گورنر پنجاب کا استعفیٰ

گورنر پنجاب کا استعفیٰ

  



پاکستان میں سچ کے مبینہ قحط نے گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کو مستعفی ہونے پر ’’مجبور‘‘ کر دیا۔ ان کا استعفیٰ منظور بھی کر لیا گیا اورسپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال نے قائم مقام گورنر کا عہدہ سنبھال لیا۔ چودھری سرور نے گورنر ہاوس میں الوداعی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لینڈ مافیا اور قبضہ گروپس گورنر سے زیادہ طاقتور ہیں۔گورنر ہاؤس سے باہر رہ کروہ غریب عوام کی بہتر خدمت کرسکتے ہیں۔ان کاکہنا تھا کسی نے ان سے استعفیٰ نہیں مانگا اگر صدر کی جانب سے استعفے کی طلبی ثابت ہو جائے ،تووہ سزا کے لئے تیار ہیں،ان سے کسی نے ان کے(کسی) بیان کی وضاحت مانگی اور نہ ہی کوئی نوٹس لیا گیا۔وہ استعفے کا فیصلہ چار ماہ پہلے کرچکے تھے، لیکن دھرنوں کے باعث انہوں نے فیصلہ موخر کر دیا تھا۔چودھری محمد سرور بہت سے خواب لے کر آئے تھے، لیکن ان کی تکمیل نہ ہو سکی ، جس پر دل گرفتہ ہو کر انہوں نے عہدے سے علیحدگی اختیار کر لی۔ انہوں نے بیرون ملک پاکستانیوں سے معذرت کی کہ وہ ان کے مسائل حل نہیں کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ظلم و نا انصافی میں اضافہ ہو رہا ہے ،غریبوں کے مسائل بڑھ رہے ہیں ،گھمبیر ملکی مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھتے چلے جا رہے ہیں، قبضہ گروپس متحرک ہیں، انصاف کمزور ہے ،زنا بالجبر اور عورتوں پر تیزاب پھینکنے کی وارداتیں بڑھ رہی ہیں،کمسن بچوں، بچیوں کو اغوا کر کے بداخلاقی کے بعد قتل کر دیاجاتا ہے۔قاتل دندناتے پھرتے ہیں مقتولوں کے لواحقین انصاف کے لئے دربد کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ، ان کا پرسان حال کوئی نہیں ہے۔ انہوں نے پاکستانیوں سے وعدہ بھی کیا کہ ان کا جینا اور مرنا پاکستان ہی میں ہے، وہ شوکت عزیز اور معین قریشی کی طرح مُلک چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے۔

چودھری سرور نے اگست 2013ء میں گورنر پنجاب کا عہدہ سنبھالا تھا، انہوں نے 2013ء کے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کی بھرپورحمایت کی اور اس کی انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔مسلم لیگ(ن) کی حکومت قائم ہونے کے بعد گورنر پنجاب بننے کے لئے انہیں اپنی برطانوی شہریت ترک کر کے پاکستان آنا پڑا۔وہ ایک غیر معمولی شخصیت کے مالک ہیں، کوئی جدی پشتی رئیس نہیں۔ انہوں نے پنجاب کے ایک گاؤں میں رہائش پذیر متوسط طبقے کے گھر انے میں آنکھ کھولی۔ برطانیہ جا کر پیٹ بھرنے کے لئے مزدوری بھی کی اورپھر اپنی محنت اور لگن کے بل پر برطانوی پارلیمنٹ تک رسائی حاصل کی۔1997ء کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے وہ برطانوی پارلیمنٹ کے ممبر بنے، وہ پہلے پاکستانی اور مسلمان تھے جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوا۔ وہ پہلے ایشیائی تھے، جو ہاؤس آف کامن کی کسی پارلیمنٹری سلیکٹ کمیٹی کے چےئرمین منتخب ہوئے۔چودھری سرور نے سکاٹ لینڈ میں1987ء میں اپنا پہلا الیکشن لیبر کونسلر کی سیٹ کے لئے لڑا تھا، وہ بلدیاتی اداروں کی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں اور ان کے بہت بڑے حمایتی بھی ہیں۔انہوں نے برطانیہ میں ہونے والے2010ء کے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا، تو ان کے بیٹے انس سرور نے ان کی جگہ انتخاب لڑا اور کامیابی حاصل کی۔چودھری سرور نے جب پاکستان آ کر گورنر کا عہدہ سنبھالا، تو بہت سے لوگوں کا ماتھا ٹھنکا تھا، بہت سے حلقوں میں یہ خیال پایا جاتا تھا کہ وہ اپنے مطلوب مقاصد حاصل نہیں کر پائیں گے،ان کی آرزوؤں اور تمناؤں کی تکمیل آسان نہیں ہے، بالآخر یہ بات سچ ثابت ہو گئی۔ گورنر کے عہدے کی آئینی حدود، لامحدود خواہشات کی متحمل نہ ہو سکیں۔

