علی سفیان آفاقی۔۔۔کچھ یادیں کچھ باتیں

علی سفیان آفاقی۔۔۔کچھ یادیں کچھ باتیں
علی سفیان آفاقی۔۔۔کچھ یادیں کچھ باتیں

  



نئے سال کے پہلے ہی مہینے جنوری کے آخری دنوں میں ادب و صحافت و ادارت کی ایک نابغہء روزگار شخصیت سے ہمیں محروم ہونا پڑا۔ علی سفیان آفاقی بِلاشبہ ایک شخص نہیں، شخصیت تھے۔ ہمہ جہت، ہمہ گیر، ہمہ پہلو، ہمہ صفت۔ وہ بنیادی طور پر قلمکار تھے۔ مُدیر تھے، صحافی تھے، کالم نگار تھے، کہانی نویس تھے، سفرنامہ نگار، مکالمہ نویس اور طنز و مزاح نگار تھے۔ فلمی دنیا کے نامور کامیاب ہدایت کار، فلمساز تھے۔ وہ فلمی دنیا کے حوالے سے ہفتہ وار ’’فیملی میگزین‘‘ میں ’’ہزار داستان‘‘ کے عنوان سے دراصل عہد موجود میں جدید قسم کی طلسمِ ہوش رُبا لکھ رہے تھے۔ ’’فیملی میگزین‘‘ میں ان کی مدیرانہ اُپج کے ساتھ ساتھ علمی و قلمی جولان گاہ میں ان کو پڑھتے ہوئے قاری سچے، کھرے حالات و واقعات اور زبان و بیان کے سحر میں کھوکر دم بخود رہ جاتا تھا۔ اتنی منفرد، ایسی عمدہ نثر بھرپور بہاؤ کے ساتھ داستان گوئی کے دل پذیر انداز میں لکھنے والا اب کوئی نہیں رہا، جس طرزِ مُرصع کو انہوں نے ایجاد کیا، وہ اس کے خود ہی موجد اور خاتم ٹھہرے۔ ان کی اپنی روایات تھیں، اپنا اسلوبِ نگارش تھا، اپنی طرز تھی۔اپنی طرز ادا تھی، ان کی کس کس صفت کا بیان کیجئے کہ :

عبارت کیا، اشارت کیا، ادا کیا۔

اکثر جب کوئی شعر اپنی تحریر میں استعمال کرتے تو بلا جھجک پوچھ لیتے۔ یوں فون پر ان کی آواز سے رابطہ رہتا، کبھی ان کے دفتر جاتا تو کام میں منہمک ہونے کے سبب بہت لئے دیئے سے رہتے، عموماً چائے کا دور تواتر سے دفتر میں نہ چلتا۔ گھر پر البتہ ایک بار بڑی پُرتپاک مخلصانہ اور بھرپور دعوت دی، جس میں کھانے کا کمال ان کی بیگم کا زیادہ تھا، باورچی کا کم۔۔۔!گھر پر خوب گپ شپ رہی۔ انہوں نے اپنا ایک مکمل تعارف نامہ بھی مجھے عنایت کیا، جو اُن کی زندگی میں میرے کام نہ آیا کہ میں باوجود کوشش کے کوئی مضمون ان کے شایانِ شان نہ لکھ سکا۔ پرفیکشن کی خواہش نے مارا اور اب جلدی جلدی جو ہے جیسا ہے کی بنیاد پر یادیں، مُلاقاتیں اور باتیں تازہ کررہا ہوں۔ میری ذاتی مستندمعلومات کے مطابق:

