گورنر کا عہدہ خالی ہو تو قائم مقام گورنر کا تقرر نہیں ہوسکتا ،چودھری سرور کے بعد دلچسپ آئینی صورتحال سامنے آگئی

گورنر کا عہدہ خالی ہو تو قائم مقام گورنر کا تقرر نہیں ہوسکتا ،چودھری سرور کے ...
گورنر کا عہدہ خالی ہو تو قائم مقام گورنر کا تقرر نہیں ہوسکتا ،چودھری سرور کے بعد دلچسپ آئینی صورتحال سامنے آگئی

  



 تجزیہ :سعید چودھری 

گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کے استعفی ٰ کے بعد سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال قائم مقام گورنر کے طورپر کام کررہے ہیں ۔رانا محمد اقبال نے گزشتہ روزانسداد دہشت گردی فورس کے پہلے دستے کی پاسنگ آﺅٹ پریڈ کی تقریب میں بھی قائم مقام گورنر کی حیثیت سے شرکت کی ۔کیا گورنر کا استعفی ٰ منظور ہونے کے بعد قائم مقام گورنر مقرر کیا جاسکتا ہے ؟ اس سوال کا آئینی جواب دلچسپی سے خالی نہیں ۔1973کے آئین کے تحت گورنر کا عہدہ خالی ہو تو قائم مقام گورنر تعینات نہیں ہوسکتا ۔قائم مقام گورنر کا تقرر صرف اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب گورنر ملک میں موجود نہ ہو یا کسی دیگر سبب سے اپنے فرائض انجام دینے سے قاصر ہو ۔آئین کے آرٹیکل 104میں واضح کیا گیا ہے کہ جب گورنر ملک سے عدم موجودگی کی وجہ سے یا کسی دیگر سبب (بیماری وغیرہ) سے اپنے کار ہائے منصبی انجام دینے سے قاصر ہو تو صوبائی اسمبلی کا سپیکر قائم مقام گورنر کے طور پر گورنر کی ذمہ داریاں نبھائے گا۔اگر سپیکر صوبائی اسمبلی بھی موجود نہ ہو تو صدر کسی بھی شخص کو قائم مقام گورنر مقرر کرسکتے ہیں ۔اس آرٹیکل میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ قائم مقام گورنر اس وقت تک یہ ذمہ داریاں نبھائے گا جب تک گورنر پاکستان میں واپس آکر یا جیسی بھی صورت ہو ،اپنے کارہائے منصبی کو دوبارہ شروع نہیں کردیتا۔اس آرٹیکل سے قائم مقام گورنر کے عہدہ کی آئینی حیثیت کا تعین ہوتا ہے کہ قائم مقام گورنر الگ سے کوئی عہدہ نہیں ہے بلکہ یہ عہدہ گورنر کے تقرر کے تابع ہے ۔گورنر کا تقرر ہو جانے کے بعد ہی قائم مقام گورنر کا عہدہ قائم ہوتا ہے ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر گورنر مستعفی ہوجائے یا خدا نخواستہ انتقال کرجائے اور یہ عہدہ خالی ہوجائے جبکہ ابھی نئے گورنر کا تقرر نہ ہوا ہو تو صوبے کا انتظام کیسے چلے گا ؟ آئینی طور پر کچھ عہدے ایسے ہیں جنہیں کسی بھی صورت میں کبھی بھی خالی نہیں چھوڑا جاسکتا ، ان عہدوں میں اعلی ٰ عدالتوں کے چیف جسٹس صاحبان، صدر مملکت اور گورنر کے عہدے شامل ہیں ۔

ابھی تک پنجاب میں گورنر کا تقرر نہیں ہوسکا ہے ۔ایسی صور ت میں صوبے کے انتظامی اقدامات اور احکامات کو کس طرح آئینی تحفظ دیا جاسکتا ہے ؟ ان سوالوں کے جواب بھی آئین میں موجود ہیں ۔آئین کے حصہ چہارم میں درج آئین کا آرٹیکل 101گورنر کی تعیناتی اور ان کی عہدے سے علیحدگی کے معاملات کی وضاحت کرتا ہے ۔اس آرٹیکل کے تحت گورنر صدر کی خوشنودی تک اپنے عہدے پر برقرار رہے گا ،دوسرا یہ کہ گورنر صدر کے نام اپنی دستخطی تحریر کے ذریعے استعفی ٰ دے کر اپنے عہدے سے سبکدوش ہوسکتا ہے ۔اس آرٹیکل میں بھی گورنر کی سبکدوشی یا عہدے سے علیحدگی کی صور ت میں قائم مقام گورنر کے تقرر کا ذکر نہیں ہے تاہم آرٹیکل 101کے ذیلی آرٹیکل (5)کے تحت اگر کوئی ایسی اتفاقی صورت حال پیدا ہوجائے جیسی کہ اب ہوئی ہے یا پھر کوئی ایسی اتفاقی صورت حال جس کا اہتمام آئین کے اس حصہ ( چہارم )میں نہ کیا گیا ہو تو صدر کو حکم جاری کرنے کا اختیار مل جاتا ہے ۔دوسرے لفظوں میں اگر اتفاقی طور پر گورنر کا عہدہ خالی ہوجائے اور فوری طور پر نئے گورنر کا تقرر عمل میں نہ لایا جاسکے تو صدر گورنر کے کارہائے منصبی کی ادائیگی کے لئے حکم وضع کرسکتا ہے ۔آئین کے حصہ چہارم میں گورنر کا عہدہ خالی ہونے کے بعد قائم مقام گورنر کے تقرر کی گنجائش نہیں ہے اس لئے آرٹیکل 101(5)کے تحت صدر مملکت کسی بھی شخص کو گورنر کے کارہائے منصبی کی ادائیگی کی ذمہ داری دے سکتے ہیں تاہم وہ شخص گورنر یا قائم مقام گورنر نہیں کہلائے گا ۔گورنر وہی شخص ہوگا جسے وزیراعظم کی سفارش پر صدر مملکت تعینات کریں گے اور وہ شخص گورنر کے طور پر اپنے عہدہ کا حلف اٹھالے گا ۔اس آرٹیکل کے تحت صدر کو یہ اختیار تو حاصل ہے کہ وہ کسی اتفاقی صورت میں گورنر کا عہدہ خالی ہونے پر گورنر کے کارہائے منصبی کی بابت کوئی حکم جاری کرسکے جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے تاہم صدر کو قائم مقام گورنر کے تقرر کا اختیار حاصل نہیں ہے ۔

مزید : قومی /اہم خبریں


loading...