ایک غلط فیصلہ، تاریخ بدل دیتا ہے؟

ایک غلط فیصلہ، تاریخ بدل دیتا ہے؟
ایک غلط فیصلہ، تاریخ بدل دیتا ہے؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


یہ 1985ء کا دور تھا، جب جنرل ضیاء الحق نے عام انتخابات کا اعلان کیا، اس سے قبل وہ 1979ء میں پہلے اور پھر چار سال بعد دوسرے بلدیاتی الیکشن کرا چکے تھے۔ ان دنوں اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد ایم آر ڈی کے نام سے موجود تھا، پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو ملک سے باہر تھیں۔ انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کا فیصلہ کرنے کے لئے اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس ایبٹ آباد میں  ائر مارشل (ر) اصغر خان کی رہائش گاہ پر ہوا۔ محترمہ دبئی سے ٹیلی فون لائن پر اجلاس میں شریک تھیں، اس موقع پر اختلاف ہوا، محترمہ نے تجویز کیا کہ انتخابات میں حصہ لیا جائے اور جس طرح بلدیاتی انتخابات میں مختلف ناموں اور نشانوں سے امیدوار کھڑے کئے گئے ویسے ہی ان انتخابات میں بھی کیا جائے، لیکن نوابزادہ نصراللہ خان اور ایئرمارشل (ر)اصغر خان اس کے مخالف اور انتخابات کے بائیکاٹ کے حق میں تھے۔ محترمہ کی بات نہ مانی گئی اور فیصلہ بائیکاٹ کا ہو گیا کہ نوابزادہ نصراللہ خان پارلیمانی جمہوریت کے بہت بڑے داعی تھے اور اصغر خان ان کے ہمنوا اس لئے تھے کہ جنرل ضیاء نے اپنے وعدے اور اعلان کے مطابق عمل نہیں کیا تھا، جب اپوزیشن نے بائیکاٹ کر دیا تو جنرل ضیاء الحق نے سیاسی عناصر کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی تاہم سیاسی جماعت کا سلوگن، نشان اور نام استعمال نہیں کیا جا سکتا تھا کہ یہ انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہوئے تھے۔


 اپوزیشن کے اس فیصلے نے انتخابی اور ملکی سیاسی تاریخ بھی بدل دی اور ان غیر جماعتی انتخابات کے نتیجے میں سیاسی جماعتوں کے کچھ اراکین نے اس فیصلے کے خلاف انتخاب لڑا اور مجموعی طور پر جو لوگ منتخب ہوئے ان کی اکثریت واقعی غیر سیاسی تھی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعدازاں جب اس وقت کے وزیراعظم محمد خان جونیجو نے اپنی مسلم لیگ بنائی تو جماعتی انتشار بھی پیدا ہوا۔ جونیجو پیر علی مردان شاہ پیر آف پگارو نے مرید اور ان کی مسلم لیگ کے رکن تھے۔ لیکن ضیاء الحق نے سیاسی جماعتوں کی تشکیل کی اجازت اسی شرط پر دی کہ جونیجو اپنی جماعت بنائیں جو ان کی حامی ہو، یوں پیر پگارو کی جماعت تب تک کالعدم رہی، یہ بھی تاریخ ہے کہ بعد میں اس نئی مسلم لیگ کے ساتھ کیا ہوا، پیر پگارو تو اس وقت مسلم لیگ کے صدر تھے، جب وہ پی این اے کی تحریک میں شامل تھی اور جب مارشل لاء کے تحت تمام سیاسی جماعتیں کالعدم قرار دی گئیں تو یہ بھی کالعدم ہو گئی تھی۔ مارشل لاء کے دوران جب بولنے تک پر پابندی تھی تو پیر پگارو نے اپنی سالگرہ منانے کا سلسلہ شروع کر دیا اور اس حوالے سے ذومعنی گفتگو کر کے اشاعت کا موقع دے دیتے تھے۔ جب محمد خان جونیجو کی صدارت میں مسلم لیگ بن گئی۔ پیر پگارو کو صدمہ پہنچا اور غصہ تو آیا لیکن وہ خاموش رہے کہ ہمیشہ کہتے ”ہم فوج کے ساتھ ہیں“ بہرحال پھر وہ لمحہ آ پہنچا  جب سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا، نہ صرف سیاسی جماعتیں بحال ہوئیں،بلکہ1988ء کے عام انتخابات بھی جماعتی بنیادوں پرہوئے۔اب پیرپگارو کا دعویٰ ہوا کہ ان کی جماعت حقیقی مسلم لیگ ہے جو کالعدم تھی اور اسے سپریم کورٹ کے حکم سے فنکشنل کیاگیا اس لئے وہ صدر ہیں اور ان کی مسلم  لیگ ہی فنکشنل، تاہم نہ صرف جونیجو لیگ قائم رہی بلکہ بعدازاں اسلام آباد میں ایک جنرل کونسل کے اجلاس میں ہلڑ بازی کے نتیجے میں ایک اور مسلم لیگ بن گئی، جونیجو الگ ہوئے اور ان کی جماعت جونیجو (ج) لیگ کہلائی اور جو جماعت اس اجلاس کے نتیجے میں بنی وہ مسلم لیگ (ن) تھی۔


