امریکہ ،بھارت بڑھتی قربت ،پاکستان کا جھکاؤ روس کی جانب بڑھنے لگا،واشنگٹن پوسٹ

امریکہ ،بھارت بڑھتی قربت ،پاکستان کا جھکاؤ روس کی جانب بڑھنے لگا،واشنگٹن ...

  



 واشنگٹن ( آن لائن ) امریکی اخبار’’واشنگٹن پوسٹ نے دعوی کیا ہے کہ بھارت امریکی قربتوں کے بعد پاکستان روس کے قریب ہو رہا ہے۔ تین درجن روسی ایم آئی 35 ہیلی کاپٹر خرید نے کا روس سے پاکستانی معاہدہ حتمی مراحل میں ہے۔دہشت گردی،منشیات کے خاتمے اور توانائی بحران کے حل میں روس اور پاکستان تعاون کریں گے۔دونوں ممالک کی پارٹنر شپ کا آغازجنوبی ایشیا میں تاریخی اتحاد کو منتقل کر سکتی ہے۔ پاکستانی قائدین کو خدشہ ہے کہ روایتی اتحاد پاکستان کو بتدریج تباہ کر رہا ہے۔امریکا کے علاقائی مفاد بھارت کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔2006سے پاکستان کو چین نے چار ارب،امریکا نے ڈھائی ارب ڈالر کے ہتھیار فروخت کیے۔ بھارت کو روس نے اس عرصے میں 18ارب ڈالر کا اسلحہ بیچا۔اخبار نے ایک سینئر پاکستانی فوجی رہنمانے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یقینی طور پر ہمیں اس پر تشویش ہے۔ طاقت کا توازن بھارت کی جانب ہورہا ہے، اور یہ درست نہیں ہے اور یہ مغربی دنیا کی مدد سے کیا گیا ہے۔ ہم مختلف مارکیٹوں کی طرف دیکھ رہے ہیں کیوں کہ روایتی فوجی برابری امن و استحکام کے لیے ہے۔ دسمبر میں کانگریس نے پاکستان کی ایک ارب ڈالر کی مدد کی توثیق کی تاہم آئندہ برسوں میں کتنی رقم پاکستان کو پہنچتی ہے یہ غیر واضح ہے۔اخبار نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں لکھا کہ بھارت امریکی قربتوں کے بعد پاکستان نے نئے دوستوں کی تلاش شروع کردی۔حکام پرامید ہیں کہ انہیں روس کی شکل میں دوست ملک مل گیا۔ سرد جنگ کے بعد روس اور پاکستان کے تعلقات میں پیداہونے والی دوریوں کے خاتمے کے لئے حالیہ مہینوں میں پاکستان کے فوجی اور سیاسی رہنما ماسکو پہنچے ہیں۔ نومبر میں روسی وزیر دفاع سرگئی شوگئی نے اسلام آباد کا دورہ کیا اور پاکستانی جنرلوں کے ساتھ ایک فوجی تعاون معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان اب تین درجن روسی ایم آئی 35 ہیلی کاپٹر خرید نے کے معاہدے کو حتمی شکل دینے جارہا ہے۔ اس کے ساتھ دونوں ممالک دہشت گردی اور منشیات کے خاتمے میں تعاون کریں گے۔ پاکستان بھی توانائی بحران کے خاتمے کیلئے روسی امداد چاہتا ہے۔ ماسکو سے تعلقات میں پیش رفت پاکستانی قائدین کی جانب سے تیزی سے بڑھتے اس اعصابی تناو کے بعد آئی کہ ان کا روایتی اتحاد انہیں پارا پارا نہ سہی ،تباہ تو کرسکتاہے۔اپنی تاریخ میں پاکستان، امریکہ کا اتحادی رہا ہے جب کہ بھارت کے روس کے ساتھ مضبوط تعلقات تھے۔ حتیٰ کہ 1971 کی جنگ کے دوران بھی بھارت کی پشت پناہی کی۔اب جب کہ نیٹو افواج افغانستان سے انخلاکر رہی ہیں اورپاکستان اپنے مغربی سرحد پر عسکریت پسندوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کر رہا ہے،پاکستانی حکام کو خدشہ ہے کہ امریکاکے علاقائی مفاد پاکستان کے روایتی حریف بھارت کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔پاکستان کے روس سے بہتری کے تعلقات کی وجہ یہ بھی ہے کہ روس اور مغرب کے تعلقات خراب ہوتے جا رہے ہیں جسے ایشیا میں نئے تجاری پارٹنر کی ضرورت ہے۔ پاکستانیوں کو بھی اس پر تشویش ہے کہ بھارتی فوج روایتی ہتھیاروں کی دوڑ میں غلبے کی طرف بڑھ رہی ہے۔اس فکرمندی میں حالیہ دنوں ں میں اضافہ اوباما مودی ملاقات سے مزید بڑھ گیا۔اوباما کی بھارتی فوجی پریڈ کو سرحد پار شکوک و شبہات کے ساتھ دیکھا گیا۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے دونوں ملکوں کے درمیان دیرینہ فوجی اور اقتصادی تعلقات کو مستحکم کرنے کے لئے چین کا دورہ کیا۔ چین، پاکستان کا سب سے بڑا اسلحہ سپلائر ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق 2006 کے بعد چین نے پاکستان کو چار ارب ڈالر کے ہتھیار منتقل کیے۔ پاکستان کو ہتھیار سپلائی کرنے میں امریکا کا دوسرا نمبر ہے۔گزشتہ نو سال کے دوران امریکا نے پاکستان کو ڈھائی ارب ڈالر کے ہتھیار فروخت کیے۔روس بھارت کا سب سے بڑا اسلحہ سپلائر ہے2006سے اب تک روس نے 18ارب ڈالر کا اسلحہ بھارت کو فروخت کیا۔روس اور امریکا کے تعلقات میں تناؤ واضح ہیں اور ماسکو چین کے قریب ہو رہا ہے جو پاکستان کے تعلقات کی سہولت فراہم ہو سکتا ہے۔اسلام آباد میں روسی سفیر نے دونوں ممالک کے تعلقات پر کسی قسم کا تبصرہ سے انکار کردیا

مزید : صفحہ اول


loading...