چین کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا منصوبہ

چین کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا منصوبہ
چین کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا منصوبہ

  



جنوری کو بھارتی دورے کے آغا ز پرامریکی صدر با رک اوباما جیسے ہی دہلی کے پالم ائر پورٹ پر پہنچے تو بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کی جانب سے ان کو جنوبی ایشیا کے مخصوص انداز میں جھپی ڈالی گئی۔مودی کی اس جھپی کوبھارتی ، پا کستانی حتیٰ کہ بعض مغر بی اخبا رات اورنیوز چینلوں میں بڑے بھر پور طریقے سے پیش کیا گیا۔ مذاق کو ایک طرف رکھتے ہوئے اگر ہم مودی کی اوبا ما سے اس جھپی کو علامتی طور پر بھی دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ مودی وزیر اعظم بننے کے بعد امریکہ، یورپ، جنو بی ایشیا، جا پا ن، آسٹریلیا، روس، چین سمیت کئی اہم ممالک کے سربرا ہان مملکت سے ملا قا تیں کر چکے ہیں،مگر ان ملا قاتوں میں مودی نے جن بھی سربراہان مملکت سے جھپی ڈالی ان کے ساتھ ان کے تعلقا ت کی نوعیت سٹرٹیجک تھی۔ لیکن جب گز شتہ سال مئی میں پا کستانی وزیراعظم نواز شریف مودی کی حلف برداری کی تقریب میں دہلی گئے، تو مودی نے نواز شریف سے جھپی ڈالنے کی بجائے ہاتھ ملانے پر ہی اکتفا کیا۔ اسی طرح جب گزشتہ سال ستمبر میں چین کے صدرژی جن بھارت کے دورے پر گئے، تو مودی نے ان کے ساتھ بھی جپھی ڈالنے سے گریز کیا اور صرف ہا تھ ہی ملا یا، مگر جب مودی نے جاپان کے وزیر اعظم ایبے اور اور آسٹریلوی وزیر اعظم ٹونی ایبٹ سے ملا قات کی تو انہوں نے ان کو بھی بھرپور طریقے سے جپھی ڈالی۔ مودی کی خارجہ پا لیسی پر نظر رکھنے والا کو ئی بھی شخص یہ جا نتا ہے کہ مود ی کے آسٹریلیا اور خاص طور پر جا پا ن کے ساتھ تعلقات کی نوعیت ا سٹریٹجک ہے۔اور اب اوباما کے ساتھ بھی گلے ملنے سے واضح ہو گیا کہ مودی کے امریکہ سے تعلقات کی نوعیت سٹرٹیجک ہی ہے۔

امریکی صدر کے اس دورے میں بھارت کے ساتھStrategic Vision and the Declaration of Friendship.سمیت کئی اور معاہدوں سے اب بہت کچھ واضح ہو چکا ہے۔تاہم امریکی ، یورپی اور خود بھارتی اخبا رات اوباما کے اس دورے میں جس پیشرفت کو سب سے زیا دہ اہم قرار دے رہے ہیں وہ چین کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے حوالے سے ہے۔اوباما اور مودی کے درمیان 25جنوری کو ہونے والی با ہمی ملا قات میں 45 منٹ تک چین کا موضوع ہی زیر بحث رہا۔امریکی اخبا ر نیو یا رک ٹائمز کے وائٹ ہا وس کے ترجمان پیٹر بیکر، اپنی رپورٹ U.S. and India Share Sense of Unease Over Chinaمیں لکھتے ہیں کہ 45منٹ تک چین پر با ت چیت کے دوران با رک اوباما اور ان کا سٹاف کسی حد تک حیرت کا شکا ر تھے کہ بھا رتی وزیر اعظم مودی چین کے حوالے سے اپنے انہی خدشات اور تحفظا ت کا اظہا ر کر رہے تھے جیسے تحفظا ت اور خدشات امریکہ کو چین سے لا حق تھے۔اس ملا قات میں موجود ایک امریکی عہدے دار نے پیٹر کو بتا یا کہ مشرقی ایشیا اور پیسفک کے علاقوں میں چین کے بڑھتے ہو ئے اثر ورسوخ پر دونوں ممالک کا موقف یکساں تھا ۔ اور مودی نے واضح طور پر چین کے اس اثر کو روکنے کے لئے امریکہ کے ساتھ مشترکہ لا ئحہ عمل اختیا ر کرنے میں اپنی گہری دلچسپی کا بھی اظہا ر کیا۔مودی نے اوبا ما کے ساتھ مل کر مشترکہ اعلا میے میں South China Sea. کے اطراف میں موجود ممالک پر چینی کنٹرول کی کوششوں کی مذمت کرنے کی بھی حامی بھری۔ بھارتی وزیراعظم مودی نے 2007ء کو بنائے گئے Quadrilateral Security Dialogue کو بھی بحال کرنے کی تجویز پیش کی ۔ Quadrilateral Security Dialogue 2007ء میں امریکہ، بھارت، جا پان اورآسٹریلیا کی جانب سے شروع کیا گیا تھا تا کہ مشرقی ایشیا اور پیسفک کے علاقے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کو کم کیا جا ئے۔ تاہم آسڑیلیا نے بعد میں کیون رڈ کی وزارت عظمیٰ کے دوران اس معا ہدے سے الگ ہو نے کا اعلان کیا ۔

