میرٹ کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی، ہائیکورٹ

میرٹ کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی، ہائیکورٹ

  



 لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب یونیورسٹی کے بزنس مینجمنٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ میں مبینہ طور پر میرٹ کے برعکس خواتین لیکچرارز کو اگلے عہدوں میں ترقیاں دینے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران قرار دیا ہے کہ میرٹ کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی۔ر جسٹس شاہد کریم نے عثمان اشتیاق کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل صفدر شاہین پیرزادہ نے موقف اختیار کیا کہ وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر کامران مجاہد نے یونیورسٹی کو ذاتی جاگیر سمجھ رکھا ہے اور ایچ ای سی کے قوانین کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے بزنس مینجمنٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کی لیکچرار شمائلہ گل ،حنا سلیم اور نازش کو گریڈ 18 سے گریڈ 19میں ترقی دیتے ہوئے اسسٹنٹ پروفیسر تعینات کر دیا ہے ، انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ تینوں لیکچرارز کو سینڈیکیٹ کی منظوری اور سلیکشن بورڈ کی منظوری کے بغیر اگلے عہدوں میں ترقیاں دی گئی ہیں لہٰذا میرٹ کے برعکس ہونے والی ترقیوں کو کالعدم قرار دیا جائے، پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے لیگل ایڈوائزر ملک اویس خالد ایڈووکیٹ نے پیش ہو کر بتایا کہ خواتین لیکچررز کو یونیورسٹی رولز کے مطابق ترقیاں دی گئی ہیں اور سنڈیکیٹ سے بھی جلد ہی منظوری لے لی جائیگی، جس پر عدالت نے وکلاء کو 16 فروری کو حتمی بحث کے لئے طلب کرلیا۔

مزید : صفحہ آخر


loading...