علی سفیان آفاقی 22اگست 1933ء کو ریاست بھوپال کے ضلع سبہور [انڈیا] میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بھوپال سے ہی حاصل کی اور پھر میرٹھ [یوپی انڈیا] سے بی اے آنرز کیا۔ پاکستان آمد کے بعد 1951ء میں محض اٹھارہ برس کی عمر میں روزنامہ ’’تسنیم‘‘ سے وابستگی اختیار کی جو بظاہر جماعت اسلامی کا اخبار تھا، مگر اسی اخبار کے نصراللہ خان عزیز جیسے قد آور ایڈیٹر کی چھتری تلے بے شمار لکھنے والے قد آور یا مزید قد آور ہو گئے۔ روزانہ صحافت میں آفاقی صاحب روزنامہ ’’آفاق‘‘۔۔۔ ’’نوائے وقت‘‘، ’’جنگ‘‘ احسان، امروز اورہفت روزوں میں ’’چٹان‘‘اقدام [جسے ہر اخبار ’’اقوام‘‘ لکھے جا رہا ہے]۔ وغیرہ میں اپنا نام اور مقام بناتے ہوئے روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ کے تحت جناب مجید نظامی کی سرپرستی میں شائع ہونے والے ہفت روزہ ’’فیملی میگزین‘‘ کے بانی ایڈیٹر ٹھہرے اور تادمِ مرگ یعنی27جنوری2015ء تک سرگرمِ کار رہے۔ گزشتہ دو ماہ سے علیل تھے، علالت کے باوجود میگزین کا کام بطور مدیر گھر پر دیکھتے رہے۔ بالآخر نمونیے کے حملے نے مرض الموت میں مبتلا کرکے چھوڑا ۔۔۔ 82برس کی عمر میں خاصی متحرک زندگی گزار کر رخصت ہوئے۔ان کی رہائش شروع سے ہی ماڈل ٹاؤن میں رہی، چنانچہ ماڈل ٹاؤن کے قبرستان میں ہی سپرد خاک ہوئے!

ایک بار انہوں نے ’’فیملی میگزین‘‘کا بہت ہی عظیم و ضیخم سالنامہ شائع کرنے کی ٹھانی تو اس وقت کے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف سے پیغام کی خواہش لکھ کر بھیجی، مَیں اُن دنوں وزیراعظم صاحب کا اسپیچ رائٹر‘‘ تھا۔ پیغام لکھنے کا فرض میرے سپرد ہوا۔ مَیں نے بروقت لکھ کر پی ایم سیکرٹریٹ بھجوا دیا۔ وہاں ایک پی آر او صاحب نجانے کیوں اس پر سانپ بن کے بیٹھ گئے۔ ادھر تقاضے پر تقاضا اُدھر وہ دبائے بیٹھے تھے۔ بھجوانے کا نام نہ لیتے تھے۔ پھر یہ معاملہ انور قدوائی صاحب کی ذاتی مداخلت سے حل ہو سکا تھا۔ میں فون پر علی سفیان آفاقی صاحب کے پیہم تقاضوں پر شرمندہ ہوتا مگر یہ نہ بتاتا کہ ان سے یا ان کے ادارے سے کَد رکھنے والے کوئی صاحب رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

محبِ محترم انور قدوائی اُن دنوں ’’نوائے وقت‘‘ میں ہی تھے اور ’’قلم کی آواز‘‘ کے عنوان سے بڑا کاٹ دار کالم لکھتے تھے جسے مَیں ہمیشہ ’’قلم کی مار‘‘ کہا کرتا تھا۔ انور قدوائی کو میاں نوازشریف صاحب نجی محفلوں میں ’’نواب صاحب‘‘ کہہ کر مخاطب کیا کرتے تھے۔ انور قدوائی ایک بڑے باپ کے بڑے بیٹے ہیں۔ اُن کے والدِ گرامی امیرالدین قدوائی بانیء پاکستان قائداعظم کے ساتھیوں میں سے تھے اور انہوں نے ہی پاکستان کا جھنڈا ڈیزائن کیا تھا۔امیر الدین قدوائی قد کاٹھ، وضع قطع لباس یعنی شیروانی اور چوڑی دار پاجامے، پمپ شوز، مخصوص کیپ اور مونچھوں کی تراش خراش کے ساتھ بالکل مولانا ابوالکلام لگتے تھے۔ جب وہ فین روڈ سے مال روڈ ’’شیزان‘‘ تک پیدل سیر کرتے ہوئے آتے یا مال کی فٹ پاتھ پر چل رہے ہوتے تو ان کی شخصیت کی انفرادیت کے سحر میں گم آتے جاتے لوگ انہیں رُ ک رُک کر دیکھتے تھے۔ جن میں اپنے طالب علمی کے دور میں، مَیں بھی شامل تھا۔۔۔

