سا ل 2019، سندھ میں ایک ہزار سے زائد پولیس مقابلے، 48ملزمان ہلاک 

سا ل 2019، سندھ میں ایک ہزار سے زائد پولیس مقابلے، 48ملزمان ہلاک 

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)آئی جی سندھ ڈکٹرسید کلیم امام نے سال2019ء کے دوران سندھ پولیس کے تمام شعبہ جات کی جرائم کے خلاف کارکردگی کو سراہتے ہوئے شاباش دی اور قیام امن کی خاطرشہدائے سندھ پولیس کی خدمات کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انکی قربانیوں کو سیلیوٹ پیش کیا۔آئی جی سندھ کو پولیس اسٹریٹیجی اور لائحہ عمل کے تحت اٹھائے گئے مؤثر اور مربوط اقدامات کی بدولت صوبے بھر سے مجموعی طور پر49834 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ اے آئی جی آپریشنز سندھ کی رپورٹ کے مطابق جرائم کے خلاف سندھ کی سطح پر جاری جنگ اورمختلف علاقوں میں ملزمان اور پولیس کے مابین ہونیوالے 1114 پولیس مقابلوں میں 1534ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتارکیاگیا جبکہ مجموعی طور پر سندھ بھر سے جرائم پیشہ عناصر کے 504 گروہوں کوختم کیا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال2019ء کے دوران 13697اشتہاری، جبکہ20976مفرورملزمان کو گرفتارکرنیکے علاوہ سندھ بھر سے 21ٹارگٹ کلرز، 06خطرناک ڈکیت،39دہشت گردوں اور13547ڈکیت/ملزمان کوبھی گرفتار کیا گیا۔جبکہ پولیس کی دفاعی فائرنگ کے نتیجے میں 48ملزمان/ڈکیت/ٹارگٹ کلرز/دہشت گرد/اغواء کار ہلاک ہوئے۔پولیس نے مختلف کاروائیوں کے نتیجے میں گرفتار/ہلاک ملزمان کے قبضہ سے 04 اینٹی ایئرکرافٹ گنز،03جی تھری،06ایم پی فائیو،213 ایس ایم جیز/KK،749شاٹ گنز/ریپیٹرز،167رائفلز،9530 پستول/ریوالورز/ماؤذر،37527کارٹریجز/ایمیونیشن،08خودکش جیکٹس،31عددتیاربم،02 آئی ای ڈیز، 17 راکٹس،412ہینڈگرنیڈز،42میزائل،665فیوز/ ڈیٹونیٹرز،50 عدد بم بنانیکے آلات اور219.9کلوگرام دھماکا خیز مواد برآمد ہوا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ آئی جی سندھ کے امن وامان کے حالات پر مؤثر کنٹرول اورجرائم کی بیخ کنی کے حوالے سے واضح احکامات پرسندھ کی سطح پرسال2019ء کے دوران مفرور،اشتہاری ملزمان،منشیات اور غیرقانونی اسلحہ کے سمیت دیگر جرائم کے خلاف بالترتیب مہمیں چلائی گئیں جبکہ کمیونٹی پولیسنگ کے فروغ اور سیکیورٹی اقدامات میں نمایاں بہتری کے حوالے سے بھی مہم چلائی گئی۔علاوہ اذیں کمیونٹی پولیس کے دوران سندھ کی سطح پرمختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد علاقہ معززین معروف شخصیات ودیگراسٹیک ہولڈرز سے ملاقاتیں /لیکچرز/ ورکشاپش/سیمینارز کے ساتھ ساتھ کھلی کچہریوں میں عوام کے مسائل بھی ضلعی پولیس افسران نے سنیں اور فوری حل کے لیئے اقدامات بھی اُٹھائے گئے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر