الطاف حسین کا خطاب، متحدہ کا فیصلہ، کیا پھر نقل مکانی ہو گی؟

الطاف حسین کا خطاب، متحدہ کا فیصلہ، کیا پھر نقل مکانی ہو گی؟
الطاف حسین کا خطاب، متحدہ کا فیصلہ، کیا پھر نقل مکانی ہو گی؟

  



جان ایلیا معروف اور اچھے ادیب و شاعر تھے، کراچی میں رہتے اور وہیں آسودہ خاک بھی ہیں، انہوں نے کئی سال پہلے کراچی کی حالت زار پر لکھنا شروع کیا اور لکھتے رہے، ان کو بھی کئی سال گزرے،اُن کی تحریریں اب بھی زندہ ہیں، ان میں وہ اپنے ہمزاد سے دُکھ روتے اور اپنے احساسات کا ذکر کرتے ہیں۔ ان کی یہ تحریریں آج بھی شائع ہو رہی ہیں اور محسوس ہوتا ہے کہ ان کا تعلق حال ہی سے ہے۔کراچی جو پاکستان کا معاشی حب کہلاتا ہے۔ عرصہ دراز سے متحارب فریقوں کے درمیان تختہ مشق بنا ہوا ہے۔اس روشنیوں کے شہر کو کسی کی نظر بد لگی ہوئی ہے۔ سچ پوچھئے تو اب کراچی جانے کو جی نہیں چاہتا، بہت سے عزیز و اقارب دعوت دیتے اور اصرار بھی کرتے ہیں، لیکن دل نہیں مانتا کہ اب ایک خوف کی فضا ہے، جس میں آزادی سے گھومنا پھرنا یا ایک علاقے سے دوسری جگہ جانا مشکل محسوس ہوتا ہے۔ پی۔ایف۔ یو۔ جے کے دو سالہ مندوبین اجلاس کی کارروائی کے لئے گزشتہ برس گئے تو صدر کے ہوٹل سے میٹنگ ہال تک محدود رہے تھے، صرف ایک رات کے لئے گلشن اقبال میں اپنے عزیز معین کے ہاں ٹھہرے وہ بھی ان کے صاحبزادے احسن آ کر لے گئے اور اگلے روز وہ خود ہمیں چھوڑ گئے تھے کہ کراچی کے شہریوں نے حالات سے سمجھوتہ کر رکھا ہے وہ ہوا کا رُخ پہچانتے ہیں اور جونہی کوئی مسئلہ ہو، سر چھپا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ یوں بھی اب ان کو محفوظ راستوں کا علم ہو چکا ہوا ہے اور وہ اپنی آمدورفت کے وقت اس کا خیال کرتے ہیں۔

کراچی میں جاری حالیہ آپریشن شروع ہوا تو عام لوگوں نے سوچا اب حالات بہتر ہوں گے یہ آپریشن جاری ہے اور حالات جوں کے توں چل رہے ہیں، حالانکہ اس عرصہ میں ہزاروں پکڑے گئے اور سینکڑوں مارے گئے، خود قانون نافذ اور آپریشن کرنے والے اداروں کے اراکین بھی زد میں آئے ہیں۔

دو روز قبل متحدہ کے ایک کارکن سہیل احمد کا قتل ہوا ، تو حالات نے نئی کروٹ لی ہے۔ متحدہ والوں نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اور الطاف حسین نے حسب سابق خطاب کیا، لیکن ان کی یہ تقریر سابقہ خطابات سے تھوڑی مختلف ہے، جس پر غور کی ضرورت ہے۔ قائد تحریک الطاف حسین سولہ سال سے زائد عرصہ سے لندن میں مقیم ہیں اور ایک مضبوط آئی ٹی نیٹ ورک کے ذریعے خطاب کرتے رہتے ہیں، وہ متعدد بار قیادت سے سبکدوشی کا اعلان کر کے فیصلہ واپس لے چکے کہ اس طرح وہ اپنے کارکنوں اور حامیوں کو متحد رکھتے اور اپنی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں، اس لئے جب بھی وہ اس نوعیت کا اعلان کرتے ہیں، تو فوراً یہ کہا جاتا ہے کہ یہ واپس ہو جائے گا اور اس مرتبہ بھی یہی ہوا کہ تقریر کے بعد فیصلہ تبدیل ہو گیا۔

متحدہ کے حوالے سے بوجوہ لکھنے سے گریز کیا جاتا ہے، لیکن اس بار خود الطاف حسین کی تقریر کے چند نکات اور رابطہ کمیٹی کے ایک بہت ہی اہم ترین فیصلے کی وجہ سے یہ سطور سپرد قلم کرنا پڑیں۔ ایم کیو ایم ایک حقیقت ہے جو اسے جھٹلائے وہ غلطی پر ہو گا، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ایم کیو ایم کراچی اور سندھ کے شہروں میں واحد قوت نہیں۔ بے شک یہ ایک منظم جماعت ہے اور جمہوریت کے حوالے سے اس کے مینڈیٹ اور اس کی حمائت کا احترام بھی لازمی ہے، لیکن یہ جماعت بہر صورت تنقید سے بالاتر نہیں ہے۔ اگر اس جماعت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ دوسروں پر شدید نوعیت کی تنقید کرے تو اس کی بعض قابل اعتراض باتوں اور حرکتوں کا نوٹس لینا بھی کوئی جرم نہیں ہے۔

