سفا کی کی انتہا،شکار پور:امام بارگاہ میں خودکش دھماکہ ،55نمازی شہید،60زخمی

سفا کی کی انتہا،شکار پور:امام بارگاہ میں خودکش دھماکہ ،55نمازی شہید،60زخمی

  



 شکار پور(نیو ز ڈیسک ، آن لائن)سفاک دہشتگردوں نے سندھ کے شہر شکار پور میں نمازِ جمعہ کے موقع پر خود کش دھماکے میں 55افراد کوشہید اور 60سے زائد کو زخمی کر دیا ۔ شہید ہونے والوں میں پیش امام اور تین بچے بھی شامل ہیں ۔ کالعدم جنداللہ نے اس حملے کی ذمہ داری قول کر لی ہے جبکہ وزیر اعظم نواز شریف نے اس واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی ہے جبکہ وزیر اعلی سندھ نے آج ایک دن کے سوگ اور مجلسِ وحدت المسلمین نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق جمعہ کے روز شکار پور کے علاقے لکھی در میں معلی امام بارگاہ میں ایک خود کش بمبار داخل ہوا اور خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں 55 افراد شہید ہوگئے جبکہ 60 سے زائد افراد زخمی ہوگئے ۔دھماکہ کے بعد مسجد میں بھگدڑ مچ گئی،ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جہاں پر متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔لوگوں کی بڑی تعداد ہسپتالوں میں پہنچ گئی اور خون کے عطیات دیئے ۔ریسکیو ٹیموں کو علاقے کی تنگ گلیوں کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا رہا،واقعہ کے بعد امام بار گاہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے جبکہ رینجرز اور پولیس نے علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا۔لکھی در کے علاقے میں بہت سی مساجد اور دیگر عبادت گاہیں ہیں اور یہ گنجان علاقہ ہے۔پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے دھماکے کے بعد شکار پور کے اطراف کے علاقے کا محاصرہ کر کے دھماکے میں ملوث دہشت گردوں کی گرفتاری کے لئے کارروائی شروع کر دی۔دھماکے کے بعد چاروں طرف لاشیں بکھر گئیں اور ہر طرف انسانی اعضاء ہی اعضاء پڑے تھے۔پولیس حکام نے بتایا کہ امام بار گاہ میں600 سے 700 کے قریب نمازی موجود تھے جو دہشت گردی کا نشانہ بن گئے دھماکے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا،سندھ بھر میں سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے ،سول اسپتال شکارپور کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ شوکت میمن نے دھماکے کے نتیجے میں50افراد کی ہلاکت اور 60 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے،ایک عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ نماز کے دوران جب لوگ سجدے کررہے تھے تو ایک زور دار دھماکہ ہوگیا ،ایک اور عینی شاہدین نے بتایا کہ دھماکے سے پورا علاقہ لرز اٹھا ۔شیعہ علماء کونسل ، جعفریہ الائنس اور وحدت المسلمین نے ملک بھر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیا،وزیراعظم نواز شریف نے امام بارگاہ دھماکے کی پر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی۔وزیر اعظم نواز شریف نے ابتدائی طور پر صوبائی حکومت کو ہدایت کی کہ دھماکے میں زخمیوں کو فوری طور ہسپتال منتقل کیا جائے اور انہیں بہترین طبی امداد فراہم کی جائے ۔وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے امام بارگاہ دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہو سکتے ،دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب جاری رہے گا اور ملک سے دہشت گردوں کا مکمل صفایا کیا جائیگا،ادھرصدر مملکت ممنون حسین ،گورنر سندھ عشرت العباد،گورنر خیبر پختونخواہ مہتاب خان عباسی،ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین، سابق صدر آصف علی زرداری ،پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری،تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان،جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ،جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمن ،وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف ،وزیراعلیٰ بلوچستان عبد المالک ،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک ،عوامی تحریک کے سربراہ تحریک القادری اور اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی نے شکار پور میں امام بار گاہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

مزید : صفحہ اول