مرد و زن کشمکش کے چند دلچسپ پہلو

 مرد و زن کشمکش کے چند دلچسپ پہلو
 مرد و زن کشمکش کے چند دلچسپ پہلو

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 کہنے کو عورت اور مرد ایک ہی گاڑی کے دو پہیے ہیں مگر جب سے یہ اصطلاح بار اور بنچ کے لئے استعمال ہونا شروع ہوئی ہے اِس بات سے اعتماد اُٹھ گیا ہے۔ پھر خیال آیا کہ یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں تو پتہ چلا کہ کرنسی کی قدر کم ہونے کی بنا پر اب اِس سکے کے head کی مارکیٹ میں قیمت تو ہے مگر tale اپنی اہمیت کھو چکی ہے،اگر اِن دونوں میاں بیوی کو کسی طلسماتی کہانی کے ہیرو اور ہیروئن سمجھ لیں تو پھر بھی ہیروئن فلم کے آخر تک زندہ بھی رہتی ہے اور ہشاش بشاش بھی جبکہ ہیرو کو کہیں نہ کہیں پھینٹی پڑتی ہے یا وہ جان سے جاتا ہے۔اِس ساری آزمائش کی بجائے اگر شروع میں ہی عورت کی برتری اور بالادستی تسلیم کر لی جائے تو کیا مضائقہ ہے؟مرد ساری عمر اِس کمپلیکس میں رہتا ہے کہ وہ گھر میں برتر ہے اور اُس کی بے شمار وجوہات بھی اُس نے تراش رکھی ہوں گی مگر حقیقت میں گھر کی سربراہ عورت ہی ہوتی ہے۔بیوی بننے کے بعد ماں بننے تک کا سفر اُسے ایک ایسے گھوڑے کا شہسوار بنا دیتی ہے کہ اُس کو اُس کے اصل مقام سے گرانا ممکن نہیں ہوتا۔یہ الگ بات ہے کہ اِس مقام سے پہلے عورت کے لئے کئی مقامات آہ و فغاں آتے ہیں۔ شادی کے بعد وہ بات بات پر اپنے والدین کے گھر کا ذکر کرتی نہیں تھکتی، پھر جب والدین اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں تو وہ بڑے مان سے اپنے بھائیوں کا ذکر شروع کر دیتی ہے اور خاوند بے چارے کو ڈرا کے رکھتی ہے،پھر جب بھائیوں کی بیویاں یعنی بھابیاں اُس کی میکے میں بے جا مداخلت پر ناک منہ چڑھاتی ہیں تو اِس دوران اُس کے اپنے بچے جوان ہو جاتے ہیں اور اب وہ اِن بچوں کے والد کی کم ہی پرواہ کرتی ہے کہ وہ بات بہ بات اپنے شیروں کا ذکر کرتی نہیں رُکتی۔جب بیٹوں کی شادیاں ہو جاتی ہیں، گھر میں بہویں آ جاتی ہیں، نوک جھونک شروع ہو جاتی ہے اور بیٹے بھی ماں کے ساتھ آنکھ نہیں ملا پاتے تب اُسے احساس ہوتا ہے کہ جس خاوند کی وجہ سے اُس کی گھر میں چوہداہٹ تھی اُسے تو کافی عرصہ سے درخور اعتناءہی نہیں سمجھا گیا، وہ بے چارہ اپنے ہی گھر میں اجنبی بن چکا ہے۔


باقی سارے رشتوں سے مایوس ہو کر بالآخر وہ یوں نعرہ زن ہوتی ہے: ”جیوے میرے سر دا سائیں مجھے کیا پرواہ ہے کسی کی“ مگر اِس سٹیج تک پہنچنے تک سر دے سائیں نے اگر وہ زندہ ہو تو ہاتھ میں ڈنگوری پکڑ لی ہوتی ہے۔ہمارے خیال میں صرف پاکستانی شوہر ہی مظلوم نہیں بلکہ یہ عالمی مسئلہ ہے۔ چند روز قبل ایک بوڑھے امریکی جوڑے کا دلچسپ واقعہ پڑھا۔ امریکی خاوند جس کی عمر 60سال سے زائد تھی اپنی بیوی کے قہر و غضب سے بچنے کے لئے20سال تک اپنے بہرا ہونے کا ناٹک کرتا ہے۔اِس دوران اُس کی شریک ِ حیات اپنے ”بہرے“ خاوند کی سہولت کی خاطر کسی سپیشل ادارے سے چھ ماہ کا کورس اشاروں کی زبان سمجھنے کے لئے بھی کرتی ہے، پھر اچانک ایک روز اُسے پتہ چلتا ہے کہ اُس کا خاوند بہرا نہ تھا بلکہ بہرا ہونے کا ڈرامہ کر رہا تھا تو وہ شیرنی کی طرح حملہ آور ہوتی ہے تو اِس بار وہ چالاک خاوند اپنے گونگے ہونے کا ناٹک کرتا ہے اور بیوی کی ساری لعن تعین اُس تاثر کے ساتھ سر کے اوپر سے گزار دیتا ہے کہ اُس نے کچھ بھی نہیں سنا اور وہ کچھ بھی بول نہیں سکتا۔چند روز قبل کچھ دوستوں کے ایک بڑے فاضلانہ گروپ میں کسی دوست نے ازدواجی زندگی گزارنے کے سنہری اصول کے نام سے کسی کتاب کا حوالہ دیا تو مَیں نے اِس گروپ میں برجستہ کچھ یوں لکھا جسے دوستوں نے سراہا:” شریک ِ حیات کا دِل کتابیں پڑھ کر نہیں جیتا جا سکتا اُس کے لئے کافی پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں،اُس کے باوجود سچے پیار کی تلاش میں عمر گزر جاتی ہے۔یہ دوطرفہ کھیل ہے جو بغیر ریفری اور امپائر کے کھیلا جاتا ہے“۔اِس ساری صورت حال میں یہ طے کر نا تو کافی مشکل ہے کہ مرد و عورت میں زیادہ مظلوم کون ہے مگر پاکستانی مرد بھی اپنی چالاکیوں میں کسی سے پیچھے نہیں۔بظاہر بڑے بھولے اور سادے بھی اندر سے بڑے خرانٹ ہوتے ہیں۔ بہت سے خاوند ساری عمر دوسری شادی کے چکر میں رہتے ہیں اور پہلی شادی سے بھی ٹھیک طریقے سے لطف اندوز نہیں ہوتے اور بہت سے بیچارے تو دوسری شادی کی ناکام خواہش کے ساتھ دنیا سے چلے جاتے ہیں۔مرد کا دوسری شادی سے اجتناب عموماً کسی اخلاص یا قربانی کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ بیشمار خوف اور اندیشہ ہائے ”دور دراز“ کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔


ہمارے ہاں تو بعض دوست اپنی اہلیہ سے بھی سچ نہیں بولتے اور بہت سے دِل نہیں کھولتے، بہت سے بخل اور کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور بہت سے اپنے پرس کے پیسے بھی خفیہ خانوں میں رکھتے ہیں، پھر ہم نے ایسے دِل پھینک شوہر بھی دیکھے ہیں جو اپنے اے ٹی ایم کارڈ بھی بیگم کے حوالے کر دیتے ہیں اور خود سارا مہینہ اُدھار پر گزارہ کرتے ہیں۔بہت سے دوست بیگمات کے نخرے اُٹھاتے ہیں تو یار باش اُنہیں رن مرید کہتے ہیں۔ہم نے تو ایسے مظلوم شوہر بھی دیکھے ہیںجو اگر اپنے گھر میں داخل ہو جائیں تو بلا اجازت باہر نہیں جا سکتے اور اگر باہر چلے جائیں تو گھر کے اندر داخل نہیں ہو سکتے مگر ہمارے خیال میں میاں بیوی کا رشتہ انمول بھی ہے اور میٹھا بھی۔ یہ رشتہ برابری اور باہمی عزت و احترام سے چلے تو زیادہ دِل پذیر ہے۔گھر کے فیصلے اگر باہمی مشاورت سے ہوں تو باعث برکت ہوتے ہیں، مرد کی رائے کو فوقیت رہنی چاہئے مگر دلیل اور استدلال کے ساتھ کہ بہر حال دنیا داری میں مرد کا زیادہ تجربہ ہوتا ہے۔ویسے بھی مرد گھر کا کفیل ہوتا ہے اِسی لئے اُسے وراثت میں بھی عورت سے دوگنا حصہ دیا گیا ہے پھر مرد تو روزی روٹی کے چکر میں اپنی بیوی اور اولاد کی خاطر بڑی خجل خواری بھی کرتا ہے،ریگستانوں اور صحراﺅں کی خاک بھی چھا نتا ہے مگر اُس کے باوجود اُس کی قدر ناشناسی،بقول اقبال،اِس راز کو عورت کی بصیرت ہی کرے فاش،مجبور ہیں، معذور ہیں،مردان خردمند،عورت اللہ تعالیٰ کی نہایت خوبصورت تخلیق ہے۔یہ نازک آبگینوں کی مانند اور حساس ہے، یہ نازک اندام مگر خلوص کا پتلہ ہے۔ عورت اگر قربانی پر آ جائے تو مرد پر ہر چیز قربان کر دیتی ہے اور اگر انتقام پر آ جائے تو پھر اللہ کی پناہ۔ عورت کے سارے روپ ماں، بہن، بیٹی اور بیوی خوبصورت اور دلکش ہیں۔ عورت کے ہر روپ کے الگ خصائل ہیں۔وہ بیٹی کی صورت میں رحمت اور عزت، ماں کی صورت میں شفقت اور دعاﺅں کا انمول خزینہ، بہن کی صورت میں اُنس و محبت اور بیوی کی صورت میں مونس و غم خوار کے ساتھ ساتھ مجسمہ اُلفت و محبت ہے۔عورت کا وجود اِس کائنات کو مسحور کن، دلکش، دِل پذیر اور با معنی بھی بنا دیتا ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے مخصوص معاشرتی بیک گراﺅنڈ اور اس مردانہ غلبے کے دور میں عموماً عورت کو دبا کر ہی رکھا جاتا ہے۔میری نظر جب اِن الفاظ پر پڑی کہ اِس سوسائٹی میں اگر عورت اپنا آپ بچا بھی لے تب بھی مجرم ٹھہرتی ہے اور اگر اپنا آپ گنوا بھی دے تب بھی وہی مجرم ٹھہرتی ہے تو میں چونک اُٹھا۔ اِس قدر بے حس، امتیازی اور غیر منصفانہ اقدار میں عورت زیادہ تکریم اور عزت کی حقدار بن جاتی ہے جو انتہائی نامساعد حالات میں بھی آگے بڑھنے کا جذبہ رکھتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -