سندھ میں پیدا ہونیوالی قدرتی گیس پر پہلا حق صوبے کا ہے: مراد علی شاہ 

سندھ میں پیدا ہونیوالی قدرتی گیس پر پہلا حق صوبے کا ہے: مراد علی شاہ 

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ میں پیدا ہونے والی قدرتی گیس پر پہلا حق اس صوبے کا ہے لیکن گیس کے بحران کے باعث لوگوں کے چولہے ٹھنڈے اور صنعت کاروں کے بوائلر بند ہیں،انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ عوام کا اسی طرح ساتھ برقرار رہا تو وہ تمام عوامی مسائل کرے گی اور بلاول بھٹو زرداری 2020میں ملک کے وزیر اعظم بنیں گے۔انہوں نے یہ بات پیر کو کراچی میں چیئرمین پی پی کی جانب سے سندھ حکومت کے میگا منصوبوں کی افتتاحی تقریب کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں صوبائی وزیربلدیات ناصر شاہ،نثار احمدکھوڑو، سعید غنی، میئر کراچی وسیم اختر، ڈپٹی چیئرمین سینٹ سلیم مانڈوی والا، وقار مہدی، راشد ربانی اور دیگر شخصیات شریک ہوئیں۔کورنگی میں افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کا شکرگزار ہوں جنہوں نے ان 4 منصوبوں کا افتتاح کیا۔انہوں نے کہاکہ کراچی کینٹ اسٹیشن کے اطراف کی سڑکوں کی صورتحال خراب تھی ہم نے ا ن سڑکوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ پانی اور نکاسی آب کی لائین بھی بچھائی ہیں۔ وزیراعلی نے کہا کہ کینٹ اسٹیشن کے اندر سڑکوں کی تعمیر ہمارا کام نہیں تھا؛ لیکن ہم نے یہ کام بھی کیا۔ان کا کہناتھا کہ یہ ابھی جو منصوبے مکمل کئے گئے ہیں ان کی لاگت 1.5 بلین روپے سے زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ میئر نے اپنی تقریر مین پانی، نکاسی آب اور سڑکوں کی بات کی۔ہمارے وسائل بہت کم ہیں، ہم نے اس لئے ورلڈ بینک کی مدد سے کراچی کیلئے 230 ملین ڈالرز کے منصوبے کر رہے ہیں، ان پروجیکٹس میں ڈی ایم سیز، کے ایم سی اور ڈسٹرکٹ کنسل کے افسران کی صلاحیتیں بڑھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ورلڈ بینک کے ساتھ ییلو لائن 335 ملین ڈالرز سے شروع کرنے جا رہے ہیں جبکہ ریڈ لائن ایشین بینک کے تعاون سے 455 ملین ڈالرز کا پروجیکٹ ہے وہ بھی شروع کرنے جا رہے ہیں، مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے 162 بلین روپے کی بات کی تھی اگر وہ دیں تو اچھا ہوگا۔سندھ میں گیس کے بحران کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ گیس کی کمی ہر گھر کا مسئلہ بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آرٹیکل 158 کی بات کرتے ہیں جس کی رو سے جو گیس سندھ سے پیدا ہوتی ہے اس پر پہلا حق اس صوبے کا ہے۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ صوبے نے ایل این جی خریدنے سے پہلے ہی منع کردیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کو گیس کی ضرورت ہے تو آپ صنعتکاروں کے لئے ایل این جی خریدیں، ہم اپنی قدرتی گیس دے کر باہر سے کیوں خریدیں؟ وزیراعلی نے وفاقی حکومت سے کہا کہ آپ ہماری گیس سے سندھ کی ضرورت پوری کریں باقی آپ لے جانا چاہتے ہیں تولے جائیں، اس وقت گیس کی کمی کی وجہ سے شدید بحران ہے، گھروں کے چولہے اور صنعتکاروں کے بوائلرز بند ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آپ کاساتھ رہے گا تو تمام مسائل حل کرینگے۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ 2019 گزر گیا سال 2020 میں بلاول بھٹو زرداری وزیراعظم ہونگے۔چیئرمین پی پی نے جن میگا منصوبوں کا افتتاح کیا ان پررواں سال کام شروع کیا گیا تھا جسے قلیل عرصے میں مکمل کیا گیا۔ کورنگی ڈھائی نمبر پر 33 کروڑ روپے لاگت سے پل کو تعمیر کیا گیا ہے،کورنگی پانچ نمبر پر 33 کروڑ چالیس لاکھ کی لاگت پل کی تعمیر ہوئی، حیدر علی انڈرپاس کی تعمیر پر 66 کروڑ دس لاکھ روپے کی لاگت آئی،کینٹ اسٹیشن کے اطراف میں سڑکوں کی تعمیرات پر لاگت 42 کروڑ بیس لاکھ رقم خرچ کی گئی۔ سندھ حکومت نے ایک ارب 74 کروڑ 70 لاکھ روپے کی لاگت سے چار منصوبے مکمل کئے۔

