پنجاب میں اربوں روپے مالیت کی 4لاکھ ایکڑ سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضے کا انکشاف

پنجاب میں اربوں روپے مالیت کی 4لاکھ ایکڑ سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضے کا ...

  



لاہور (شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) چودھر ی سرور کے گورنر شپ سے مستعفی ہونے کے بعد ایک بارپھر سے صوبے میں انتہائی اثررورسوخ کے حامل قبضہ مافیا کی گونج سنائی دینے لگی ہے۔اور پنجاب میں اربوں روپے مالیت کی 4 لاکھ ایکڑ سے زائد سرکاری اراضی پر غیرقانونی قبضہ کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ضلعی حکومت ،محکمہ مال، جنگلات ، زراعت، آبپاشی اور دیگر صوبائی اداروں کی ملکیت اس اراضی پر کہیں پرائیویٹ اور کہیں سرکاری قابضین نے قبضہ جما رکھا ہے۔جبکہ ان اداروں کی انتظامیہ اراضی واہگزار کروانے کی بجائے محض خانہ پری میں مصروف عمل ہے۔معلوم ہواہے ۔دوروز قبل اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے والے سابق گورنر پنجاب چودھری سرور کے استعفیٰ کے بعد صوبے بھر میں قبضہ مافیا کے حوالے سے حکومتی کارکردگی پر انگلیاں اٹھنے لگی ہیں معلوم ہوا ہے کہ چودھری سرور کے بھائی نے بیان دیا ہے کہ ان اور اور ان کے بھائی چودھری سرور کی اربورں روپے مالیت کی اپنی اراضی پر ن لیگ کے مقامی رہنما کے کارندوں نے قبضہ کررکھا ہے۔ذرائع کے مطابق پنجاب بھر میں پرائیویٹ اراضی پر قبضے کے اعدادوشمار موجود نہیں ہیں۔ البتہ صوبے میں اربوں روپے مالیت کی لگ بھگ چار لاکھ ایکڑسرکاری اراضی زیر قبضہ ہے۔ اس میں محکمہ جنگلات کی ایک لاکھ ایکڑ سے زائد اراضی پرناجائز قابضین نے قبضہ کررکھا ہے۔ محکمہ جنگلات کی ہزاروں ایکڑ اراضی پر ایک طرف حساس اداروں ،بورڈآف ریونیو، آبپاشی ، زراعت ، اور دیگر محکموں نے قبضہ جما رکھا ہے۔ تودوسری طرف صوبے بھر میں بہت سے پرائیویٹ افراد نے بھی محکمے کے اپنے ملازمین کی مبینہ ملی بھگت سے لاہور ، شیخوپورہ ، لیہ ، بہاولپور اور دیگر اضلاع میں جنگلات کی سینکڑوں ایکڑ سرکاری اراضی پر غیر قانونی قابضین نے اپنے پنجے گاڑھ رکھے ہیں ذرائع کے مطابق محکمے کے چھوٹے بڑے ملازمین نے اراضی واہگزار رکروانے یا قبضہ مافیا کے خلاف کاروائی کی بجائے دانستاً چشم پوشی اختیار کررکھی ہے۔بعض ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ محکمے کے اپنے ہی ملازمین بھاری رقم لیکر جنگلات کی قیمتی اراضی پر غیر قانونی قبضے کرواتے ہیں۔اور محکمے کو قبضے کے متعلق بروقت اطلاع دینے اورآگاہ کرنے کی بجائے سب اچھا کی رپورٹ دیتے ہیں۔ذرائع کے مطابق قابضین کو مقامی پولیس اور بااثر مافیا کی حمایت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صورتحال سے آگاہ ہونے کے باوجود محکمہ جنگلات کے ڈی ایف اوز ، کنزویٹو اور ناظم اعلیٰ سمیت دیگر اوعلیٰ افسربھی ان غیر قانونی قابضین کا کچھ نہیں بگاڑ پاتے۔اسی طرح لیز اور شاملاٹ کے علاوہ محکمہ مال کی اڑھائی لاکھ ایکڑ سے زائد سرکاری اراضی پر مافیا نے قبضہ کررکھا ہے۔محکمے نے مختلف ادوار میں بے زمین کسانوں کو لیز پر اراضی دینے کے علاوہ جو بھی سکیمیں متعارف کروائیں ، تو ناجائز قابضین نے محکمے کے ملازمین ، اور پٹواریوں کی ملی بھگت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے موقع ملتے ہی اراضی پر قبضہ کرلیا۔لیز اور دیگر منصوبوں کے تحت الاٹ کی جانے والی اراضی پر جن شہروں میں قبضہ کیا گیا ہے۔ ان میں لاہور میں اربوں روپے مالیت کی ساڑھے 7ہزار ایکڑ اراضی پر،فیصل آباد میں45ہزار ایکڑ اراضی پر،ساہیوال میں پانچ ہزار ایکڑ اراضی پر، ملتان میں 10ہزار ایکڑ اراضی پر، بہاولپور میں63ہزار ایکڑ اراضی پر، سرگودھا میں 22ہزار ایکڑ اراضی پر ، ڈیرہ غازی خان میں 57ہزار ایکڑ اراضی پر، گوجرانوالہ میں7سو ایکڑ اراضی پر،راولپنڈی میں پانچ سو ایکڑ اراضی پر، چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں50ہزار ایکڑ اراضی پرغیر قانونی قبضہ کیا جاچکا ہے۔ علاوہ ازیں ، محکمہ آبپاشی اور زراعت کی اربوں روپے مالیت کی ہزاروں کنال اراضی اور ریسٹ ھاؤسز پر غیر قانونی قابضین نے پنجے جما رکھے ہیں۔لاہور میں زرعی اراضی کے علاوہ شہری سطح پر اربوں روپے مالیت کی 18ہزار کنال اراضی پر قبضہ کیا ہے۔ شہرکے جن علاقوں میں قبضہ کیا گیا ہے۔ ان میں قانون گوئی شاہدر ہ میں 16ہزار کنال اراضی پر ، قانونی گوئی مانگا میں 16کنال اراضی پر، قانون گوئی مراکا میں 49کنال اراضی پر ، قانونی گوئی چوہنگ میں 4کنال ، قانونی گوئی کینٹ میں 67کنا ل اراضی پر، قانونی گوئی باغبانپور ہ میں 106کنال ، قانونی گوئی ماڈل ٹاؤ ن میں 617کنال اراضی پر، قانونی گوئی اچھرہ میں 72کنال ، قانونی گوئی کماہاں میں 255کنال اراضی پر کاہنہ میں 205کنال اراضی پر ، قانونی گوئی بھسین میں35کنال اراضی پر ، قانونی گوئی لکھو ڈیر میں 22کنال اراضی پر، اور قانونی گوئی اشتمال اورلاہورکینٹ میں 18کنال اراضی پر ناجائز قابضین نے غیر قانونی قبضہ کررکھا ہے

مزید : صفحہ آخر


loading...