نواز شریف کے پاسپورٹ کی منسوخی کا فیصلہ، مریم نواز کی فضل الرحمن سے ملاقات، قیاس آرائیاں نامناسب پیپلز پارٹی کا موقف سن کر فیصلہ کرینگے: نائب صدر مسلم لیگ (ن)

  نواز شریف کے پاسپورٹ کی منسوخی کا فیصلہ، مریم نواز کی فضل الرحمن سے ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزارت داخلہ نے لندن میں موجود قائد مسلم لیگ (ن) اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے پاسپورٹ کی تجدید نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع وزارت داخلہ کے مطابق فروری کے وسط میں نواز شریف کے پاسپورٹ کی مدت ختم ہو رہی ہے، جس کے بعد ان کے پاسپورٹ کی تجدید نہیں کی جائیگی۔ذرائع کا کہنا ہے وزارت داخلہ نے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن ڈائرکٹریٹ کو اس حوالے سے ہدایات جاری کردی ہیں۔اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا تھا کہ 16 فروری کو سابق وزیراعظم نوازشریف کا پاسپورٹ منسوخ کردیں گے۔انکامزید کہنا تھا پہلے ہی کہا تھا پیپلزپارٹی سینیٹ اور ضمنی الیکشن میں حصہ لے گی، یہ سب چوری بچانے کیلئے اکٹھے ہوگئے، مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام کنٹرکیٹ ملازمین کو فی الفور مستقل کر دیا گیا ہے، 240 پارکس کو 2 ماہ میں بحال کیا جائیگا، تمام ممالک کے ویزے بشمول افغانستان اور چین یکم جنوری سے آن لائن دیئے جائیں گے، لیڈیز اور کلچرل کمپلیکس کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اسلام آباد میں چیک پوسٹو ں پر گھنٹوں لوگ کھڑے رہتے ہیں، اسلام آباد کی سکیورٹی کیلئے ایگل سکواڈ تعینات کر رہے ہیں۔ 