کراچی(این این آئی)وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہاہے کہ ملک کی بقا کے لیے سندھ کا اہم کردار ہے، صوبہ کی عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔پیرکووزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری بیان میں سیدمراد علی شاہ نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے کراچی کے لیے گز شتہ مالی سال میں بہت سارے میگا پراجیکٹس شروع کیے، کراچی میگا پراجیکٹس کا مقصد ٹریفک کی بھیڑ کو کم کرنا اور شہر کے بنیادی ڈھانچے کو عوام کے لیے آسان بنانا ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت سندھ نے پچھلے کچھ سالوں میں شہر میں میگا پراجیکٹس کی فہرست مکمل کرلی ہے جس میں شاہرا فیصل کی وسعت اور بہتری، فوارہ چوک تا چڑیا گھر تک سڑک، کینٹ ریلوے اسٹیشن کی خوبصورتی اور آس پاس کے علاقوں کی بہتری شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ منزل پمپ فلائی اوور(این 5 پر)، حسان چوک سے صفورا گوٹھ تا یونیورسٹی روڈ، حب ندی روڈ، مدینۃ الحکمت روڈ، ڈرائیو روڈ انڈرپاس کو بھی تعمیر کیا گیا، طارق روڈ انڈرپاس جو 589.9 ملین روپے کی لاگت سے9 ماہ سے بھی کم عرصے میں مکمل کیا گیامراد علی شاہ نے کہا کہ بیگم رعنا لیاقت علی فلائی اوور جو 668.2 ملین روپے کی لاگت سے 7 ماہ میں مکمل کیا گیا، ٹیپو سلطان روڈ کی تعمیر نو 308.6 ملین روپے کی لاگت سے 5 ماہ میں مکمل کی گئی جبکہ سن سیٹ فلائی اوور 460.4 ملین روپے کی لاگت سے 5 ماہ میں مکمل کیا گیا۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ سید صبغت اللہ شاہ راشدی روڈ 693.5 ملین روپے کی لاگت سے 15 ماہ میں مکمل کیا گیا، کورنگی میں 12000 روڈ 1002.0 ملین روپے کی لاگت سے 9 ماہ میں مکمل کیا گیاہے۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں پانی کی فراہمی کی بہتر کرنے کے لیے بھی منصوبوں کو شروع کیا ہے اور پی آئی پی آر آئی فلٹر پلانٹ کو اپ گریڈ کرنا اور اورنگی/بلدیہ میں پانی کی فراہمی کی لائنیں بچھائی جائیں گی۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پانی اور نکاسی آب کے نظام میں بہتری لانا کراچی پیکج میں شامل ہیں اور شہر کراچی میں آگ بجھانا اور آفات سے نمٹنے کے لیے 104 میٹر اونچی اسنارکل، 10 فائر فائٹنگ مشینیں سندھ حکومت نے فراہم کی ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ  نے کہا کہ سندھ حکومت ان کے بنیادی ڈھانچے کی دیکھ بھال کے لیے کے ایم سی کو بڑے پیمانے پر فنڈز فراہم کررہی ہے جبکہ کورنگی میں 8000 روڈ(شاہرائے دارلعلوم)، کورنگی ڈائی نمبر پر فلائی اوور کی تعمیر، کورنگی نمبر 5 پر تعمیراتی فلائی اوور،شہیدِ ملت حیدر علی جنکشن انڈر پاس کی تعمیر، لی مارکیٹ لیاری اور صدر ٹاون کے آس پاس سڑکوں کی تعمیر، اورنگی نالہ میں پل کی تعمیر و توسیع کے منصوبوں پر کام جاری ہے اور یہ اسی مالی سال میں مکمل کئے جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ حکومت سندھ کو کراچی کو مسابقتی اور لائق شہر بنانے کے کئے بین الاقوامی ڈونر ایجنسیوں اور مقامی شراکت داروں کے ساتھمل کر پی پی پی موڈ کے تحت بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کررہی ہے۔

مراد علی شاہ

مزید : صفحہ اول


loading...