مَیں نہ مانوں، مَیں بھی نہ مانوں، عمران اور حکومت کا موقف!

مَیں نہ مانوں، مَیں بھی نہ مانوں، عمران اور حکومت کا موقف!
مَیں نہ مانوں، مَیں بھی نہ مانوں، عمران اور حکومت کا موقف!

  



تجزیہ، چودھری خادم حسین

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پیر کو چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کریں گے اور دھاندلی کے حوالے سے اپنے تحفظات بیان کر کے اپنی درخواستوں کے جلد فیصلوں کا مطالبہ کریں گے۔ چیف الیکشن کمشنر نے عمران خان کی طرف سے ملاقات کی درخواست کا پیر کا وقت دیا ہے۔ عمران خان بدستور اپنے موقف اور مطالبے پر قائم ہیں اور دھاندلی کی بات کرتے چلے جاتے ہیں، آج ہی انہوں نے پھر سے سڑکوں پر آنے کی دھمکی دی اور کہا کہ حکومت الیکشن میں دھاندلی کی تحقیقات کے لئے نہ تو جوڈیشل کمشن بنا رہی ہے اور نہ انکار کر رہی ہے، اگر اب ہم سڑکوں پر آئے تو شریف برادران کو حکومت چلانا مشکل ہو جائے گا۔ عمران خان کے بیانات کی جوابی کارروائی کے لئے وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید موجود ہیں، جو اپنے دھیمے لہجے میں کہہ رہے ہیں، عمران اپنے خلاف کسی فیصلے کو مانتے ہی نہیں ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ جوڈیشل کمشن بنا اور اس نے انتخابات شفاف ہونے کا فیصلہ دیا تو کیا ضمانت ہے کہ عمران تسلیم کر لیں گے اور جوڈیشل کمشن کے خلاف دھرنا نہیں دیں گے۔ انہوں نے جوڈیشل کمشن بنانے یا نہ بنانے کی بات نہیں کی، لیکن اسحاق ڈار اور احسن اقبال کہتے ہیں جوڈیشل کمشن آدھ گھنٹے میں بن سکتا ہے بشرطیکہ عمران خان متنازعہ شقوں والا رویہ ترک کر کے آئین اور قانون کے دائرہ کار میں کمشن بنانے اور اس کی شرائط کار پر رضامند ہو جائیں۔

یہ حالات اور تحفظات دھرنا ختم ہونے سے پہلے اور بعد سے مسلسل ہیں اور تاحال فریقین مختلف مسودات کا تبادلہ کرنے کے بعد بھی اتفاق رائے پیدا نہیں کر سکے، جس سے ایک عام آدمی یہی تصور کرے گا کہ دونوں طرف سے نیک نیتی شامل نہیں، ورنہ بات چیت سے تحفظات اور اعتراضات کو دور کیا جا سکتا ہے، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ معاملہ اَنا اور ضد کا بن گیا ہے۔ اللہ رحم کرے۔

عمران خان کی طرف سے دھرنا ختم کرنے کے بعد فرزندِ راولپنڈی پریشان اور گم صم سے تھے اور پسِ پردہ چلے گئے، عام خیال یہ کیا گیا کہ وہ مایوس ہیں، ہوں گے، لیکن آرام سے بیٹھنے والے تو نہیں، وہ تو سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف کے چاہنے والوں میں سے ہیں، وہ پھر سے زیر زمین سرگرمیوں میں مصروف ہیں، وہ تو پاکستان عوامی تحریک کے میڈیا سیل والوں نے مدینہ منورہ میں ڈاکٹر طاہر القادری سے ملاقات کی تصویر اور خبر جاری کر دی ورنہ وہ تو اپنے پرانے مشن پر تھے کہ ایک مرتبہ پھر تحریک انصاف اور عوامی تحریک مل کر مسائل پیدا کریں اور حکومت گرانے کی تحریک شروع کریں، ان کا رابطہ جنرل(ر) پرویز مشرف سے بھی ہے، جو عدالتی پیشیوں کے حوالے سے تو بیمار ہیں، لیکن نہ صرف گھر پر سیاست کر رہے ہیں، بلکہ انہوں نے سعودی عرب جانے کی اجازت مانگی اور رانگ نمبر ڈائل کر لیا کہ پابندی یا ای سی ایل میں نام تو عدالت کے حکم سے ہے اور اجازت بھی عدالت دے سکتی ہے۔ اگرچہ ان کا موقف ہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے یہ نام نکالنے کی ہدایت کی تھی، لیکن پابندی عدالت عظمیٰ کی ہے۔ بہرحال وہ کراچی میں سعودی عرب کے قونصل خانے جا کر تعزیت کر آئے ، نئے سوٹ میں چاق و چوبند تھے۔

دنیا میں تبدیلیاں تیزی سے ہو رہی ہیں ہم اپنے اندرونی مسائل سے نجات نہیں پا رہے، کراچی آپریشن متنازعہ بنا دیا گیا، متحدہ کا الزام اور ہڑتال مبینہ ماورائے عدالت قتل کا ہے اور وہ حساب مانگ رہی ہے۔ یہ غنیمت کہ اس وقت طاقت کا مظاہرہ کرنے کے بعد بھی عدالتی تحقیقات پر رضا مندی ہے، وزیراعظم کو خود جانا پڑا، آصف علی زرداری نے فون کیا اور عبدالرحمن ملک کو بھیجا کہ مفاہمت کی پالیسی جاری رکھی جائے۔ کیا یہ مسئلہ بات چیت سے حل ہو جائے گا؟ ہو سکتا ہے یہاں بھی نیک نیتی کا سوال ہے اور یہ ضرور ہونا چاہئے۔دنیا میں تو یہ بھی ہو رہا ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں برسر پیکار طالبان کو مسلح مزاحمت کار قرار دے دیا اور ان کو دہشت گردی سے باہر نکال دیا۔ہم پر دباؤ ہے کہ ہم بلا لحاظ ہر ایک کے خلاف کارروائی کریں کہ سب دہشت گرد ہیں۔ ایسے میں ہمیں اپنے اندرونی معاملات بات چیت سے طے کر لینا چاہئیں۔

مزید : تجزیہ