شالیمار ،با اثر افراد کے تشدد سے معذور ہونیوالے شخص کی انصاف کیلئے دہائی

شالیمار ،با اثر افراد کے تشدد سے معذور ہونیوالے شخص کی انصاف کیلئے دہائی

  



 لاہور(کرائم سیل) شالیمار کے علاقے محمد دین کالونی کے رہائشی محنت کش محمد صدیق نے ’’پاکستان‘‘ کے دفتر میں اپنے بیٹے نصیر اور دیگر عزیز و اقارب کے ہمراہ بتایا ہے کہ محلے دار نوجوان قیصر نے اس کی نو عمر بیٹی سے چھیڑ چھاؤ کی ، جھگڑا ہونے پر ملزم قیصر، اس کے بھائیوں کاشف، عاطف، والد عاشق اور والدہ ساجدہ بی بی آ گئے، شہری محمد صدیق کے مطابق ملزمان قیصر اور کاشف وغیرہ نے اس پر سریوں اور لوہے کے راڈوں سے حملہ کر دیا اور مار کٹائی کے دوران سریے کے پے در پے وار کر کے ٹانگ توڑ دی جس سے زندگی بھر کے لےء معذور ہو گیا ہوں، جبکہ ملزمان نے سر پر ڈنڈے برسائے جس سے سر دو جگہ سے پھٹ گیا، شہری صدیق کے مطابق ملزمان نے اس کی بیوی اور جواں سالہ بیٹی کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور ڈاکٹر کی میڈیکل رپورٹ پر شالیمار پولیس نے مقدمہ نمبر964/14درج کیا، جس میں ڈاکٹر نے 337/F6، 337/A2،337تھری سمیت دیگر سنگین دفعات کی رپورٹ دی اور مقدمہ میں پولیس نے خواتین پر تشدد ہونے پر ملزمان کے خلاف 354ت پ کا جرم بھی لگا رکھا ہے شہری محمد صدیق کے مطابق ملزمان قیصر، کاشف اور عاشق وغیرہ نے عدالت سے عبوری ضمانتیں کروا رکھی ہیں جبکہ ملزمان صلح کے لئے دباؤ ڈال رہی ہے اور صلح نہ کرنے پر جھوٹے مقدمات درج کروانے کے لئے پولیس حکام کو درخواستیں دے رہی ہے اس میں مقدمہ کے تفتیشی افسر کو بھی ملوث کر کے ہراساں کیا جا رہا ہے، شہری نے آئی جی پولیس، سی سی پی او لاہور، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی انوسٹی گیشن سے اپیل کی ہے کہ اسے انصاف فراہم کیا جائے، جبکہ اس حوالے سے تفتیشی افسر شوکت علی اور انچارج انوسٹی گیشن حاجی مقصود احمد نے ’’پاکستان‘‘ کو بتایا کہ مقدمہ مدعی محمد صدیق کے ساتھ مکمل انصاف کیا جا رہا ہے، ملزمان نے 3فروری تک عدالت سے قبل از گرفتاری عبوری ضمانت میں کروا رکھی ہیں ملزمان مقدمہ میں مکمل طور پر گنہگار ہیں اور عدالت سے ضمانتیں خارج ہونے پر گرفتار کر کے آلہ خدمات ڈنڈے اور سریے برآمد کئے جائیں گے۔

مزید : علاقائی