محمد عامر کی واپسی؟ اعتراض چھوڑیں!

محمد عامر کی واپسی؟ اعتراض چھوڑیں!

  



پانچ سالہ پابندی کے شکار پاکستان کے نو عمر فاسٹ باؤلر محمد عامر کو آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کی رپورٹ کے بعد پابندی ختم ہونے سے صرف چھ ماہ قبل ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت مل گئی، جس کی وجہ عامر کا آئی سی سی قواعد کے مطابق ’’اچھا بچہ‘‘ بننے کے لئے تعاون ہے۔ اب عامر نے خود کو صرف کرکٹ کے لئے وقف کرنے کی بات کی ہے۔

محمد عامر پابندی میں اکیلے نہیں، سلمان بٹ اور محمد آصف بھی ان کے ساتھ تھے۔ سلمان بٹ اور محمد آصف کو یہ رعایت نہیں دی گئی۔محمد عامر کو تو قید میں بھی عمر اور اچھے رویے کی وجہ سے تھوڑی رعایت مل گئی تھی۔ عامر نے اعتراف بھی کیا اور معافی بھی مانگی تھی تاہم ایک امر اب بھی قابل غور ہے کہ ان تینوں کو میچ فکسنگ کے حوالے سے ایک میگزین کے رپورٹر نے پھنسایا۔ یہ میگزین بند ہو چکا اور اس رپورٹر کے خلاف بہت کچھ باہر آ چکا، بہت لوگوں کو عدالت کے ذریعے معاوضہ بھی ملا اور اب یہ رپورٹر مقدمات بھگت رہا ہے۔اس دور میں یہ بھی دلیل دی گئی تھی کہ پاکستان کے تینوں کھلاڑیوں کو ایک سازش کے تحت لالچ دے کر پھنسایا گیا۔عامر تو بہرحال نو عمر تھا، ان سب کا یہ پہلا قصور تھا،جس کی ان کو سزا ملی۔

محمد عامر کے مسئلہ پر کرکٹ کے حلقوں میں تقسیم ہو گئی، زیادہ لوگ اُس کی واپسی کی حمایت اور کم مخالفت کر رہے ہیں، وجہ صاف ظاہر ہے کہ عامر ایک ابھرتا ہوا نیا وسیم اکرم ہے جسے کھو کر پاکستان کو فاسٹ باؤلنگ کے شعبہ میں بہت نقصان ہوا۔ محمد آصف اور اس کی جوڑی اچھی جا رہی تھی، مخالفت کرنے والوں کو پورے پس منظر اور پاکستان کی کرکٹ کی حالتِ زار پر غور کرنا چاہئے کہ اس جوڑی کے بعد بہت باؤلر آزمائے گئے، اچھی پرفارمنس بھی سامنے آئی، پھر فٹنس کے مسائل پیدا ہو گئے، اب جنید خان اور عمر گل ورلڈکپ سے باہر ہیں، محمد عرفان بہت زیادہ بوجھ برداشت نہیں کر پاتا، احسان عادل اور سہیل خان ورلڈکپ جتانے والے نہیں، اس لئے پاکستان ٹیم بیٹنگ کے بعد اب باؤلنگ کے شعبہ میں بھی مشکلات کا شکار ہے کہ سعید اجمل اور محمد حفیظ کی خدمات بھی حاصل نہیں ہیں اور بورڈ نے متبادل کی کوئی سکیم ہی نہیں بنائی ہوئی۔

ایسے میں اگر محمد عامر اور اس کے بعد محمد آصف کی واپسی ہوتی ہے جو سزا بھی بھگت چکے، تو ان کو یقیناًنصیحت بھی آئی ہو گی کہ پانچ سال کرکٹ سے باہر رہنا ذہنی اور مالی طور پر بہت نقصان دہ ہے، اس لئے مخالف حضرات کو ان کی واپسی پر اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ البتہ ان کھلاڑیوں کے لئے یہ ہدایت ہو کہ مستقبل کا رویہ ٹھیک رکھیں، جہاں تک قومی ٹیم میں واپسی کا تعلق ہے تو یہ ان کی پرفارمنس پر منحصر ہو گا۔ اگر ان میں صلاحیت بچ گئی ہے ،تو واپس آ جائیں گے ورنہ بہت سے کھلاڑی کارکردگی کے باوجود رُل رہے ہیں، اس لئے ماضی کو چھوڑیں مستقبل کا خیال کریں۔ پاکستان کرکٹ کو محمد عامر اور محمد آصف جیسے باؤلروں کی شدید ضرورت ہے۔ *

مزید : اداریہ


loading...