چودھری سرور نے ساری زندگی برطانیہ میں سیاست کی،وہ پاکستانی سیاست کے داؤ پیچ کا عملی تجربہ نہیں رکھتے،ان کی زبان وہی کہتی ہے، جو ان کے دل میں ہوتاہے،بے دھڑک ہر بات کہہ دینے کی عادت ہی کی وجہ سے انہوں نے کئی مواقع پر ایسی باتیں کر دیں، جو بحیثیت گورنر ان کو نہیں کرنی چاہئے تھیں۔بہت سے حلقوں کا خیال ہے کہ امریکی صدر اوباما کے دورۂ بھارت کے بارے میں دیا جانے والا بیان ان کے استعفے کا سبب بنا۔انہوں نے اوباما کے پاکستان نہ آنے کو خارجہ پالیسی کی ناکامی قرار دیا تھا، ہو سکتا ہے حکومت کو ان کا یہ بیان پسند نہ آیا ہو، لیکن چودھری سرور کا دعویٰ ہے کہ یہ استعفیٰ انہوں نے اپنی مرضی سے دیا ہے، اگر استعفے کا مطالبہ ثابت ہو جائے تو وہ ہر قسم کی سزا کے لئے تیار ہیں۔

چودھری سرور دل میں پاکستان کی حالت سدھارنے کا خواب لے کر آئے تھے، وہ بہت کچھ کرنا چاہتے تھے، لیکن نہیں کر پائے،وہ اپنی مرضی کے مطابق تبدیلی نہیں لا پائے، ڈیڑھ سال کے قلیل عرصے میں ہی ہمت ہار بیٹھے ،حالانکہ روایتی اور زخمی نظام کی مرہم پٹی کے لئے ایک عرصہ درکار ہے۔ہمارے نظام حکومت میں گورنر کی حیثیت محض آئینی سربراہ کی ہے اور اٹھارہویں ترمیم نے اس منصب کو اور بھی کمزور کر دیا ہے،گورنر کو ہر معاملے میں وزیراعلیٰ کے مشورے کے مطابق چلنے کا پابند بنا دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ گورنر جو پہلے سرکاری یونیورسٹیوں کے چانسلر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سر انجام دیتا تھا، ہائی کورٹ کے ایک فیصلے نے اس میں بھی وزیراعلیٰ کو بااختیار بنا دیا ہے۔یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ موجودہ نظام میں گورنر کا عہدہ بس نا م ہی کا ہے۔

حکومت اگر چاہتی تو ان کی خصوصیات اور تجربے سے فائدہ اٹھا سکتی تھی۔پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ جب پاکستان پہنچنے پر طیارے سے نکلنے کو تیار نہیں تھے تو وہ چودھری سرور ہی تھے، جنہوں نے گورنر سندھ عشرت العباد کے ساتھ مل کر انہیں باہر آنے پرضامند کیا، دھرنے کے دوران بھی وہ مفاہت کے لئے متحرک رہے۔پاکستان کو جی ایس پی پلس اسٹیٹس دلانے میں بھی ان کا بڑا ہاتھ تھا۔بطور گورنر وہ تعلیمی اداروں کی سرگرمیوں میں خصوصی دلچسپی رکھتے تھے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لئے پُرعزم تھے۔ اگر پنجاب میں بھی سندھ کی طرح کا کوئی اہتمام کر کے گورنر کے عہدے میں کچھ ہوا بھر دی جاتی تو شائد ایسے حالات پیدا نہ ہوتے، یا پھر مرکز میں اہم ذمہ داری دے کر ان کی دِل جوئی کی جا سکتی تھی، لیکن ایسا بھی نہیں ہو پایا۔بہرحال بطور گورنر چودھری سرور کا دور اچھا رہا، وہ وسیع حلقے کی خوشی غمی میں شریک ہوتے تھے، انہوں نے گورنر ہاؤس کو آباد کیا، وہاں مختلف نوعیت کی تقریبات منعقد کرانے کا آغاز ہوا،گورنر ہاؤس کے دروازے کھول دیئے۔ تعلیمی اداروں میں میرٹ کی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کی۔ مسلسل مسائل کی نشاندہی کرتے رہے، بے دھڑک اپنے موقف کابھی اظہار کرتے رہے۔ بطور گورنرانہوں نے اپنی عزت گنوائی نہیں،بلکہ ان کی قدر و منزلت میں اضافہ ہی ہوا،رخصت ہوتے ہوئے بھی ان کی آنکھ نم اور دل غمگین ضرور تھا، لیکن سر جھکا ہوا ہرگز نہیں تھا۔

مزید : اداریہ


loading...