سندھ میں محکمہ صحت کی دگرگوں صورتحال اور طوفانی بارشیں ، سال 2020 صوبے کے بدقسمت شہریوں کے لئے کیا کیا تباہی لایا ؟تفصیلات جانئے

سندھ میں محکمہ صحت کی دگرگوں صورتحال اور طوفانی بارشیں ، سال 2020 صوبے کے ...
 سندھ میں محکمہ صحت کی دگرگوں صورتحال اور طوفانی بارشیں ، سال 2020 صوبے کے بدقسمت شہریوں کے لئے کیا کیا تباہی لایا ؟تفصیلات جانئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) سال 2020سندھ بھر کے شہریوں کے لئے صحت کے حوالے سے کسی اذیت سے کم نہیں تھا،سال2020 کے دوسرے ماہ میں ہی کورونا وائرس کا پہلا کیس کراچی میں رپورٹ ہوا، ڈینگی، پولیو اور کتے کے کاٹنے کے کیسز بھی شہریوں کے لئے وبال جان بنے رہے،گندگی تعفن کے ڈھیر پر قائم کراچی ہو یا کسمپرسی کی تصویر بنا اندرون سندھ، سب جگہ یکساں مسائل کا انبار رہا۔

تفصیلات کے مطابق سندھ میں سال 2020 کا آغاز کورونا کے کاری وار سے ہوا، چھبیس فروری کو ایران سے آنے والے بائیس سالہ یحییٰ جعفری میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی اور دیکھتے دیکھتے موزی وباء نے لوگوں کو اپنا شکار بنانا شروع کردیا۔ماہ اپریل میں کورونا کیسز کی شرح بڑھی اور سندھ اول نمبر پر آگیا۔ سندھ میں پہلی لہر کے دوران جون کے مہینے میں اموات کا گراف 914 تک پہنچ گیا، وزیر اعلی سندھ سمیت ڈاکٹرز نے بھی احتیاط کے لئے عوام کے سامنے ہاتھ جوڑے۔ماہ اگست میں کورونا کا تھوڑا زور ٹوٹا، لاک ڈاؤن میں نرمی سے جمود کا شکار زندگیاں بحال ہوئیں لیکن یہ خوشی عارضی ثابت ہوئیں۔ ماہ اکتوبر میں دوسری لہر کا وار پہلے سے زیادہ خطرہ بڑھانے لگا،اب تک دو لاکھ سے زائد شہری وائرس کا شکار ہوئےاور تین ہزار سے زائد زندگیاں کورونا کی بھینٹ چڑھ گئیں۔فرنٹ لائن پر وائرس کے خلاف جنگ لڑنے والے ڈاکٹرز بھی محفوظ نہ رہ سکے، صرف سندھ میں چالیس سے زائد مسیحا انتقال کرگئے، جن میں سے چھبیس کا تعلق کراچی سے تھا جبکہ کورونا سے متاثر ہونے والے ہیلتھ کیئر ورکرز کی تعداد 11 ہزار سے تجاوز کرگئی۔

کورونا وائرس کی پہلی لہر میں سیاسی جماعتوں کی سنجیدگی دوسری لہر میں غیر سنجیدگی میں بدل گئی۔ طبی ماہرین تو آگاہی دیتے نظر آئے لیکن حکومت اور اپوزیشن جلسے جلسے کھیلنے میں مگن رہی۔دوسری جانب سندھ بھر میں پولیو کے بائیس  اور ڈینگی کے تین ہزار نو سو مجموعی کیسز سامنے آئے، جس میں سے تین ہزار آٹھ سو کیسز کراچی کے تھے جبکہ رواں سال کراچی کے جناح ہسپتال میں کتے کے کاٹنے کے آٹھ  ہزار افراد لائے گئے۔کورونا وائرس کے حوالے سے دنیا بھر میں اس وقت چونتیس ویکسینز فیزون، چودہ  ویکسینز فیز ٹو اور گیارہ  ویکسینز فیز تھری کے مرحلے میں ہیں۔ پاکستان میں بھی چینی ویکسین کے ٹرائل جاری ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک کوئی ویکیسن مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہوتی احتیاط ہی ویکسین ہے۔سال 2020 میں جہاں ڈینگی، ملیریا اور دیگر بیماری نے اتنا سر نہ اٹھایا، وہیں کورونا وائر س نے شہریوں کو نئی اذیت میں مبتلا رکھا، امید ہے کہ 2021 میں ویکسینز اور میڈییسن کی صورت میں اس اذیت میں کمی آسکے گی لیکن عوام کو سخت احتیاط کرنے کی ضروت ہے۔کراچی سمیت سندھ بھر نے تباہی پھیلانے والی بارشیں بھی دیکھیں جبکہ شہرکراچی نے پی آئی اے کے طیارے حادثے کے غم کو بھی جھیلا۔