باوقار رُخصتی

باوقار رُخصتی
باوقار رُخصتی

  



گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے استعفیٰ دے دیا ہے ۔ گورنر ہاؤس میں اب نئے گورنر کے استقبال کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں ۔ چودھری محمد سرور نے پنجاب کے گورنر کے لئے برطانیہ کی شہریت چھوڑی تھی ۔ وہ گورنر پنجاب بنے تو انہوں نے بہت سے شعبوں میں اہم کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا مگر انہیں شاید یہ علم نہیں تھا کہ گورنر کا عہدہ آئینی ہوتا ہے ۔ گورنر پنجاب کے نام پر پورا نظام حکومت چلایا جاتا ہے، مگر خود اسے کچھ کرنے کا اختیار نہیں ہوتا ۔ اور اسے کچھ نہ کر کے کمال کرنے کا تاثر دینے کے لئے گورنر ہاؤس جیسی عظیم الشان عمارت دی جاتی ہے ۔

گورنر ہاؤس سے نواب کالا باغ گورنری کرتے رہے ۔ ان کے رعب و دبدبے کے سامنے کوئی نہیں ٹھہرتا تھا ۔ اس کے بعد غلام مصطفی ٰکھر نے گورنر کے طو رپر اپنی حیثیت کو منوایا ۔ تاہم انہوں نے طاقتور گورنر کے ساتھ ساتھ ایک ایسے گورنر کے طو رپر بھی شہرت حاصل کی، جو شادیوں کے حوالے سے معروف ہوئے ۔ فوجی حکمرانوں کے اکثر گورنر بھی اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے رہے ، مگر جب بھی جمہوریت آئی گورنر ہاؤس ایسے افراد کے سپرد کر دیا جاتا رہا، جو جسمانی طو رپر تو موجود ہوتے تھے مگر ان کے بے اختیار ہونے کی داستانیں مشہور ہوتی رہتی تھیں ۔ ایک گورنر کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس جب لوگ اپنے مسائل لے کر آتے تھے تو وہ ہاتھ اٹھا کر ان کے حل کے لئے خضوع و خشوع سے دعا کر دیتے تھے ۔ اگر کوئی انہیں کسی افسر کو فون کرنے کے لئے کہتا تھا تو وہ اسے ایسی نظروں سے دیکھتے تھے کہ درخواست کرنے والا شرمندہ ہو جاتا تھا ، لیکن یہ وہ لوگ تھے جن کا کام وہ نہیں کرنا چاہتے تھے، جن کے کام کروانے ہوتے تھے وہ کرا لیتے تھے۔

چودھری محمد سرور باوقار طریقے سے رخصت ہوئے ہیں ۔ انہوں نے اپنا عہدہ چھوڑنے کی وجہ انصاف کی صورت حال کو قرار دیا ہے ۔ ہمارا خیال ہے کہ ان کے قریبی مشیروں نے انہیں سمجھانے کی کافی کوشش کی ہو گی کہ جناب آپ کے عہدہ چھوڑنے سے انصاف کی صورت حال بہتر نہیں ہو گی او رنہ ہی لینڈ مافیا تائب ہو جائے گی، مگر اس کے باوجود گورنر صاحب کئی ماہ سے عہدہ چھوڑنے کی ضد کر رہے تھے او ربالآخر انہوں نے یہ ضد پوری کر دی بطور گورنر انہوں نے اپنی آخری تقریر میں وزیراعظم نواز شریف ، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے واضح طو رپر کہا کہ ان کے کبھی کسی بیان پر ان سے وضاحت طلب نہیں کی گئی اور وہ اپنی مرضی سے عہدہ چھوڑ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ سچ بولنے پر یقین رکھتے ہیں اور وہ سچ بولنے سے کبھی باز نہیں آ سکتے ۔ جب وہ پریس کانفرنس میں میڈیا کے نمائندوں کو یہ بتا رہے تھے، تو اس وقت پاکستان ٹیلی ویژن پر خبر نشر ہو رہی تھی کہ صدر نے گورنر سے استعفیٰ طلب کیا تھا ۔ یہاں چودھری سرور کو اپنے سچ بولنے پر فخر تھا وہاں پاکستان ٹیلی ویژن پوری ’’ جرأت ‘‘ کے ساتھ اپنا ’’ سچ ‘‘ بیان کر رہا تھا ۔