 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نوازنے سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا ہے اس موقع پر قیاس آرائیاں نامناسب ہیں، پی ڈی ایم اجلاس میں بلاول اور پیپلز پارٹی کو موقع دینگے، تجاویز سنیں گے، پھر فیصلہ کرینگے۔اسلام آباد میں سر براہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان کیساتھ اہم ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ن لیگی رہنما کا کہنا تھا یکم جنوری کو اہم اجلاس شیڈول ہے۔ ا تحاد میں شامل تمام اپوزیشن جماعتیں مشاورت سے آگے چلیں گی، سربراہی اجلاس میں جو فیصلہ ہوگا وہی سب کا ہو گا۔ پی ڈی ایم نظریاتی انداز کیساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ بلاول بھٹو کا موقف سربراہی اجلاس میں سنیں گے، اس سے پہلے قیاس آرائیاں مناسب نہیں ہیں، مفر و ضو ں پر کچھ نہیں کہو ں گی۔ چیئرمین پیپلز پارٹی خود کہہ چکے ہیں سی ای سی کی سفارشات پی ڈی ایم کے سامنے رکھیں گے، سربراہی اجلاس میں مشا ورت کے بعد فیصلے کیے جائیں گے۔اس موقع پر گفتگو  مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا مریم نواز کیساتھ ملاقات میں اہم معا ملا ت پر گفتگو اور خواجہ آصف کی گرفتاری کے بعد کی صورتحال پر مشاورت کی گئی۔ گزشتہ رات نواز شریف سے بھی بات ہوئی، ان کا کہنا تھا خواجہ آصف کی گرفتاری انتقامی سیاست کا تسلسل ہے۔ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا گرفتاریاں چھوٹی باتیں، ہم نے ان کے گریبا نو ں میں ہاتھ ڈالا ہوا ہے،  ان کا احتساب غیر موثر، اب وہ ہمارے احتساب کے شنکجے میں ہیں، پی ڈی ایم کا مستقبل جمہوریت ہے۔ گڑھی خدا بخش میرا جانے کا کوئی پروگرام تھا اور نہ ہی مجھے دعوت ملی۔ پارٹی کی جانب سے عبدالغفور حیدری گئے تھے۔قبل ازیں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز ملاقات کیلئے اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پہنچیں ان کے ہمراہ احسن اقبال، رانا ثناء اللہ، پرویز رشید، خرم دستگیر، کیپٹن (ر) صفدر اور مریم اورنگزیب بھی تھیں،قبل ازیں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے یوم تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا وزیراعظم عمران خان سلیکٹڈ تو ہے، اب ریجکٹڈ بھی ہوگا، پاناما سے صرف اقامہ نکلا، جھوٹے الزامات پر حکمرا ن آج شرمندگی کا سامنا کر رہے ہیں، بغیر تیاری آنیوالے عوام کی زندگیوں سے کیوں کھیل رہے ہیں۔ مریم نواز کا کہنا تھا نواز شریف کو مودی کا یار کہتے تھے، مودی کی جھولی میں کشمیر کا مقدمہ کون ہار کر آیا؟ عمران خان کی نااہلی سے کشمیر مودی کی جھولی میں جاگرا، کمزور حکومت کی وجہ سے بھارت نے ہم پر وار کیا، جب نواز شریف کی حکومت ہوتی ہے تو مودی خود چل کر آتا ہے، جب ووٹ کو عزت نہیں ملتی تو پاکستان کی شہ رگ پر وار ہوتا ہے۔ میرے اعلان پر عمران خان کو اتنا ڈر تھا کہ مجھے گرفتار کرلیا، ہمارا تعلق پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ ن سے ہے، ہمارے مخالف بھی آج نواز شریف کی زبان بول رہے ہیں، ن لیگ نے آزاد کشمیر کے کونے کونے کو ترقی سے سنوارا، ن لیگ نے نواز شریف کے ہاتھوں پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا، نواز شریف پر ریاستی دہشتگردی کا الزام لگایا گیا۔ نواز شریف نے الزامات کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا، نواز شریف پر ایک بھی الزام ثابت نہیں ہوا، الیکٹڈ وزیراعظم کو پاناما کا الزام لگا کر گھر بھیجا گیا، نیب عدالت کا جج گھر آکر نواز شریف سے معافی مانگتا ہے، جج ارشد ملک نے نواز شریف سے کہا مجھے معاف کریں، نواز شریف نے کہا تھا تم سے ملک نہیں چلے گا، نواز شریف نے عمران خان کو کہا تھا جاؤ جا کر کرکٹ کھیلو، جو الزامات نواز شریف پر لگائے گئے تھے آج یہ خود ان کی زد میں ہیں۔یوم تاسیس تقریب سے خطاب میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما  احسن اقبال نے کہا ایک اناڑی کھلاڑی کو لا کر مسلط کر دیاگیا، معیشت، گورننس،خارجہ پالیسی اور نوجوانوں کو تباہ کر دیا ہے،اب ہم ان کو پاکستان نہیں تباہ کرنے دیں گے، 2019 کو اس حکومت نے کشمیر کا سودا کیا اور کشمیر کی حیثیت تبدیل کر دیا، کیا نئے پاکستان میں دفاع اتناکمزور ہو گیا ہے کشمیر کو ہڑپ کر لیا۔ کشمیر کا سودا عمران نیازی کی امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات میں طے ہوا، عمران نیازی کشمیر کا غدار ہے،ہم کسی صورت بھی کشمیر کا سودا نہیں کرنے دیں گے۔پاکستان میں سول ملٹری افراد نے قبضہ کر لیا ہے اور یہ وہی رویہ ہے کہ1971میں مشرقی پاکستان ہم سے جدا ہوا اور اکثریت اقلیت سے جدا ہو گئی۔ یہ تاریخ کا بہت بڑا حادثہ تھا۔ مشرقی پاکستان ہم سے اسلئے جدا ہوا کیونکہ وہ سمجھتے تھے ان کو تسلیم نہیں کیا جاتا، ہمارے ووٹ کی عزت نہیں کی جاتی اور جب ہم نے ان کی بات نہیں مانی تو پاکستان ٹوٹ گیا۔ آج بچے کچے پاکستان میں بھی لوگوں کے ووٹ کو ردی کی ٹوکری میں پھینکا جاتا ہے۔
مریم نواز 

مزید :

صفحہ اول -