دوران حمل ہائی بلڈ پریشر کا سامنا کرنے والی خواتین کے متعلق سائنسدانوں کا پریشان کن انکشاف

دوران حمل ہائی بلڈ پریشر کا سامنا کرنے والی خواتین کے متعلق سائنسدانوں کا ...
دوران حمل ہائی بلڈ پریشر کا سامنا کرنے والی خواتین کے متعلق سائنسدانوں کا پریشان کن انکشاف
سورس:   Pxhere

  

ایمسٹرڈیم(مانیٹرنگ ڈیسک) دوران حمل جن خواتین کو ہائی بلڈپریشر کے عارضے کا سامنا رہتا ہے ان کے لیے سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں ایک پریشان کن انکشاف کر دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق نیدر لینڈ کے شہر روٹرڈیم کی ایراسمس یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے 596خواتین پر کی جانے والی اس تحقیق کے نتائج میں بتایا ہے کہ جن خواتین کو دوران حمل ہائی بلڈپریشر کا سامنا رہتا ہے ان کو آئندہ زندگی میں چل کر یادداشت کے مسائل لاحق ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ 

اس تحقیق میں سائنسدانوں نے ان خواتین کے یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کے ٹیسٹ کیے۔ ان تمام خواتین نے لگ بھگ 15سال قبل بچے کو جنم دیا تھا اور اس وقت ان میں سے آدھی ہائی بلڈپریشر کا شکار رہی تھیں۔ جب ان کے ٹیسٹ کے نتائج کا ان کے 15سال قبل کے طبی ریکارڈ سے موازنہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ جن خواتین کو دوران حمل ہائی بلڈپریشر کا سامنا تھا انہوں نے یادداشت اور سیکھنے سمجھنے کی صلاحیت کے ٹیسٹ میں دوسری خواتین کی نسبت اوسطاً7فیصد ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ ماریا ایڈنک کا کہنا تھا کہ ”ہماری تحقیق میں اس کے کافی شواہد سامنے آئے ہیں کہ دوران حمل خواتین کوہائی بلڈپریشر لاحق ہونا ڈیمینشا کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔“

مزید :

تعلیم و صحت -