وہ بے بس باپ جو اپنی جڑواں بچیوں میں سے صرف ایک کو بچا سکتا ہے

وہ بے بس باپ جو اپنی جڑواں بچیوں میں سے صرف ایک کو بچا سکتا ہے
وہ بے بس باپ جو اپنی جڑواں بچیوں میں سے صرف ایک کو بچا سکتا ہے

  



ٹورنٹو(نیوزڈیسک)والدین کو اپنی اولاد سے ایک جیسی محبت ہوتی ہے اور وہ سب پر جان چھڑکتے ہیں لیکن ایک کینیڈین کو قدرت نے ایسے کڑے امتحان میں ڈال دیا ہے کہ اسے اپنی جڑواں بیٹیوں میں سے کسی ایک کو چننا ہوگا ۔کینیڈین صوبے اونٹیریو کے رہائشی جوہان ویگنر کا کہنا ہے کہ اس کی دو لے پالک جڑواں بیٹیوں کو جگر کا عارضہ لاحق ہے اور اب تک صرف اس کا جگر ان کے ساتھ ہم آہنگ ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ وہ صرف ایک بیٹی کو یہ عطیہ دے سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:سعودی عرب کا وہ 'خوش رنگ' مگر خطرناک قبیلہ جس سے پولیس بھی ڈرتی ہے

جوہان ویگنر اور اس کی بیوی میشائل نے ویت نام کی دوجڑواں بچیوں کو سات ماہ کی عمر میں گود لیا تھا لیکن پھر ان بچیوں کو جگر کی بیماری ہو گئی۔ ان بچیوں کے والد کا کہنا ہے کہ ٹورنٹو جنرل ہسپتال کے ڈاکٹرز اب اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ کس بچی کے ساتھ اس کا جگر سب سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے اور اس کے بعد فیصلہ ہوگا کہ کس بچی کو یہ عطیہ دیاجائے۔جوہان ویگنر کا کہنا ہے کہ اسے امیدہے کہ شاید کوئی ایسا انسان مل جائے جس کے ساتھ ان بچیوں کا جگر مطابقت رکھتا ہو اور اس مقصد کے لئے اس نے ایک فیس بک پیج بھی بنا رکھا ہے۔ اس نے دنیا سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کی بچیوں کی جان بچانے میں اس کی مدد کریں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...