موبائل فون سمز کی تصدیق ، نیا مسئلہ درپیش آگیا

موبائل فون سمز کی تصدیق ، نیا مسئلہ درپیش آگیا
موبائل فون سمز کی تصدیق ، نیا مسئلہ درپیش آگیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نمل نامہ (محمد زبیراعوان) اپنی سمیں بند ہوجانے کے ڈرسے بائیومیٹرک تصدیق کے لیے شہریوں کی کثیر تعدادموبائل فون کمپنیوں کے دفاتر اور فرنچائزز، ریٹیلرز شاپس پر جوق درجوق آرہی ہے اور اس ضمن میں کئی لوگوں کا کاروبار بھی چمک اُٹھاہے ، سنسان رہنے والی بعض فرنچائزوں نے بھی اپنے دفاتر کے باہر موبائل فون سموں کی تصدیق کے لیے ’پھٹے‘ لگالیے ہیں جہاں لمبی قطاریں دیکھنے کو ملتی ہیں تاہم کئی شہریوں کانمبرآنے پر ایک نئے مسئلے کا سامنا ہوتاہے اور یہ مسئلہ نادرا کی طرف سے بنائے جانیوالے شناختی کارڈ سے متعلق ہے ۔

موبائل فون سموں کی بائیومیٹرک تصدیق سے نادرا کے ابتدائی شناختی کارڈز میں موجود خامی بھی سامنے آگئی ہے ۔ 2001ءسے نادراشناختی کے حامل نورمحمد نے بتایاکہ اُس کا نادرا کے سسٹم میں بائیومیٹرک ریکارڈ ہی موجود نہیں جس کی وجہ سے تصدیق نہیں ہوسکی ،کچھ دیر لائن میں لگنے کے بعد تصدیق کرنیوالے کاﺅنٹر پر پہنچاتو متعلقہ کمپنی کے نمائندے نے نہایت خوشگوارموڈمیں بتایاکہ آپ کا بائیومیٹرک ریکارڈ موجود نہیں اور نیا شناختی کارڈ بنانے یا بائیومیٹرک(فنگرپرنٹ) کرانے میں کامیاب ہونے کے بعد دوبارہ لائن میں آجائیے گا تاہم نئے شناختی کے حصول کے بعد کامیابی حاصل ہوگئی۔

موبائل فون سموں کی تصدیق کے نام پر ہونیوالی ’لوٹ مار‘ کی تفصیلات کیلئے یہاں کلک کریں ۔

نورمحمد جیسے کئی دیگرصارفین بھی فون کمپنیوں کی فرنچائز اور نادرا دفاتر کے درمیان شٹل کاک بنے ہوئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق 2006ءسے قبل بننے والے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈزکا بائیو میٹرک ڈیٹاہی موجود نہیں جس کی وجہ سے کئی لوگ نئے کارڈ بنوانے پر مجبور ہو گئے ۔

ذرائع نے بتایاکہ 2007ءسے قبل شناختی کارڈ بنانیوالوں کی یاک بڑی تعداد موجود ہے جن کا فنگرپرنٹ ڈیٹاموجود نہیں لیکن اب موبائل فون سموں کی تصدیق شروع ہونے کے بعد بڑے شہروں میں نادرا کے دفاتر میں بھی رش بڑھ گیاہے اور شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیاہے ۔

بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنی سموں کی تصدیق سے متعلق جاننے کیلئے یہاں کلک کریں ۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق نادرا حکام کا کہنا ہے کہ فنگر پرنٹ کرانے کے لئے نادرا دفاتر آنیوالے شہریوں سے کسی قسم کے کوئی چارجز وصول نہیں کیے جائیں گے اور مفت بائیو میٹرک نہ کرنے کی شکایت پر ایکشن لیا جائے گا۔

مزید : بلاگ