے والی فلموں کے پروڈیوسرز کی اکثریت نے اس بات کا دعویٰ کیا کہ ان کی فلم نے سب سے زیادہ بزنس کیاہے لیکن کامیابی کے اعتبار سے سال کی سب سے کامیاب فلم”سپرسٹار“ تھی جس نے 28کروڑ، پرے ہٹ لو 27کروڑ،رانگ نمبر22 کروڑ،چھلاوا15کروڑ،شیر دل13کروڑ،باجی12کروڑ اور ہیرمان جا نے11کروڑ روپے کا بزنس کیا۔2019میں کئی پاکستانی فلموں کو بین الاقوامی سطح پر ایوارڈ بھی دیئے گئے جن میں ’لال کبوتر‘ اور’باجی‘ قابل ذکر ہیں۔2019میں بہت سے پاکستانی فنکاروں نے زندگی کے نئے سفر کا آغازکیا جن میں اداکار شان بیگ بھی شامل ہیں جن کی شادی اس سال سب سے پہلے ہوئی۔ان کے بعد ایمان علی کی شادی بابر عزیز بھٹی سے ہوئی۔کراچی سے تعلق رکھنے والی اداکارہ ایشا نور نے بھی گھر بسالیا،معروف ماڈل آمنہ بابر نے بزنس مین زاہدنور سے شادی کی،ماڈل فائزہ اشفاق نے مہوش حیات کے بھائی دانش حیات سے لومیرج کی۔ماڈل آئمہ مشتاق کی شادی عروہ حسین کے بھائی انس یزدان سے ہوئی۔لاہور سے تعلق رکھنے والی معروف اداکارہ ماہ نور نے زندگی کے نئے سفر کا انتخاب کیا۔ماڈل دیا علی نے دبئی جبکہ ٹی وی اداکارہ ردا اصفہانی نے کراچی میں شادی کی،ٹی وی کی معروف اداکارہ ثنیہ شمشادحسین نے بھی شادی کرلی،حمزہ علی عباسی اور اداکارہ نیمل خاور کی شادی بھی اس سال کی ایک بڑی خبر تھی،اداکارہ ناہید شبیر نے بھی دوسری شادی کرلی،بشریٰ دوست بلوچ نے ٹی وی اینکر عدنان حیدر سے شادی کی۔اداکارہ میراسیٹھی نے بھی گھربسالیا جن کی شادی لاہور میں دھوم دھام سے ہوئی۔صنم چوہدری کی شادی بھی اسی سال منظر عام پر آئی جو انہوں نے خاموشی سے اسلام آباد میں کی تھی۔

،ماڈل ثناسرفرازبھی اسی سال شادی کی۔لاہور سے تعلق رکھنے والی اداکارہ مہرین شاہ نے بھی گھر بسالیا۔فیشن ڈیزانئر علی ذیشان نے بھی شادی کرلی۔اس سال کئی فنکاروں کے گھروں میں بچوں کی پیدائش بھی ہوئی جن میں مہرین سید کے گھر بیٹا،فیروزخان کے گھر بھی بیٹا،ایمن خان اور منیب بٹ کے گھر بیٹی،اور آمنہ بابر کے گھر بھی بیٹی کی پیدائش ہوئی،عاطف اسلم کے گھر دوسرے بیٹے کی پیدائش ہوئی۔اس سال آمنہ شیخ اور محب مرزا کی طلاق کی تصدیق بھی ہوئی جبکہ طرف محسن عباس حیدر اورفاطمہ سہیل نے بھی راستے الگ کرلئے۔ایک دوسرے پر مختلف الزامات کے بعد دونوں نے الگ ہونے کا فیصلہ کیا اور فاطمہ سہیل نے خلع کے ذریعے راستہ الگ کرلیا۔سال 2019میں جہاں انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو بہت سی خوشیاں ملیں وہیں بہت سے لوگ ہمیشہ کے لئے داغ مفارقت دے کر سب کو اداس کرگئے جن میں اداکارہ صفیہ خیری،گلاب چانڈیو،روحی بانو،خاور بٹ،ڈائریکٹرثاقب صدیقی،مردان سے تعلق رکھنے والی مشہور اداکارہ گلالئی کو قتل کردیا گیا۔گلوکارہ شہنازبیگم بنگلہ دیش میں انتقال کرگئیں،پی ٹی وی لاہور کے پروڈیوسر افتخار مجاز بھی دنیا چھوڑ گئے۔اسی سال ہم سے جدا ہونے والے دیگر افراد میں ٹی وی کے معروف ڈائریکٹر عاطف حسین،ڈاکٹر جمیل جالبی، ڈاکٹر انورسجاد،موسیقار نیازاحمد،نغمہ نگار نثارناسک،اداکارہ ذہین طاہرہ،اداکار ہمایوں گیلانی،حمایت علی شاعر،تنویر کاظمی، اداکار عابد علی،ساجد پرویز غوری،اشرف راہی اور وکیل فاروقی شامل ہیں۔اسی سال اداکارہ رابی پیرزادہ اور ماڈل ثمرہ چوہدری کے وڈیو سکینڈل بھی منظر عام پر آئے۔ویسے تو اس سال تما م چینلز پر بے شمار ڈرامے پیش کئے گئے لیکن ہمایوں سعید کی پروڈکشن کے ڈرامے”میرے پاس تم ہو“ نے کامیابی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیئے جس کی کہانی خلیل الرحمن قمر نے تحریر کی ہے۔اس سال ہمیشہ کی طرح پاکستان فیشن انڈسٹری کی سرگرمیاں بھی عروج پر رہیں۔

مزید : کلچر