خبردار! یہ خاتون آپ سے اس جرم کا اعتراف کروانے کی صلاحیت رکھتی ہے جو آپ نے کیا ہی نہیں

خبردار! یہ خاتون آپ سے اس جرم کا اعتراف کروانے کی صلاحیت رکھتی ہے جو آپ نے کیا ...
خبردار! یہ خاتون آپ سے اس جرم کا اعتراف کروانے کی صلاحیت رکھتی ہے جو آپ نے کیا ہی نہیں

  



شکاگو (نیوز ڈیسک) خوفناک جرائم کی سزا بعض اوقات ان معصوم افراد کو بھی مل جاتی ہے جن کا جرم سے دور کا واسطہ بھی نہیں ہوتا مگر وہ بوجوہ اعتراف جرم کر چکے ہوتے ہیں، لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک بے گناہ شخص قتل یا عصمت دری جیسے خوفناک جرم کو اپنے سر لے لے۔

یونیورسٹی آف بیڈ فورڈ شائر کی فورنزک سائیکالوجسٹ جولیا شا کہتی ہیں کہ یہ بالکل ممکن ہے اور وہ محض تین گھنٹے میں کسی سے بھی ایک ایسے خوفناک جرم کا اعتراف کروا سکتی ہیں کہ جس سے اس کا کبھی کوئی تعلق نہ رہا ہو۔ وہ اسے نفسیات کی زبان میں ”جھوٹی یادداشت“ (False Memory) کا نام دیتی ہیں۔

جولیا کہتی ہیں کہ ایک تجربے میں یونیورسٹی طلباءکے ایک گروپ کے ساتھ انہوں نے 45 منٹ کی تین نشستیں کیں۔ ان طلباءکے متعلق چند بنیادی معلومات جیسا کہ ان کے والدین کا نام اور علاقے اور پرائمری سکول وغیرہ کی معلومات لی گئیں۔ اس کے بعد ان طلباءکی زندگی کا ایک سچا واقعہ انہیں یاد دلایا گیا اور ساتھ ایک جھوٹے جرم کے واقع کے متعلق انہیں چند باتیں بنا کر انہیں یقین دلایا گیا کہ انہوں نے یہ جرم کیا ہے۔

گلوکارہ شکیرا کے ہاں دوسرے بچے کی پیدائش

جولیا کہتی ہیں کہ محض تین نشستوں میں یادداشت گڈمڈ ہونے لگتی ہے اور معصوم افراد خود کو مجرم سمجھنے لگتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی تین نشستوں کے بعد 70 فیصد طلباءنے نہ صرف ایک ناکردہ جرم کا اعتراف کر لیا بلکہ تفصیلی کہانی سنا کر یہ بھی بتایا کہ انہوں نے جرم کیسے کیا اور کیا کیا واقعات پیش آئے۔ جولیا کہتی ہیں کہ ”جھوٹی یادداشت“ کے نفسیاتی طریقے کو استعمال کر کے کسی سے بھی کسی بھی ناکردہ جرم کا اعتراف کروایا جا سکتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...