بتانا یہ مقصود تھا کہ مجھ سے ذاتی تعلق خاطر کے سبب انور قدوائی صاحب نے بھی کئی بار فون کرکے متذکرہ سالنامے کے لئے وزیراعظم کے پیغام کے لئے مجھے براہ راست فون پر بار بار یاد دہانی کرائی۔ میں کیا کہتا کہ لکھ تو چکا ہوں، ریلیز کیوں نہیں ہو رہا۔ مگر تابہ کے بالآخر مجھے تاخیر کا سبب بتانا ہی پڑا اور پھر ان کا زور پی ایم سیکرٹریٹ کی طرف ہوا اور میرا لکھا ہوا وزیراعظم کا خصوصی پیغام ریلیز ہوا، مگر اس وقت تک رسالہ چھپ چکا تھا مجھے یاد نہیں کہ اس شمارے میں الگ سے صفحہ چھاپتے ہوئے جگہ بنانا پڑی یا اگلے شمارے میں وہ شائع ہوا۔

علی سفیان آفاقی نے ’’دامِ خیال‘‘ اور ’’دریچے‘‘ کے عنوان سے مختلف اخبارات میں کالم بھی لکھے۔ اٹھارہ کے قریب ایوارڈز حاصل کئے جن میں 8گریجوایٹ ایوارڈز6 نگار ایوارڈز اور مختلف ایوارڈ شامل ہیں ’’سیاسی باتیں، سیاسی لوگ‘‘ ایک کتاب خاکوں کی بھی ہے۔ مولانا مودودی کی شخصیت پر بھی ایک کتاب ہے۔ کُل مطبوعہ کتابیں28ہیں، 40کے لگ بھگ فلموں کی کہانیاں لکھیں،سب سے پہلی فلم ’’ٹھنڈی سڑک‘‘ تھی۔ امریکہ، برطانیہ ، اٹلی اور کئی دیگر ممالک کے سفرنامے بھی لکھے۔ ریڈیو ٹی وی کے لئے بھی بہت کچھ لکھا۔ پی ٹی وی پر ایک پروگرام میں ’’شوخی ء تحریر‘‘ کے عنوان سے کرتا تھا جو ’’دادا دلدادہ‘‘ والے آفتاب احمد مرحوم پروڈیوس کرتے تھے۔ نصیر انور مرحوم سکرپٹ ایڈیٹر تھے ، مَیں ’’شوخیء تحریر‘‘ کے لئے مختلف رسائل و جرائد و کتب سے تحریریں انتخاب کرکے مصنف کی اجازت سے مختلف ڈراما نگاروں سے ڈرامائی تشکیل کراتا تھا۔ ایک تحریر علی سفیان آفاقی کی منتخب کرکے اپنے دوست عتیق اللہ شیخ سے ڈرامائی تشکیل کرائی اور حقیر سا اعزازیہ علی سفیان آفاقی کی تحریر کا پی ٹی وی والوں سے بھجوایا تو بڑے ممنون ہوئے۔ اظہار تشکر کے لئے مجھے خط بھی لکھا۔ ایسے وضعدار لوگ اب کہاں ہیں۔ ان سے تعلقِ خاطر کی اور بھی بہت سی باتیں ہیں۔ یادیں ہیں، مُلاقاتیں ہیں جو پھر کبھی سہی!

اردو نثر میں ہر پہلو سے رواں رہنے کے ساتھ شعر کے معاملے میں ڈاکٹر سلیم اختر کی طرح تھے۔ شاذو نادر ہی صحیح شعر لکھ پاتے۔ ہر عہد پر غالب میرزا اسد اللہ خاں غالب کا یہ شعر بار بار درست کرانے کے باوجود غلط لکھتے:

گنجینۂ معنی کا طلسم اُس کو سمجھئے

جو لفظ کہ غالب مرے اشعار میں آوے

مرنجاں مرنجاں اور عموماً نرم خوئی کے پیکر نظر آتے۔ دھیمے لہجے میں گفتگو کرتے،مگر حاسدوں اور دشمنوں کو زیر کرنے کے لئے شاہ نور یا ایورنیو اسٹوڈیوز میں اپنے کمرے سے بظاہر کسی ’’خود ساختہ‘‘ ملازم کو خوب مطؤن کرتے جبکہ ہدف کوئی اور ہوتا تھا۔بہرحال!

خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں!

مزید : کالم