آگے بڑھیں ، شرم و جھجک دور کریں

آگے بڑھیں ، شرم و جھجک دور کریں
آگے بڑھیں ، شرم و جھجک دور کریں

  



 انسانوں ہی سے بنے اس معاشرے میں رہتے ہوئے  ہمیں بہت کچھ نظر انداز کرنا پڑتا ہے ، کبھی طنز کے تیر برداشت کرنا ہوتے ہیں تو کبھی تعلقات بچانے کے لئے ڈپلومیسی یا مصلحت سے بھی کام لینا ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ لوگ آج کل صاف گوئی اور ایمانداری کو زیادہ پسند نہیں کرتے ۔بہرحال شرم و جھجک ہماری ذات کا ایک ایسا نہاں پہلو ہوتا ہے جو ہماری پوری شخصیت کو عیاں کر دیتا ہے ۔ شرم اور جھجک یہ دونوں چیزیں ایسی ہیں جو ہر انسان میں کسی نہ کسی حد تک موجود ہوتی ہیں ۔کسی کے چہرے پر شادی کے ذکر سے ہی لالی آجاتی ہے تو کوئی نوکری کے وقت افسران بالا کے سامنے کانپنے لگتا ہے ۔ اب یہ شرم اور جھجک کیسے دور کی جا سکتی ہے اس کے حل بہت ہی آسان ہیں ۔

زندگی جستجو کا نام ہے اور آپ تب تک ہی زندہ کہلا سکتے ہیں جب تک  آپ میں آگے بڑھنے اور کچھ کر گذرنے کی لگن ہو ۔ پہلے ہمیں یہی جاننا ہو گا کہ ایک ہوتی ہے شرم اور جھجک اور ایک ہوتا ہے گریز ۔۔۔گریز کو کبھی شرم و جھجک سے ملایا نہیں جا سکتا ۔شرم و جھجک تو یہ ہے کہ آپ کسی سے بات کرنا چاہتے ہیں لیکن آپ میں کسی کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہے اور دوسری طرف ہے گریز ، یعنی آپ بالکل کسی بھی شخص سے بات کرنے میں انٹرسٹڈ نہیں ہیں اور کسی بھی قسم کا تعلق نہیں رکھ رہے لہذا گریز کو شرم قرار دینا غلط ہے ۔

اسی طرح سے یہ بھی ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ ہر بندہ ہر جگہ پر شرمیلا نہیں ہوتا ، ہو سکتا ہے کہ کوئی بھی فرد باہر بہت اچھا دوست ہو اور گھر میں رہ کر چپ رہتا ہو۔ اسی طرح جس ادارے میں آپ کام رہے ہوتے ہیں وہاں بہت سے سال میں آپ کا ایک امیج بن چکا ہوتا ہے لہذا آپ اسی طرح بی ہیو کرتے ہیں اور وہاں نسبتا آپ میں جھجک کم ہوتی ہے ۔ہمارے اکثر گھروں میں ایک بچے کا مقابلہ دوسرے بہن بھائیوں یا دوستوں کے بچوں سے کیا جاتا ہے ، رشتے داروں کو لے کر بھی باتیں ہوتی ہیں ۔ جس سے بھی بچوں میں کئی طرح کے کمپلیکس جنم لیتے ہیں اور شرم وحیا پیدا ہونے لگتی ہے ۔

اسی طرح بچوں کوتعلیمی اداروں میں بھی امیتازی سلوک کا سامنا رہتا ہے اور پھر ایسے شرمیلے بچے دفترو ں میں بھی جا کر جھجک یا ہچکچاہٹ کا  ہی شکار رہتے ہیں۔ان تمام مسائل سے نمٹنے کے لئے پہلے تو بچوں کو گھر ہی سے اعتماد ملنا چاہیے ان کی بات سننے کا حوصلہ ہونا چاہیے اور ان پر توجہ دینی چاہیے ۔ بچوں سے کوئی کام غلط ہوجاتا ہے تو ڈانٹ ڈپٹ کے بجائے محبت کا سلوک ہونا چاہیے تاکہ وہ کوئی بات شرم کی وجہ سے آپ سے چھپا نہ سکے ۔ہر بچہ جداگانہ صلاحیتوں کا مالک ہوتا ہے اسلئے بہن بھائیوں اور عزیز و اقربا کا مقابلہ درست نہیں ۔ نئے لوگوں کے ساتھ جاب یا بات چیت کرتے ہوئے پہلے آپ ان کے موڈ کو پرکھنے کی کوشش کریں پھر دوست بنائیں ۔ ہمیشہ بناوٹ اور جھوٹ سے بچنے کی کوشش کریں کیونکہ حقیقی جذبات کی ہمیشہ قدر ہوتی ہے ۔

جب تک آپ کا مطالعہ وسیع نہیں ہوگا یا آپ انسانی رویوں کو نہیں سمجھیں گے تب تک آپ شرمیلے ہی رہیں گے ۔ اپنا خود روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لیتے رہیں اور جہاں آپ کو لگے کہ جو صورتحال یا چیز آپ کے موافق نہیں یا آپ کو شرمیلا بنا رہی ہے ان عادات کو چھوڑنے کی کوشش کیجئیے ۔ یاد رکھیں کہ کوشش اور مسلسل محنت سے ناممکن کا حصول ممکن ہے اسلئے آگے بڑھنے کے لئے بہتر اور مثبت انداز سے سوچنے کی راہ اپنائیں کیونکہ دنیا پرعزم ، حوصلہ مند اور پر اعتماد لوگوں کی پذیرائی کرتی ہے  ۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ


loading...