آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کے نام کھلا خط

آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کے نام کھلا خط
آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کے نام کھلا خط

  



تھانہ کلچر میں تبدیلی اور اصلاحات کے حوالہ سے اس وقت مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے درمیان مقابلہ کی فضا ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا تو دعویٰ ہے کہ انہوں نے خیبر پختونخوا میں پولیس میں انقلابی تبدیلیاں کر دی ہیں، جبکہ میاں شہباز شریف کی حکومت بھی پولیس اصلاحات کے ایک پلان پر مرحلہ وار کام رکر رہی ہے۔ میاں شہباز شریف سے جب ان کے گزشتہ دور حکومت کے اختتام پر آخری پریس کانفرنس میں سوال کیا گیا کہ آپ اپنی کامیابیاں تو بہت گنوا رہے ہیں۔آپ کی سب سے بڑی نا کامی کیا ہے۔ تو انہوں نے کہا تھا کہ ان کی سب سے بڑی نا کامی تھانہ کلچر تبدیل کرنے میں نا کامی ہے۔ دُعا ہی کی جا سکتی ہے کہ وہ اس بار نا کام نہ ہوں اور پنجاب پولیس سے عام آدمی کو انصاف مل سکے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر عام آدمی کو پولیس سے انصاف مل جائے تو عدالتوں کا بوجھ بھی کم ہو جائے۔ ایف آئی آر کے اندراج سے لے کر ایماندارانہ تفتیش تک ہر مرحلہ پر انصاف کی پہلی دہلیز پولیس ہے۔یہ بات بھی حقیقت ہے کہ عدالتوں کی باری تو بہت بعد میں آتی ہے۔ آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا نے تو پنجاب پولیس کی وردی میں تبدیلی کی بھی بات کی ہے۔ یہ بھی ٹھیک ہے ۔ یہ وردی دہشت اور نا انصافی کی علامت بن چکی ہے، لیکن صرف وردی بدلنے سے انقلاب نہیں آئے گا۔ مجھے یاد ہے کہ نئے آئی جی کے دفتر کا افتتاح تھا ، تو اس وقت کے آئی جی نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ پچھلا دفتر اتنا برا تھا کہ اس میں بیٹھ کر لگتا تھا کہ آئی جی سمندر کی تہہ میں دھنس گیا ہے۔ سانس بند ہو جا تا تھا، جبکہ یہ دفتر کھلا اور ہوا دار ہے۔یہاں بیٹھ کر ایک کھلے اور ہوا دار ماحول میں عام آدمی کو انصاف دینے میں آسا نی ہو گی۔ سجاد سرور اور محمد الیاس دوست ہیں۔ سجاد سرور پیشہ سے رنگ ساز ہے،جبکہ محمد الیاس الیکٹریشن ہے۔ دونوں غریب آدمی ہیں۔ دیہاڑی پر کام کرتے ہیں۔ ان کی اور کسی چیز کی گواہی دینا تو شائد مشکل ہو، لیکن غربت کی گواہی اور قسم میں ضرور دے سکتا ہوں۔ دونوں کی خواہش ہے کہ آئی جی پنجاب آدھ گھنٹہ ایک بند کمرے میں بیٹھ کر ان کے ساتھ ہونے والے فراڈ اور ظلم کی داستان سُن لیں۔ بظاہر ایک معمولی خواہش لگتی ہے، لیکن آج کے مصروف دور میں یہ بہت مشکل بھی ہے۔ مَیں نے انہیں کہا کہ تم آئی جی کے نام خط لکھ دو میں ان تک پہنچا دوں گا۔ وہ خط بھی لکھ لائے ہیں۔ اب میں سوچ رہا ہوں کہ اگر یہ خط آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کو میں نہ پڑھوا سکا، تو امانت میں خیانت ہو جائے گی۔ اس لئے یہ فیصلہ کیا کہ اس خط کو کالم میں لکھ دوں۔ امکان ہے کہ آئی جی پنجاب پڑھ لیں گے۔ اور شائد سجاد سرور رنگ ساز اور محمد الیاس الیکٹریشن کو وہ انصاف مل جائے، جس کی وہ برسوں سے تلاش میں ہیں۔ خط حاضر ہے۔

جناب آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا صاحب ۔

السّلام و علیکم ۔

عرض ہے کہ ہم نے 2006 ء میں پاکپتن کے رہائشی تین سگے بھائیوں سید اظہار حسین شاہ ۔ سید افتخار حسین شاہ اور سید وقارحسین شاہ کو محمد الیاس کے والد کو حج اکبر کروانے کے لئے دو لاکھ تیس ہزار روپے دئے۔ سجاد سرور نے اپنے بھائی کو نوکری لگوانے کے لئے ایک لاکھ روپے تیس ہزار روپے دئے۔ اسی طرح دیگر کاموں کے لئے مختلف رقوم دی گئیں،جن کی ایف آئی آر 67/11 تھانہ ملکہ ہانس ضلع پاکپتن بجرم 420-467-468-471 درج ہوئی۔ اس مقدمہ میں ملزمان نے اپنی ضمانت کے لئے ہمیں چار لاکھ کا چیک عدالت میں بتاریخ 6-5-2011 کو دیا ۔ یہ چیک ملزم افتخار حسین شاہ کی طرف سے تھا، جس کے عوض تینوں ملزمان کی ضمانت ہوئی۔ بعدازاں ملزمان کا یہ چیک کیش نہ ہوا۔ تو ہم نے ضمانت کی منسوخی کے لئے ہائی کورٹ رجوع کیا تو ہائی کورٹ نے اپنے حکم بتاریخ 10-6-2014 کو تینوں ملزمان کی ضمانت منسوخ کر دی۔ اب صورت حا ل یہ ہے کہ افتخار حسین شاہ جس نے چیک دیا تھا۔ اس نے تھانہ ملکہ ہانس میں ایک جعلی رپٹ تیار کی ہے کہ اس کی وہ چیک بُک، جس سے اس نے عدالت میں ہمیں چیک دیا تھا چوری ہو گئی ہے۔ بعدازاں اس نے عدالت میں درخواست دے دی، جس میں اس چیک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نا معلوم لوگ اُسے فون کر کے کہہ رہے ہیں کہ اس کی چیک بُک ان کے پاس ہے اور وہ اس سے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پولیس یہ تو مان رہی ہے کہ رپٹ، جس کی بنیاد پر یہ پرچہ کا حکم لیا گیا ہے وہ جعلی ہے، لیکن ساتھ یہ بھی کہہ رہی ہے کہ ہائی کورٹ سے یہ حکم ختم کروا کر لاؤں، جس کے پیسہ ہمارے پاس نہیں ہیں۔ اب صورت حال یہ ہے کہ ملزمان اظہار حسین شاہ اور وقار حسین شاہ اشتہاری ہو چکے ہیں، لیکن پولیس انہیں گرفتار نہیں کر رہی، بلکہ ہمیں ہائی کورٹ جانے کا کہہ رہی ہے۔ لاہور سے بار بار پاکپتن جانا بھی ہمارے لئے ممکن نہیں ہے۔ دیہاڑی ٹوٹ جاتی ہے۔ یہی ملزمان لاہور تھانہ وحدت کالونی میں ایف آئی آر نمبر 632/10 بجرم 420-468-471- اور تھانہ ٹاؤن شپ میں ایف آئی آر نمبر 1055/10 بجرم 420-506 ۔ اور تھانہ مصطفی آباد میں ایف آئی آر نمبر 364/11بجرم 170-419-420-25-D telegraph act ۔ اور تھانہ فیکٹری ایریاء میں ایف آئی آر نمبر 1519/11 بجرم 420-468-471میں بھی اشتہاری ہیں، لیکن لاہور پولیس اور پاکپتن پولیس مل کر بھی انہیں گرفتار نہیں کر سکی ہے۔ ملزمان آزاد گھوم رہے ہیں۔ ہمیں دھمکیاں بھی دیتے ہیں کہ پیروی چھوڑ دیں، لیکن پولیس انہیں گرفتار نہیں کر سکی۔ براہ مہربانی ہمارے ملزمان گرفتار کروائے جائیں ۔

العارض

سجاد سرور۔۔۔ محمد الیاس

یہ خط کالم کا حصہ بنانے سے پہلے میں نے تمام کاغذات چیک کئے تا کہ مَیں کسی چکر میں نہ پھنس جاؤں۔ اب یہ آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا صاحب پر منحصر ہے کہ وہ ان دو غریب لوگوں جن کی غربت کی قسم دی جا سکتی ہے کو کیسا انصاف دے سکتے ہیں۔ ویسے تو انہیں سزا ملنی چاہئے کہ انہوں نے جس ملک میں میرٹ کی حکمرانی ہے کام کروانے کے لئے پیسہ کیوں دئے۔

مزید : کالم


loading...