مسیحی خاتون طلاق کیس،بشپ آف لاہور معاونت کیلئے طلب

مسیحی خاتون طلاق کیس،بشپ آف لاہور معاونت کیلئے طلب

  



لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے مسیحی خاتون کو طلاق دینے کے لئے اس پر بدچلنی کا الزام عائد کرنے کی قانونی دفعہ کے خلاف درخواست پر بشپ آف لاہور کو 16 فروری کومعاونت کے لئے طلب کر لیاہے، عدالت نے اس اہم قانونی نکتہ پر معاونت کے لئے سعد رسول اور سروش ایڈوکیٹس کو عدالتی معاون بھی مقرر کردیا ہے ۔عدالت نے یہ کارروائی شہری امین مسیح کی طرف سے دائردرخواست پر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مسیحی طلاق ایکٹ مجریہ1869کی شق 10کے تحت کوئی عیسائی اپنی اہلیہ کو طلاق نہیں دے سکتا جب تک کہ خاتون بدچلن نہ ہو۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ اس قانون کے تحت مسیحی خاتون کو طلاق دینے کے لئے اس پر بدچلنی کا الزام لگانا لازمی ہے ورنہ طلاق موثر نہیں ہوگی جو کہ خواتین کی توہین کرنے کے مترادف ہے ۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ مسیحی طلاق ایکٹ مجریہ 1869کی شق10کو آئین سے متصادم قرار دے کر کالعدم کیا جائے ۔اس کیس میں وفاقی وزارت قانون کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد مذکورہ قانون میں ترمیم کا اختیار صوبائی حکومت کے پاس ہے، وزارت قانون نے مزید کہا کہ اس ایکٹ میں شق10 کے علاوہ بھی بہت سی دفعات شامل ہیں جن کے تحت مسیحی خواتین کو طلاق دی جا سکتی ہے ، عدالت نے وزارت قانون کے جواب کو ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 16 فروری تک ملتوی کرتے ہوئے بشپ آف لاہور کو معاونت کے لئے طلب کر لیاہے۔

مسیحی خاتون طلاق

مزید : صفحہ آخر


loading...