پی ایچ اے کے 3700ملازمین 10سال بعد بھی مستقل نہ ہو سکے

پی ایچ اے کے 3700ملازمین 10سال بعد بھی مستقل نہ ہو سکے

  



 لاہور(ایم آئی بھٹی)شہر لاہور کو خوبصورت بنانے والوں کے چہرے مرجھائے ہوئے ہیں پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کے37سودرجہ چہارم کے ملازمین عرصہ دس سال سے ڈیلی ویجز پر کام کر رہے ہیں جن کو تاحال مستقل نہیں کیا جا سکا۔ذرائع کے مطابق پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کے37سو مالی جن کو 2005میں ڈیلی ویجز کی بنیاد پر بھرتی کیا گیا تھا،جبکہ دس سال گزرنے کے باوجود بھی ان کومستقل نہیں کیا جا سکا جس سے ملازمین میں مایوسی اور ناامیدی پھیلی ہوئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت نے ایڈہاک پر بھرتی کیے گئے افسران کو ریگولر کر دیا ہے جبکہ درجہ چہارم کے ملازمین کو حکومت تاحال ریگولر نہیں کر رہی ہم لوگ دن را ت سخت گرمی اور سردی میں کام کرتے ہیں ہماری محنت کا نتیجہ ہے کہ شہر لاہورپاکستا ن کے خوبصورت شہروں میں شمار ہوتا ہے لیکن حکومت کو د س برسوں میں ہماری قسمت پر ترس نہیںآیا کہ ہمیں مستقل کر دیا جائے بیماری یا کسی ضروری کام کیوجہ سے چھٹی کرنے پر تنخواہ کاٹ لی جاتی ہے جبکہ ہماری کو ئی پنشن بھی نہیں جو ہمارے بڑھاپے میں ہمارا سہار ا بنے گی اور ہم لوگ اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔حکومت افسران کیلئے تو سب کچھ کر رہی ہے لیکن درجہ چہارم سے امتیازی اور غیر منصفانہ سلوک پر حکومت نے کبھی سوچا تک نہیں ہے۔اس حوالے سے سی بی اے کے سیکرٹری جنرل حافظ ابرار نے بتایا کہ 37سو مالیوں کو ریگولر کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے کیونکہ ان لوگوں نے لاہور کیلئے بہت کام کیا ہے جو آج سب کے سامنے ہیں کہ لاہور کو کتنا خوبصورت اور دلکش بنا دیا گیا ہے۔حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان ملازمین کو فوری طور پر مستقل کیا جائے ورنہ ہم مالیوں کے حق میں ہڑتال کی کال دے سکتے ہیں جس کی ذمہ دار پی ایچ اے انتظامیہ ہو گی۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...