نیب آرڈیننس کا مقصد کاروبار بڑھانا، نئی فیکٹریاں لگانا، جس نے کرپشن کی احتساب سے نہیں بچے گا: عمران خان 

نیب آرڈیننس کا مقصد کاروبار بڑھانا، نئی فیکٹریاں لگانا، جس نے کرپشن کی ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ نیب آرڈیننس کا مقصد پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانا ہے تاکہ فیکٹریاں لگائی جا سکیں۔خواجہ سراؤں میں صحت انصاف کارڈ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ خواجہ سراؤں کو سہولتیں دیں گے، انصاف کارڈ بھی دیں گے۔ ہماری حکومت خواجہ سراؤں کو اپنا رہی ہے، خواجہ سرا بڑی مشکلات سے گزرتے ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارا خواب انصاف کا نظام پیدا کرنا تھا، کوشش تھی کہ مشکل معاشی حالات کے اندر کمزور طبقے اور غریب طبقے کو صحت کارڈ دینے کا فیصلہ کیا، اس کا مقصد غریب عوام ہسپتال میں جا کر اپنا علاج کرا سکے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ہیلتھ کارڈ کے ذریعے تمام طبی سہولتیں میسر ہوں گی۔ مشکل وقت میں پریشانی نہیں ہو گی۔ حکومت کمزور طبقے کو اوپر اٹھائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو 2019ء  میں برے معاشی حالات ملے، ایک وقت میں روپیہ بہت تیزی سے گر رہا تھا، اس کے بعد مہنگائی آئی جس کا عوام تصور بھی نہیں کر سکتے تھے یہ مہنگائی آئے گی، 2020ئکے دوران نوکریاں پیدا کریں گے، ہم اپنی انڈسٹری چلوائیں، نیب آرڈیننس کا مقصد بزنس بڑھانا ہے تاکہ فیکٹریاں لگائی جائیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ احساس پروگرام کو بڑھانے لگے ہیں، یوٹیلیٹی سٹورز پر اشیائے خوردو نوش سستی کریں گے، لنگر خانے مزید کھولیں گے، نوجوانوں کو مزید قرض دیں گے۔ اس سے قبل نیب آرڈیننس کے معاملے پر اکثر وزرا نے وزیراعظم سے شکوہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پر مشاورت ہونی چاہیے تھی۔دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اہم اجلاس میں حکومتی وزرا کا کہنا تھا کہ کسی بھی قانون سازی پر حکومتی بیانیہ سے متعلق مشاورت پہلے ہونی چاہیے جبکہ کسی بھی قانون سازی پر پہلے کابینہ میں بحث کروائی جائے۔وزرا کا کہنا تھا کہ اتفاق رائے اور مشاورت کے بعد ایسی قانون سازی عمل میں لائی جائے۔ قانون سازی سے قبل مشاورت سے حکومتی موقف کو تقویت مل سکے گی۔ کسی بھی قانون سازی سے قبل آئندہ میڈیا سٹریٹجی بنائے جائے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے وزرا کے شکوے شکایات سننے کے بعد واضح ہدایات جاری کیں کہ کسی بھی قانون سازی کے معاملہ پر آئندہ کابینہ کو اعتماد میں لیا جائے۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کرپشن کرنے والا سزا کا حق دار، نیب آرڈیننس پر ردعمل سب کے سامنے ہے، کسی قیمت پر احتساب سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ وزیراعظم کے زیر صدارت میڈیا سٹریٹجی اجلاس ہوا جس میں نیب ترمیمی آرڈیننس پر ردعمل کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر شرکا سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ احتساب سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ نیب آرڈیننس پر جو ردعمل آیا، وہ سب کے سامنے ہے۔وزیراعظم نے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ جس نے کرپشن کی وہ سزا بھگتے گا۔ ہم نے معیشت کی بہتری کیلئے انتھک کوشش کی۔ 2020ء  میں عام آدمی کی بہتری کیلئیاقدامات کریں گے اور معیشت میں بہتری کے ثمرات عوام تک پہنچائیں گے۔قانونی ٹیم نے نیب ترمیمی آرڈیننس پر حکومتی رہنماؤں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ نیب آرڈیننس میں ترمیم کسی کو فائدہ پہنچانے کے لئے نہیں، اب بزنس کمیونٹی اور ٹیکس سے متعلق معاملات ایف بی آر دیکھے گا۔اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ نیب آرڈیننس سے متعلق حکومت کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا گیا، جس نے کرپشن کی وہ سزا بھگتے گا، احتساب سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، نیب قوانین میں اصلاحات خود اپوزیشن کا بھی مطالبہ رہا ہے، لیکن اپوزیشن پارلیمنٹ میں قانون سازی کے بجائے ذاتی کیسز کا دفاع کرتی ہے۔عمران خان نے مزید کہا کہ معاشی ٹیم کی محنت کی بدولت 2019 میں معیشت کو استحکام ملا، 2020 میں عام آدمی کو معیشت کی بہتری کے ثمرات ملیں گے۔وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں  صحت کی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے حکومتی اقدامات اور نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لیاگیا۔وزیر اعظم عمران خان سے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا، چیئرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی لیفٹنٹ جنرل (ر) انور علی حیدر نے ملاقات  کی چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی بھی ملاقات میں موجود  تھے۔ملاقات میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے حکومتی اقدامات اور نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لیا  دریں اثناحکومت نے سال 2019 کی کارکردگی رپورٹ عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعظم کی زیر صدارت میڈیا کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزراء اسد عمر،ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان،شفقت محمود مراد سعیدشریک ہوئے۔اجلاس میں سینیٹر فیصل جاوید، معاون خصوصی معید یوسف اور دیگر ارکان نے  شرکت کی ، ذرائع کے مطابق نیب ترمیمی آرڈیننس پر کیا بیانیہ ہوگا، کمیٹی میں مشاورت مکمل کرلی گئی۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے سال 2019 کی کارکردگی رپورٹ عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ سال بھر میں معاشی اور سفارتی کامیابیوں کو اجاگر کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ شیلٹر ہوم اور احساس پروگرام کو بھی اجاگر کیا جائے ۔ اجلاس میں ملک میں جاری احتساب کے عمل پر بھی بات بھی تبارلہ خیال کیا گیا۔درین اثناوزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا آر ایس ایس اورہندوتوا نظریات پرمبنی خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔وزیراعظم عمران خان سے معروف کشمیری کارکن ٹونی ایشاء  نے ملاقات کی جس میں کشمیریوں پربھارتی ظلم و ستم اور مسئلہ کشمیراجاگر کرنے کی کوششوں کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔ٹونی ایشاء  نے وزیراعظم کو امریکہ میں مسئلہ کشمیراجاگر کرنے کے حوالے سے کوششوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم کی جانب سے کشمیر کا مسئلہ اٹھانے سے بھارت کی نام نہاد جمہوریت کا پردہ فاش ہوا، مقبوضہ کشمیر کے عوام وزیرِ اعظم عمران خان کی مسلسل کوششوں پرتہہ دل سے شکر گزار ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ عالمی برادری کو مودی سرکار کے ایجنڈے اور خطے کے امن پرمہلک اثرات کا ادراک کرنا ہوگا، کشمیر کا مقدمہ ہر فورم پر اٹھانے اور ان کی آواز بننے کے لئے پرعزم ہیں، راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اورہندوتوا نظریات پرمبنی خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔،عالمی برادری کو مودی سرکار کے ایجنڈے اور خطے کے امن پر مہلک اثرات کا ادراک کرنا ہوگا،پاکستانی عوام اور حکومت پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔ پیر کو وزیرِ اعظم عمران خان سے معروف کشمیری کارکن ٹونی ایشاء نے ملاقات کی جس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے نہتے کشمیریوں پرکیے جانے والے ظلم و ستم، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں  اور مسئلہ کشمیر خصوصاً موجودہ حالات کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوششوں کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔ بات چیت کے دوران ٹونی ایشاء نے کہا کہ مقبوضہ کمشیر کی عوام کشمیر کا مسئلہ عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور بھارتی جبر و ستم اور خطے پر اس کے مہلک اثرات کے بارے میں اقوام عالم کی توجہ دلانے کے سلسلے میں وزیرِ اعظم عمران خان کی  مسلسل کوششوں پر تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔  وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان ناقابلِ تصور خوبصورتی سے آراستہ وہ سرزمین ہے جہاں قدرتی عجائب کا خزانہ پوشیدہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ ناقابل تصور جمال سے آراستہ پاکستان وہ دھرتی ہے جس کی خاک میں قدرتی عجائب کا خزانہ پوشیدہ ہیں اور جس کا دامن غیر دریارفت شدہ سیاحتی استعداد سے بھرا ہوا ہے۔وزیراعظم نے مذکورہ ٹوئٹ ٹریول میگزین ونڈر لسٹ کی جانب سے پاکستان کے 9 مقامات کو 2020 میں ایڈونچررز کی فہرست میں شامل کرنے کے بعد کیا جس میں ہمالیہ کی وادیوں سے لے کر کیچڑ کے آتش فشاں شامل ہیں۔ٹریول میگزین نے 2020 میں سفر کر نے والے مقامات کی فہرست میں پاکستان کے مقامات کو شامل کیا جہاں غیر معمولی قدرتی خوبصورتی موجود ہے۔وانڈر لسٹ نے سیاحتی مقامات میں پاکستان کے شمالی علاقوں میں دنیا کے طویل ترین بالتورو گلیشیئر جو 63 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے، 800 میٹر اونچے ٹرینگو ٹاورز، دنیا کی بلند ترین پہاڑی میدان دیوسائی، وادی ہنز، عطا آباد جھیل، وادی نیلم،جھیل سیف الملوک اور ملک کے مغربی اور جنوبی حصے میں واقع صحرائے تھر اور ہنگول نیشنل پارک شامل ہیں۔گزشتہ ہفتے پاکستان ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن (پی ٹی ڈی سی) نے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے باہمی تعاون کے ساتھ ایک مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا تھا تاکہ ’قومی سیاحتی حکمت عملی‘ کو حتمی شکل دی جاسکے۔ورکشاپ کے دوران نیشنل ٹورزم کوآرڈینیشن بورڈ (این ٹی سی بی) کے اراکین، نجی شعبے سے وابستہ سیاحتی ماہرین اور دیگر نے اس حوالے سے تجاویز دی تھیں۔

عمران خان

مزید : صفحہ اول