ہم دوسروں کی طرح تنقید برائے تنقید سے گریز کرتے ہیں اور واقعات کی بناء پر کچھ معروضات پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ الطاف حسین نے جو تقریر جمعرات کو کی اس میں انہوں نے آئی ایس آئی اور فوج سے شروع ہو کر مخالف سیاسی جماعتوں کو بھی نشانہ بنایا اور سخت نوعیت کی دھمکی بھی دی، جس پر ان کی جماعت عمل کرنے کی اہل اور صلاحیت کی حامل ہے کہ ماضی اس کی گواہی دیتا ہے۔ انہوں نے ایک طرف تو یہ کہا کہ کہیں صبر کا پیمانہ چھلک نہ جائے اور ساتھ ہی کہا: ایم کیو ایم کے کارکنوں کے ساتھ سلوک کرنے والے کے ساتھ بھی اب کچھ نہ کچھ ہوتا رہے گا، جبکہ رابطہ کمیٹی نے بڑے غیر محسوس انداز میں ایک خوفناک قسم کے فیصلے کی اطلاع دی، جس کے نتیجے میں کراچی سے وسیع پیمانے پر نقل مکانی ممکن ہے،اس سے قبل بھی لاتعداد کاروباری حضرات حتیٰ کہ مزدور وہاں سے واپس آ گئے ہوئے ہیں اور یہ سب اپنے کاروبار اور جائیدادیں اونے پونے بیچ کر آئے۔ یہ حضرات جب بات کرتے ہیں تو بھتہ خوری کا ذکر کرتے ہیں ان کے مطابق یہ مخصوص جماعت ہی کی طرف سے چندے کے نام پر اور براہ راست بھتہ مانگنے کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے، اب رابطہ کمیٹی کی پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ متعلقین کو ہدایت کی گئی کہ وہ ان تاجر حضرات کی فہرستیں تیار کریں جو عوامی حمایت کے قائل نہیں اور عوام کے ساتھ نہیں چلتے اور ان تاجروں کو پُرامن انداز اور طریقے سے نقل مکانی کے لئے کہا جائے گا۔ یہ تو بالکل سامنے کی بات ہے کہ جس کسی کو متحدہ والوں نے انتباہ کیا وہ کسی چوں چرا کے بغیر ہدایت پر عمل کرے گا۔ یوں ایک اور بڑی نقل مکانی کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

محترم الطاف حسین نے اپنی تقریر میں بات ملک و قوم کی کی، لیکن تمام تر زور مہاجر پر دیا، بہتر تو اب یہی ہے کہ وہ متحدہ کو پھر سے مہاجر قومی موومنٹ بنا لیں کہ عملی کیفیت تو یہی ہے۔ انہوں نے پھر قربانیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ30لاکھ شہادتیں اور سینکڑوں خواتین کی عصمت دری کے صدمے پاکستان کے لئے برداشت کئے گئے۔ اس سے آج تک کسی نے انکار نہیں کیا، بلکہ ان شہروں کے مسلمانوں کو تو بہت زیادہ خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے جن کو یہ علم تھا کہ تقسیم کی صورت میں ان کے شہر پاکستان کا حصہ نہیں ہوں گے، اس لئے بار بار کی یقین دہانی کا مقصد؟ متحدہ والے یہ کیوں بھول جاتے اور ذکر نہیں کرتے کہ مشرقی پنجاب کے لاکھوں گھرانے یا تو شہادت پا گئے یا پھر بے خانماں ہو کر ادھر چلے آئے،ان کا تو کوئی چچا اور ماموں بھارت میں نہیں رہ گیا تھا، اِن (ایم کیو ایم) حضرات کے نزدیک تو یہ سب پنجابی اور گالی کے لائق ہیں۔

ہمیں بہت دُکھ اور خدشات ہیں۔ یہ اچھی علامت نہیں،ہمیں 90ء اور91ء کا وہ دور یاد ہے جب ایم کیو ایم کو مہاجر سے متحدہ بنایا جا رہا تھا۔اس وقت صوبائی وزیر بدر اقبال اور ان کے حامیوں پر کیا گزری تھی۔ ہمیں اس دور کے ایک سیکٹر کمانڈر یونس خان نے بدر الاسلام بٹ اور محمود زمان کی موجودگی میں جو بتایا وہ بھی ایک تاریخ ہے۔ بہتر عمل اب بھی یہی ہے کہ اگر پاکستان سے محبت ہے تو سب پاکستانی ہیں۔مہاجر اب کوئی نہیں، جو پاکستان میں پیدا ہوا، وہ تو قطعی طور پر ایسا نہیں سوچتا نہ سوچنا چاہئے۔ براہ کرم جوش سے نہیں ہوش سے کام لیں، صرف ایک طبقہ نہیں، سبھی کا یہ فرض ہے۔ *

مزید : کالم


loading...