چودھری سرور پاکستان کے غالباً پہلے گورنر ہیں جو اپنی مرضی سے یہ عہدہ چھوڑ کر گئے ہیں او رایک اعتبار سے اسے بھریا میلہ چھوڑنا بھی کہا جا سکتا ہے، مگر یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انہیں صدر اوبامہ کے پاکستان کا دورہ نہ کرنے کے بیان پر اقتدار سے رخصت ہونا پڑا ہے ۔ اگرچہ چودھری سرور صاحب نے اس کی وضاحت کی ہے او راس خبر یا افواہ کو غلط ثابت کیا ہے ۔ تاہم تجزیہ نگاروں کو اس میں زیادہ صداقت نظر آتی ہے ۔ عام طور پر پاکستان میں اس کو سچ سمجھا جاتا ہے جس کو اینکر پرسن اور تجزیہ نگار سچ قرار دیں، مگر پاکستان میں تجزیہ نگاروں نے بات کرنے کا ہنر تلاش کر لیا ہے اور وہ بات کو ایسے انداز سے کرتے ہیں کہ اس سے بیک وقت کئی مفہوم نکالے جا سکتے ہیں اور بیک وقت کئی مخالف پارٹیوں سے داد وصول کی جا سکتی ہے ۔

گورنر پنجاب کے عہدے کے لئے دوڑیں شروع ہو گئی ہیں ۔ اس مرحلے پر بہت سے لوگ میڈیا کے ذریعے اپنا نام گورنر کے طور پر پیش کر رہے ہیں ۔ ذکیہ شاہنواز ، رانا ثنا ء اللہ جعفر اقبال اور مسلم لیگ (ن) کے کچھ دوسرے اکابرین کے نام ممکنہ گورنر کے طور پر میڈیا میں نظر آ رہے ہیں ، مگر ہمیں حیرت ہے کہ میڈیا عطالحق قاسمی کے نام کو بالکل نظر انداز کر رہا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کے انتخابات میں کامیابی کے بعد جب گورنر کی تبدیلی کے امکانات واضح ہو چکے تھے اس وقت میڈیا میں جناب عطا ء الحق قاسمی کا نام بھی زیر بحث آیا تھا۔ چودھری سرور کے برطانیہ سے تعلق کو ہدف تنقید بھی بنایا گیا تھا ، مگر بہر حال چودھری سرور کو گورنر پنجاب بنا دیا گیا ۔ اب جبکہ چودھری سرور گورنر ہاؤس سے رخصت ہو چکے ہیں ۔توہم نئے گورنر کے طو رپر جناب عطا ء الحق قاسمی کے نام کو پیش کرنے کی جسارت کرتے ہیں ۔عطا ء الحق قاسمی کو پاکستانی صحافت کا آرٹ بکوالڈ قرار دیا جاتاہے ۔ انہیں ناروے میں سفیر مقرر کیا گیا تو انہوں نے ثابت کر دیا کہ مایوس ہونا ہی نہیں مایوس کرنا بھی گناہ کے زمرے میں آتا ہے اور انہوں نے اپنی پر بہار شخصیت سے امید کے کئی چراغ روشن کئے تھے ۔ اس وقت ان کا فیض او ر نواز شریف سے وفاداری محض الحمراء تک محدود ہے ۔ اگر انہیں کچھ دور گورنر ہاؤس میں منتقل کر دیا جائے تو اس سے کم از کم کسی کو یہ شکایت نہیں ہوگی کہ گورنر نے کوئی بیان جاری کر دیا یا گورنر نے استعفیٰ دے دیا ۔ عطا ء الحق قاسمی جس طرح الحمراء میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ اسی طرح گورنر ہاؤس میں بھی وہ ادبی محفلیں بپا کرتے رہیں گے۔ چودھری سرور کو شکایت تھی کہ ان کے پاس کوئی ڈھنگ کا کام کرنے کے لئے نہیں تھا ۔ ایسی ہی خواہش ملکہ برطانیہ کے دل میں بھی جنم لیتی ہو گی، مگر وہ اپنی آئینی حدود سے واقف ہیں، اس لئے انہوں نے کبھی سرعام ایسی شکایت نہیں کی اور نہ ہی تعلیم یا صحت کے شعبوں سے اِٹ کھڑکا کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ہمارا خیال ہے کہ عطاء الحق قاسمی کی ادبی سرگرمیاں آئینی حدود میں رہیں گی۔ اس لئے انہیں بطور گورنر بھی آزما کر دیکھ لینا چاہئے۔

مزید : کالم