ماہرین سیاست اور سنجیدہ فکر حلقوں کا کہنا ہے کہ 1985ء میں متحدہ اپوزیشن کے فیصلے کے نتیجے میں یہ سب ہوا، ورنہ اگر انتخابات میں حصہ لیا جاتا تو سیاسی جماعتوں ہی کے لوگ اسمبلیوں میں آتے اور آج تاریخ مختلف ہوتی۔آج کی متحدہ اپوزیشن کی دو جماعتوں نے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا، پیپلزپارٹی نے اپنی مرکزی مجلس عاملہ میں طے کر لیا ہے کہ میدان خالی نہیں چھوڑنا اور مسلم لیگ (ن) بھی اسی نتیجے پر پہنچے گی کہ تحریک انصاف کو واک اوور نہ دیا جائے کہ تحریک ابھی اس نہج پر نہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت جلد ختم ہو جائے، اس کے لئے مزید محنت اور کاوش کی ضرورت ہے، اسی لئے یکم جنوری کو پی ڈی ایم کا جو سربراہی اجلاس جاتی امراء میں ہو رہا ہے۔ اس کے ایجنڈے کی ایک اہم شق انتخابی عمل میں حصہ لینے یا نہ لینے کی ہو گی۔ پیپلزپارٹی اول اور مسلم لیگ (ن) دوم حصہ لینے کی حمائت میں دلائل دیں گی، فیصلہ جو بھی ہو،جہاں تک اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا تعلق ہے تو اس کا حتمی فیصلہ ابھی ہوا ہی نہیں۔ 31دسمبر کی آخری تاریخ اپنی اپنی جماعت کے قائدین کو استعفے پہنچانے کی ہے، یہ پیش کب کئے جائیں گے اس کے لئے تاریخ کا تعین بھی پی ڈی ایم کے اجلاس ہی میں ہوگا۔اس لئے کوئی رائے دینے سے گریز کرنا اور یکم جنوری کے اجلاس کا انتظار کرنا چاہیے،بہرحال کسی کے کہنے سے پی ڈی ایم تو ٹوٹے گا نہیں اور یکم جنوری کو بھی ایک دوسرے کو قائل کرنے والا اجلاس ہو گا۔


ہم نے بات تو کرنا تھی کہ یہ جو مذاکرات کی بات کی جا رہی ہے اور محمد علی درانی تیسری اور غیر جانبدار حیثیت سے سامنے آئے ہیں تو رکاوٹیں کیا ہوں گی۔ ایک کا ذکر تو ہم کر ہی چکے، اب ایک اور بات بتا کر ختم کرتے ہیں، ان شاء اللہ اگلی بار تفصیل سے بات کر لیں گے،پیر علی مردان شاہ پیر آف پگارو نے خود ہم سے کہا تھا ”دیکھو بابا! ہماری سیاست سیدھی ہے۔ سندھ اور دوسرے صوبوں میں جو لوگ ہمارے ساتھ ہیں وہ پیپلزپارٹی کے نہیں اور جو پیپلزپارٹی کے ہیں، وہ ہمارے نہیں، ہماری یہ سیاست سیدھی ہے“۔

مزید :

رائے -کالم -