’’بچے چار اچھے‘‘ بلوچستان میں آبادی بڑھانے کا منصوبہ

’’بچے چار اچھے‘‘ بلوچستان میں آبادی بڑھانے کا منصوبہ
 ’’بچے چار اچھے‘‘ بلوچستان میں آبادی بڑھانے کا منصوبہ

  



اسلام آباد (ویب ڈیسک) بلوچستان حکومت کے نئے آبادی منصوبہ میں زچہ بچہ کی صحت کیلئے تشویشناک حکمت عملی سامنے آئی ہے، آبادی میں ا ضافہ روکنے کیلئے اقدامات کے بجائے صوبائی حکومت دوران حمل اور بچے کی پیدائش کے مرحلے کو محفوظ بنانے کے اقدامات کی حوصلہ شکنی کے اقدامات کررہی ہے۔ نئے منصوبہ میں صحت کیس ہولیات کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات شامل نہیں اور اس میں مانع حمل ادویات کے استعمال اور فیملی پلاننگ کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن سٹڈیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر نصر محی الدین نے مقامی اخبار ایکسپریس کو بتایا کہ بلوچستان حکومت فیملی پلاننگ کو ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کی صحت کے پروگرام ایم این سی ایچ سے منسلک کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا صوبائی حکومت بلوچستان میں آبادی بڑھانا چاہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بڑا مسئلہ یہ ہے ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات بلوچستان میں سب سے زیادہ ہے۔ بلوچستان میں ہر دس ہزار ماؤں میں سے سات سو سے نوسومائیں دوران حمل ہی انتقال کرجاتی ہیں، ملک کے دوسرے علاقوں میں یہ شرح 54 ہے۔ انہوں نے بتایا بلوچستان میں مانع حمل طریقوں پر 16 فیصد عمل ہوتا ہے جبکہ قومی سطح پر یہ شرح 26 فیصد ہے۔ کوئٹہ کے ایک سرکاری ہسپتال میں تعینات گائناکالوجسٹ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صوبائی حکومت فیملی پلاننگ کی حوصلہ شکنی کرنا چاہتی ہے جس سے آبادی میں اضافہ ہوگا اور یہ کوئی اچھی بات نہیں۔ انہوں نے بتایا طبی سہولیات کی کمی کی وجہ سے زیادہ بچوں کی پیدائش سے خواتین کی موت کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آبادی میں اضافہ روکنے کے روایتی طریقوں سے پیچیدگیاں پیدا ہونے سے کئی خواتین جان کی بازی ہار جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مناسب وقفے سے تین یا چار بچے پیدا کرنے چاہئیں۔ صحت کی سہولیات سے متعلق انہوں نے اعدادوشمار دیتے ہوئے بتایاکہ صوبے کی 93 لاکھ آبادی کیلئے صرف 831 ایل ایچ وی، 800 دائیاں اور ساڑھے چھ ہزار لیڈی ہیلتھ ورکرناکافی ہیں۔

مزید : اسلام آباد


loading...