اوبا ما کے دورہ بھارت کے بعد اب ایک بار پھر چین کے اثر ورسوخ کو کم کرنے کے لئے اس سیکیو رٹی مکالمے کا آغا ز ہو سکتا ہے،جبکہ امریکہ اور بھارت کے ما بین ایٹمی معاہدے پر پیشرفت کہ جس کے تحت بھارت امریکہ کے علا وہ دیگر ممالک سے بھی فیول حا صل کر پائے گا اور اس کے بدلے بھارت ایٹمی ری ایکٹروں میں کسی بھی قسم کے نقصان پرامریکی کمپنیوں جنرل الیکٹرک اور ویسٹنگ ہاؤس سے کو ئی ہرجا نہ طلب نہیں کرے گا (ان رکا وٹوں کے با عث امریکہ، بھا رت ایٹمی معا ہدے میں کو ئی پیش رفت نہیں ہو پا رہی تھی)جبکہ اوبا ما کی جانب سے48رکنی ایٹمی سپلا ئیرز گروپ میں بھارت کی شمولیت کی حما یت پر چین کی وزارت خا رجہ کی ترجمان نے سخت تحفظا ت کا اظہا ر کیا ہے، کیونکہ بھارت نے Nuclear Nonproliferation Treatyپر دستخط نہیں کئے، اس گروپ میں شامل ہونے کے بعد بھارت وہ واحد ایسا ملک ہو گا، جس نے اس معا ہدے پر دستخط نہیں کئے،جبکہ اوبا ما کے حا لیہ دورے کے دوران \"2015 Framework for the US-India Defense Relationship,\" کے مطابق دونوں ممالک فوجی مشقوں میں مزید اضا فہ کریں گے ۔ یہاں یہ با ت دلچسپی سے خالی نہیں کہ امریکہ جس ملک کے ساتھ گز شتہ کئی سال سے فوجی مشقیں کر رہا ہے وہ بھا رت ہی ہے۔فوجی مشقوں میں اضا فے کا مقصد بھی یہی ہے کہ خلیج بنگال میں جا ری چینی بحریہ کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے۔با رک اوباماکے دورہ بھارت پر چین کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے منصوبوں پر چین کا ردعمل ان چینی اخبا رات میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جو چینی حکومت کے ترجمان اخبا رات سمجھے جاتے ہیں۔ جیسے چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی Xinhuaنے اوباما کے اس دورے پر طنز کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکہ ایک ایسے شخص (مودی )کے ساتھ معا ہدے کررہا ہے کہ جس کا اس نے 2005ء میں امریکہ کے لئے ویزہ منسوخ کردیا تھا (گجرات فسادات کی بناء پر)Xinhuaنے بھارت امریکی حالیہ پیشرفت کو سطحی مفا ہمت سے تعبیر کیا ہے، جبکہ چین کے ریا ستی اخبا ر ’’گلو بل ٹائمز‘‘ نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ امریکہ ، بھا رت کو چین کے خلاف ورغلا رہا ہے بھارت کو چین کے خلاف ورغلانے سے چین کا کچھ نہیں بگڑے گا۔چینی حکومت کے ایک اور ترجمان اخبا ر پیپلز ڈیلی نے نئی دلی کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو امریکی چال میں پھنسنے سے بچا ئے۔امریکہ بھارت کے ساتھ ایک ارب ڈالرز جبکہ چین اس کے ساتھ 500 ارب ڈالرز سے بھی زائد کی تجا رت کرتا ہے، اس لئے بھارت کو امریکہ کی با توں پر کان نہیں دھرنے چاہیں۔

بھارتی وزیر اعظم مودی امریکہ نوازی میں چین کے خلاف اس حد تک آگے جا ئیں گے اس کا اندازہ چین کے ساتھ ساتھ خود بھارت کے کئی سیا سی و صحا فتی حلقوں کو بھی نہیں تھا۔چین کے خلاف امریکہ کے سٹرٹیجک حصار میں شامل ہو کر بھارتی حکمران صرف اپنے ملک کہ جو لاتعداد مسائل میں گھرا ہوا ہے زیا دتی نہیں کر رہے، بلکہ جنوبی ایشیا سمیت پورے خطے کے امن سے بھی کھیل رہے ہیں۔ جنرل راحیل شریف کے حالیہ دورہ چین پر چینی ملٹری کمیشن کے وائس چیر مین Gen Fanکی جانب سے پاکستان اور چین ’’کو فولادی بھائی‘‘ قرار دینے کو مغربی اور بھارتی میڈیا کا ایک حصہ امریکہ بھارت تعلقات کی حالیہ پیشرفت کے تناظر میں انتہا ئی اہم قرار دے رہا ہے۔ظاہر ہے اگر ایک طرف امریکہ اعلانیہ بھارت کو چین کا مقا بلہ کرنے کیلئے تیا ر کرے گا تو اس کے ردعمل میں چین پا کستان کو بھارت کے مقابلے میں اتا رنے میں حق بجانب ہو گا ۔ یوں پا ک بھارت تعلقا ت جو پہلے ہی کشیدہ ہیں ان میں مزید کشیدگی آئے گی اور اس کے نتیجے میں یہاں کے مزید وسا ئل ،غربت، افلاس اور جہا لت پر صرف ہونے کی بجائے عسکری وسائل پر ہی صر ف ہوتے رہیں گے، جس سے امریکی اور مغربی اسلحہ ساز کا رپوریٹ سیکٹرز اور یہ اسلحہ خرید نے والے ممالک میں موجود ان کے کا سہ لیسوں کے علا وہ اور کسی کا فا ئدہ نہیں ہو گا۔

مزید : کالم


loading...