سال 2019،شہر قائد میں بینک ڈکیتی کی 3وارداتیں ہوئیں

سال 2019،شہر قائد میں بینک ڈکیتی کی 3وارداتیں ہوئیں

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)رواں سال کے دوران بھی ملزمان نے تین بینکوں کاصفایاکردیا۔سی سی ٹی وی ویڈیومیں ملزمان کے چہرے واضح ہونے کے باوجودملزمان پولیس کی گرفت میں نہ آسکے۔شہرمیں رواں سال جہاں موٹرسائیکلیں،کاریں چھیننے کے واقعات ہوئے وہیں بینک ڈکیتیوں کی وارداتیں بھی ہوئیں۔29 جنوری کوڈی ایچ اے میں محافظوں نے اپنے ہی بینک کے لاکرزساتھیوں کے ساتھ گیس کٹرسے کاٹ لیے۔بینک میں موجودکیش اور22لاکروں سے اور65 لاکھ روپے لے اڑے۔دوسری واردات 4مارچ کوگلشن اقبال کے علاقے میں ہوئی۔ بینک ڈکیت کوئی اورنہیں بلکہ اپنا سیکیورٹی گارڈنکلا۔ لاکھوں روپے نقدی اورلاکرزمیں رکھے طلائی زیوارات لے کرفرارہوا۔طریقہ کاروہی پرانااستعمال ہواگیس کٹرسے لاکرکاٹے گئے۔ تیسری اورآخری واردات ناظم آبادکے علاقے میں 24جولائی کوہوئی۔ واردات6ملزمان پرمشتمل گروہ نے کی۔ بینک سیکیورٹی گارڈزکویرغمال بنایااورچالیس لاکھ سے زائدکی رقم لوٹ کرفرارہوگئے۔رواں سال ہونیوالی ڈکیتی کی وارداتوں میں پولیس سیکیورٹی گارڈزکامکمل ڈیٹا،سی سی ٹی وی اورملزمان کے چہرے واضح نظرآنے کے باوجودملزمان تک پہنچنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ پولیس حکام کاکہناہے کہ گزشتہ سال کی نسبت رواں سال بینک ڈکیتیوں کی شرح میں واضع کمی دیکھنے میں آئی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر