نجی و سرکاری کالجز کی فول پروف سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا،خالد جاوید

نجی و سرکاری کالجز کی فول پروف سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا،خالد ...

  



لاہور(انٹرویو،ذکاء اللہ ملک تصاویر ندیم احمد) صوبہ بھر کے تمام نجی و سرکاری کالجز کی فول پروف سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا،ضلعی سطح پر ڈائریکٹرز کی زیر نگرانی کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں جو سیکیورٹی انتظامات کی مانیڑنگ کر رہی ہیں ۔ صوبہ بھر کے سرکاری کالجوں میں تعلیمی سہولیات کو یقینی بنانے سے کالجز کی کارکردگی میں بہتری آ رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار ایڈیشنل ڈائریکٹر پبلک انسٹرکشن پنجاب خالد جاوید نے پاکستان کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور سمیت صوبہ بھر کے سرکاری کالجوں میں لیکچررز کی کمی پوری کرنے کے لئے پالیسی مرتب کر رہے ہیں اور لیکچررز کی شفاف بنیادوں پر تعیناتی کیلئے ریکوزیشن پنجاب پبلک سروس کمیشن کو بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جسکے زریعے قابلیت کے حامل نوجوان اساتذہ تدریسی عوامل میں بہتری کا باعث بنیں گے۔اساتذہ کی پرموشن کے حوالے سے خالد جاوید کا کہنا تھا کہ اساتذہ کی پرموشن انکا بنیادی حق ہے جسکے لئے پرموشن کا عمل بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے،گریڈ 17سے 18میں پرموشن کے 572مرد اور 465خواتین اساتذہ کی ڈپاٹمنٹل پرموشن کمیٹی کی میٹنگ ہو چکی ہے جبکہ گریڈ 18سے19میں اساتذہ کی پرموشن بھی آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔انکا کہنا تھا کہ ٹیم ورک کے طور پر تمام لوگوں کے باہمی روابط و اعتماد سے ادارے کی بہتری کے لئے سر گرم عمل ہیں۔ سیکیورٹی خدشات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈی پی آئی پنجاب کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں کی حدود میں طلباء کی جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے یہی وجہ ہے تمام نجی و سرکاری کالجوں میں حفاظتی اقدامات کو بروقت ممکن بنانے اور انکی مانیٹرنگ و انسپکشن کیلئے کمیٹیاں تشکیل دی گئی جنہوں نے سیکیورٹی کے ناقص انتظامات کے حامل کالجوں کے خلاف قانونی کاروائی بھی کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبہ بھر کے تمام سرکاری کالجز میں جدید کمپوٹرز پر مشعتمل لیبز اور لائبریریاں قائم کرنے پر کام کر رہے ہیں تاکہ طلباء بین الاقوامی سطح پر اپنے تعلیمی کرئیر کو وسعت سے سکیں۔غیر رجسٹرڈ کالجز کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ محکمہ ہائیر ایجوکیشن کی طرف سے غیر رجسٹرڈ نجی کالجز کے خلاف کی ہدایات جاری ہو چکی ہیں جبکہ ایسے کالجز جو محکمہ کے ریکارڈ میں نہیں ہیں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔سرکاری کالجز میں انٹرمیڈیٹ اور گریجوایشن کے سالانہ امتحانات میں غیر تسلی بخش نتائج دینے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر کے ایسے سرکاری کالجز جو مطلوبہ نتائج نہیں دیں گے انکے سربراہان کے خلاف بھی کاروائی کرنے پر غور کیا جا رہا ہے ۔

خالد جاوید

مزید : صفحہ آخر


loading...